ریونیو عملہ نجی دفاتر سے تنخواہیں لے کر سرکاری راز فاش کرنے لگا

ریونیو عملہ نجی دفاتر سے تنخواہیں لے کر سرکاری راز فاش کرنے لگا

  

لاہور/ عامر بٹ سے) محکمہ ریونیو میں مانیڑنگ کا سسٹم فعال نہ ہونے کے باعث محکمہ ریونیو میں تعینات سٹاف کی عرصہ دراز سے جاری غیر حاضریاں معمول بن گئیں،محکمہ ریونیو کی انتظامی سیٹوں پر براجمان افسران کی عدم توجہ کے باعث متعدد ملازمین پرائیویٹ اداروں سے تنخواہ لے کر سرکاری ادارے کے راز فاش کرنے لگے۔ روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور کی عدم توجہ کے باعث ریونیو سٹاف کی کثیر تعداد دفاتر سے غیر حاضر رہنے لگی جبکہ سینکڑوں ملازمین محکمہ ریونیو سے تنخواہ لینے کے باوجود پرائیویٹ اداروں میں بھی ڈبل نوکریوں کے مزے لے رہے ہیں مزید انکشاف ہوا ہے کہ ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور کے ماتحت شعبہ جات ،سیٹلمنٹ، بحال، اشتمال، نزول اور رجسٹریشن برانچوں سمیت دیگر دفاتروں میں تعینات عملے کی تعداد ریونیو ریکارڈکے برعکس انتہائی کم ہے اور اپنے اپنے دفاتر کے انچارج آفیسر کی خصوصی آشیر باد سے سینکڑوں ملازمین ڈبل نوکریوں کے مزے لینے میں بھی مصروف ہیں مزید انکشاف ہوا ہے کہ بعض ریکارڈ روم، رجسٹریشن برانچ، اشتمال، آفس، نزول لینڈبرانچ سمیت دیگر اہم ریکارڈ پر تعینات ریونیو سٹاف کو بھاری تنخواہ پر مختلف پرائیویٹ کمپنیوں ہاؤسنگ سوسائیٹوں کے مالکان اور پراپرٹی کے معروف دفاتروں کے ڈیلروں نے اپنے پاس ملازم رکھتے ہوئے ان کی سرکاری نوکریوں سے بھرپور فائدہ حاصل کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس ضمن میں ڈی سی آفس ،اے ڈی سی جی آفس ،کنسوڈیلیشن آفیسر، آفس اسسٹنٹ کمشنر، آفس ڈی ڈی اور رجسٹریشن ،آفس سیٹلمنٹ آفیسر سمیت دیگر اہم برانچز اور دفاتروں میں تعینات سٹاف اہم نوعیت کے ریکارڈ اور معلومات ان دفاتروں سے لے جا کر اپنے پرائیویٹ مالکان کے حوالے آسانی سے کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ عرصہ درازسے جاری ہے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس وقت ضلع لاہور میں 270 پٹواری ،25 قانونگو،27 ریونیو آفیسر ،230 کلرک ،سٹینو گرافر ،کمپیوٹر آپریٹر، اسسٹنٹ اور سینئر کلکرک کی تعداد ،50 ، 200 نائب قاصد اور40 سے زائد مالی و چوکیدار وغیرہ کاغذی طورپر ریونیو دفاتروں مین کام کر رہے ہیں اور ہر ماہ پنجاب حکومت کے خزانے سے لاکھوں روپے کی مد میں تنخواہیں بھی وصول کرنے میں مصروف ہیں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور کے ماتحت اہلکاروں کی صیح تعداد کے حوالے سے کبھی ڈسٹرکٹ کلکٹر کو نہ تو آگاہی دی گئی ہے اور نہ ہی اس ضمن میں فہرست ناموں کے ساتھ بجھوائی ہے اگر ڈی سی لاہور ریونیو سٹاف پر مشتمل سرکاری سٹاف کی تعیناتی اور عملے کی دفاتروں میں موجودگی اور پرائیویٹ طور پر نوکریاں کرنے کے حوالے سے چھان بین کروائیں تو بڑی تعداد میں گھر بیٹھ کر تنخوائیں حاصل کرنے والے ملازمین کی بڑی تعداد منظر عام پر آ جائے گی ۔بورڈ آف ریونیو کے ترجمان نے کہا ہے کہ دفاتر میں حاضری کے معاملات میں کسی سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی ،جو بھی اہلکار سرکاری ریکارڈ کی معلومات پرائیویٹ افراد کو دینے میں ملوث پایا گیا س کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -