جناح ہسپتال ، ہاؤس جاب کے بغیر ہی سر ٹیفیکیٹ جاری کرنے کے دھندے کا انکشاف

جناح ہسپتال ، ہاؤس جاب کے بغیر ہی سر ٹیفیکیٹ جاری کرنے کے دھندے کا انکشاف

  

لاہور( جنرل رپورٹر) جناح ہسپتال میں کلرک راج ایم بی بی ایس کے بعد ہاؤس جاب کی جوائننگ کے بغیر ہی ایکسپرنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے دھندے کا انکشاف ہوا ہے اس دھندے کے تحت یورلواجی کے ڈاکٹر کی ملی بھگت سے کلرکوں نے کئی ایسے ڈاکٹروں کو ہاؤس جاب کے تجربے کے سرٹیفکیٹ جاری کردئیے جنہوں نے جوائننگ ہی نہیں دی ہے شکایت سامنے آنے پر ایم ایس ڈاکٹر سہیل ثقلین نے فوری ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم جاری کردیا ہے اور اس سلسلے میں اے ایم ایس ایڈمن کو انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹروں کی تقرری کے بعد جوائننگ نہ ہونے کے باوجود تجریہ کے سر ٹیفکیٹ جاری کردیاجاتا ہے،بعض ہاؤ س جاب ڈاکٹروں کو وظیفہ بھی نہیں دیا جاتا، ہاؤس جاب کرنے والی ڈاکٹر کا تقرری کے بعد جوائنگ نہ ہونے کے باوجود کلرک خرم نے تجربہ سر ٹیفکیٹ جاری کر دیا اور متعلقہ ڈاکٹر کو آفس آرڈر کی کاپی بھی فراہم نہیں کی گئی، بعض اوقات ہاؤس جاب ڈاکٹروں کا وظیفہ بھی متعلقہ کلرک خردبرد کرجاتے ہیں، اس تمام کام کی پشت پناہی یورالوجی کے ڈاکٹر شبیرچودھرکی کرتے ہیں، ڈاکٹر شبیر کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کی وجہ سے چند ماہ قبل ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن نے ووٹنگ کروائی تھی نوے فی صد ڈاکٹروں نے ڈاکٹر شبیر کو ناپسندیدہ اور غیر ذمہ دار ڈاکٹر قرار دیا تھا۔ہاؤس جاب کے ڈاکٹروں نے اعلی حکام سے اپیل کی ہے ہاؤس جاب ڈاکٹروں کی میرٹ پر تقرری کی جائے اور متعلقہ کلرکوں اور ڈاکٹر شبیرکے خلاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دارافراد کے خلاف سخت تادیبی کاررروائی عمل میں لائی جائے۔اس حوالے سے ایم ایس ڈاکٹر سہیل ثقلین سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس معاملے کا علم نہیں ہے روز نامہ پاکستان نے میرے علم میں یہ بات لائی ہے اور میں نے فوری طور پر اس پر ایکشن لیا ہے اور تحقیقات کا حکم دیا ہے اے ایم ایس ایڈمن اور اے ایم ایس ایم ای ڈی کو حکم دیا ہے کہ وہ تین روز کے اندر تحقیقات کی رپورٹ پیش کریں الزامات ثابت ہو گئے تو کلرکوں اور مذکورہ ڈاکٹر کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -