’’ بجٹ کے ماہرین کے نام‘‘

’’ بجٹ کے ماہرین کے نام‘‘
’’ بجٹ کے ماہرین کے نام‘‘

  

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی معاشی اصلاحات کو دنیا بھر کے مالیاتی ادارے اورعالمی اقتصادی جرائد سراہتے رہیں ، ہماری سٹاک مارکیٹیں نئے سے نئے ریکارڈ قائم کرتی رہیں مگر انہیں الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر ایسے نام نہاد معاشی ماہرین کی تنقید کا سامنا ہے جن میں سے ایک نے مزنگ چونگی سے راوی روڈ تک میٹرو بس کے پیچھے دوڑ لگائی اورگھر جا کے بیوی سے فخریہ انداز میں بولا، میں نے آج بس میں بیٹھنے کی بجائے اس کے پیچھے دوڑ لگا کے بیس روپے بچا لئے ہیں، بیوی شوہر سے بھی بڑی حساب کتاب کی ماہر تھی، بولی، میٹرو کے پیچھے دوڑ کیوں لگائی، اوبر کے پیچھے لگاتے تو کم از کم دو سو روپے بچا لیتے۔ جب بجٹ جیسی ٹیکنیکل ڈاکو منٹ کے تجزیہ کار نائی اور قصائی ہوں تو پھریہ صاحب ہی اقتآادیات کے عظیم ماہر ٹھہرے جوقلم سے سر کھجانے کے ساتھ ساتھ سگریٹ بھی بہت پیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ پاکستان میں سب سے زیادہ محب وطن وہ ہے جو سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرے اور چونکہ سب سے زیادہ ٹیکس اس وقت سگریٹ کی ڈبیوں پر ہی عائد ہے لہذا وہ اور اس جیسے چین سموکرسب سے بڑے محب وطن ہیں ، ہاں، یاد آیا، یہی صاحب گھر پہنچے اور گھر کا بجٹ بناتے ہوئے اخراجات کا اندازہ لگایا تو بیوی نے کہا ذرا خیال رکھنا کہ ہم بہت جلد دو سے تین ہونے والے ہیں، جعلی ماہر معیشت خوشی سے چیخ اٹھا، ارے واہ میں اس گھڑی کا کب سے منتظر تھا، یہ خوشخبری کب حقیقت ہو گی، بیوی نے جواب دیا کل صبح ہی ہو جائے گی جب میری امی ہمارے ساتھ رہنے کے لئے یہاں پہنچ جائیں گی۔ میں نے مذکورہ ماہر سے پوچھا کہ تمہیں اس بجٹ میں سب سے بڑا مسئلہ کیا نظر آیا، جواب ملا، سب سے بڑا مسئلہ لوڈ شیڈنگ ہے، میں نے اتفاق کرتے ہوئے سر ہلایا اور استفسار کیا کہ اس کا حل کیا ہے، ماہر معیشت نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولا، یہ ساس بہو والے ڈراموں پر پابندی لگ جائے تو ہمارے ملک میں لوڈ شیڈنگ نوے فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔

سرکاری ملازمین خوش ہیں کہ ان کی تنخواہوں میں اس سے پہلے ہونے والے پچا س فیصد ایڈہاک الاونس بنیادی تنخواہ کا حصہ بنا دئیے گئے ہیں اورتنخواہوں میں اس پر مزید دس فیصد اضافہ دیا گیا ہے مگر بہت سارے اسے کافی نہیں سمجھ رہے، وہ کہتے ہیں کہ حکومت نے سرکاری ملازمین کے خواب پورے نہیں کئے، حکومت بھی اس شوہر جیسی ہو گئی ہے جس نے اپنی منگیتر کوپوری دنیا دکھانے کا وعدہ کیا مگر جب شادی کے بعد اس وعدے کے ایفا ہونے پر زور دیا گیا تو وہ گلوب خرید لایا اور بولا ، لے دیکھ لے پوری دنیا، پھر نہ کہنا کہ میں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا مگر کچھ دوست اندر کی خبر لائے ہیں کہ وزیر خزانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف سرکاری ملازمین کی بیویوں کی ہم دردی میں اضافہ نہیں کیا جو ایک اندازے کے مطابق مسلم لیگ نون کی پکی ووٹر ہیں۔ حکومت کا خیال ہے کہ جیسے ہی مردوں کی آمدن میں پندرہ ، بیس ہزار روپے کا اضافہ ہوجائے وہ فورا دوسرا گھر بسانے کا سوچنے لگتے ہیں لہذا نہ اضافہ دو، چار ہزارروپوں سے زائد کا ہو اور نہ ہی معاشی کے ساتھ سنگین معاشرتی مسائل پیدا ہوں۔ میں نے مسلم لیگ نون کے ایک رہنما سے پوچھا، ملکی معاشی مسائل کا حل کیا ہے، جواب ملا فضول خرچی ختم ہونی چاہئے، تحریک انصاف والے ہر ہفتے جلسے کر کے بجلی اور پٹرول بہت ضائع کرتے ہیں۔

ویسے میں نے بجٹ پر تبصرے نہیں سنے کیونکہ مجھے علم ہے کہ مسلم لیگ نون کے ارکان اسمبلی کو بجٹ میں کوئی خامی جبکہ پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے ارکان کو کوئی ایک بھی خوبی نظر نہیں آئے گی اور یہی حال ہمارے معاشی ماہرین کی اکثریت کا ہے، ان کی رائے لگی بندھی او ران کی عینکیں مستقل نوعیت کی ہیں، تعریف والوں نے تعریف اور تنقید والوں نے بہرصورت تنقید ہی کرنی ہے، ہاں، فرق صرف یہ ہو سکتا ہے کہ کسی کی تنقید اس شوہر کی طرح تھوڑی ہلکی ہوجائے جس نے اپنی بیوی پر کرسی اٹھا کے دے ماری، مقدمہ عدالت میں چلا گیا اور جج نے اس حرکت کی وجہ پوچھی تو جواب دیا، کرسی اس لئے ماری کہ صوفہ بہت بھاری تھا۔ اقتصادی اور معاشی معاملات کتنے پیچیدہ اور حیرت انگیز ہوتے ہیں اس کا اندازہ اس بیوی سے لگا لیں جس نے سہاگ رات اپنے شوہر کو ایک باکس دکھایا اور وعدہ لیا کہ وہ اس بکس کو کبھی کھولنے کی ضد نہیں کرے گا،تازہ ترین شادی کے نشے میں شوہر نے وعدہ کر لیا اور پھر پچاس برس گزر گئے۔ بیوی بستر مرگ پر تھی اور شوہر کے دماغ میں وہی باکس پھنسا ہوا تھا۔ شوہر کے اصرار پر بیوی نے اسے کھولنے کی اجازت دے دی، باکس کھولا گیا تواس میں سے دو گڑیاں اور ساتھ ہی اڑھائی لاکھ روپے بھی نکلے، بیوی نے کہا، میری ماں نے کامیاب شادی کا گُر بتاتے ہوئے کہا تھا کہ جب بھی شوہر پر غصہ آئے تو تم اپنا غصہ پی لینا اور ایک گڑیا سی لینا۔شوہر بہت خوش ہوا کہ اس نے اپنی بیوی کو کتنا خوش رکھا ہوا ہے کہ پوری ازدواجی زندگی میں صرف دو گڑیاں بنی ہیں۔ خاوند نے تجسس کے مارے ساتھ پڑے ہوئے اڑھائی لاکھ روپوں بارے پوچھا تو بیوی آہستگی سے بولی، یہ میں نے گڑیاں بیچ بیچ کر ہی اکٹھے کئے ہیں۔

یقینی طور پر نفع نقصا ن بارے ہر کسی کی اپنی اپنی سوچ ہوتی ہے۔ بجٹ کے جگت باز ماہر نے گاڑی خریدی اوراس میں مارکیٹ کی طرف جا نکلا، ابھی سڑک کنارے گاڑی پارک ہی کر رہا تھا کہ پیچھے سے آنے والے ٹرک نے اس کی گاڑی کے کھلے ہوئے درواز ے کو ٹکر ماری اور اسے اپنے ساتھ ہی لے گیا۔ماہر معیشت نے اس نقصان پر شور مچانا شروع کر دیا، ٹھاہ کی آواز سن کر وہاں آنے والے ایک پولیس اہلکار نے ماہر معیشت کو کہا، ذرا غور کرو، گاڑی کے دروازے سے بھی بڑا نقصان یہ ہے کہ تمہارا ایک ہاتھ بھی کٹ گیا ہے، ماہر معیشت نے اس بازو کی طرف دیکھا جس کے ساتھ ہاتھ موجود نہیں تھا اورخون ٹپک رہا تھا، اس نے ایک زوردار چیخ ماری اور بولا، اس کامطلب کہ میری قیمتی راڈو گھڑی بھی چلی گئی ہے۔بہت سارے منافق وہ ہیں جو اپنے ڈرائیور اور گارڈوں کو نو سے بار ہ ہزار روپے مہینہ دیتے ہیں اور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نے مزدور کی کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار روپے مقرر کرکے کوئی کمال نہیں کیا، اسحاق ڈار ہمیں پندرہ ہزار روپوں میں کسی گھر کا بجٹ بنا کر دکھادیں۔ہم ایسے ماہرین کے ساتھ کیا کر سکتے ہیں، اس کا جواب بھی ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی میں موجود ہے، ایک ادھیڑ عمر شخص اپنی شادی کی پچیسویں سالگرہ منانے کی تیاریاں کر رہا تھاکہ اسے ازدواجی جھگڑوں کو حل کرنے والے ایک ادارے نے اپنے سیمینار میں بطور ماہر بلایا تاکہ وہ ناکام شوہروں کواپنے لیکچر کے ذریعے شادی کو کامیاب بنانے کے طریقے بتا سکے۔ ادھیڑ عمر شخص نے لمبی چوڑی تقریر کی اور بتایا، ’میں شادی کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا،میں نے شادی پر اور شادی کے بعدا س کی ہر خواہش پوری کی، شادی کی پہلی سالگرہ پر اس کی خواہش پر میں اسے میکے لے گیا‘‘،کسی سوال کرنے والے نے کہا، ’’جناب آپ تو ہمارے لئے ایک مثال ہیں، بتائیں، اب شادی کی پچیسویں سالگرہ پر آپ اپنی بیوی کے لئے کیا کرنے جا رہے ہیں‘‘، ادھیڑ عمر شخص مسکرایا اور بولا، ’’میں اسے میکے سے واپس لینے جا رہا ہوں‘‘۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے بجٹ کے موقعے پر حکومت کے اقتصادی معاملات اور معیشت کے نام نہاد ماہرین کی تنقید کو میاں بیوی کے لطیفوں میں پھنسا دیا ہے تو آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہاں کچھ معاملات ہمیشہ سے ہی میاں بیوی والے رہے ہیں۔ حکومت تو ہے ہی میاں کی مگر دوسری طرف بہت ساروں کے روئیے بھی روایتی بیویوں والے ہی ہیں۔ کہتے ہیں کہ کسی شوہر نے جہاز اڑانا ہی نہیں سیکھا بلکہ کمال مہارت کا درجہ حاصل کرتے ہوئے بہت سارے مشکل ترین ہوائی کرتب بھی سیکھ لئے۔ بیوی اسے ہوائی جہاز اڑاتے ہوئے دیکھنے آئی تو میاں نے جہاز کو کئی جگہ پر قلابازیاں لگوا کر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس پر لوگوں نے اسے بھرپور داد دی مگر اس کی بیوی ہمارے بجٹ کے ماہرین جیسی تھی یا یہ نام نہاد معاشی ماہرین اس بیوی جیسے ہیں کہ میاں جوں ہی فخریہ اندازمیں سر کو تانے ہوئے کاک پٹ سے باہر آیا، بیوی نے برا سا منہ بنایا اورغصے سے تنتناتے ہوئے بولی، بتاو وہ وقت کب آئے گا جب تم صحیح طریقے سے جہاز اڑانا سیکھ جاو گے؟

مزید :

کالم -