5ٹرانز یکشنز ثابت کریں ، حمائمہ کی جانب سے ریکارڈ آنے تک فیصلہ نہیں ہو سکتا : چیف جسٹس

5ٹرانز یکشنز ثابت کریں ، حمائمہ کی جانب سے ریکارڈ آنے تک فیصلہ نہیں ہو سکتا : ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ) عمران خان کی آف شو ر کمپنیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ر یما ر کس دیئے ہیں کہ عمران خان نے نیازی سروسز کو ٹیکس گوشواروں اور اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا،عمران خان جمائمہ سے آنیوالی پانچ ٹرانزیکشنز ثابت کریں، ہم تحقیقات کر رہے ہیں اور گہرائی میں جا رہے ہیں، جمائمہ کی طرف سے ریکارڈ آنے تک فیصلہ نہیں ہوسکتا جبکہ عدالت عظمیٰ نے کیس کی مزید سماعت آج جمعرات تک ملتوی کردی ۔سپریم کورٹ میں عمران خان کی نااہلی اور آفشور کمپنیوں سے متعلق حنیف عباسی کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کی دوران سماعت دلائل دیتے ہوئے نعیم بخاری نے موقف اختیار کیا کہ ایف بی آر کے پاس نیازی سروسز اور عمران خان کیخلاف کوئی مواد نہیں ، نیازی سروسز کو ظاہر نہ کرنا غلطی ہے، مگر بدنیتی سے غلطی نہیں کی گئی اس پر جسٹس فیصل عرب نے کہا آپ خود اپنی بات کی نفی کر رہے ہیں، پہلے آپ نے کہا نیازی سروسز کو ظاہر کرنا ضروری نہیں تھا، اب آپ ظاہر نہ کرنے کو غلطی قرار دے رہے ہیں، اس پر نعیم بخاری نے کہا یہ میر ی متبادل دلیل ہے، آف شور کمپنی زندہ رکھنے کا جواز شیئرہولڈرز دے سکتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا آف شور کمپنی میں عمران خان کی بہنوں کا کوئی مفاد نہیں تھا،پھر آف شور کمپنی کو کیوں زندہ رکھا گیا، نعیم بخاری نے کہا آفشور کمپنی کے بینی فیشل مالک عمران خان تھے اور کمپنی کا واحد اثاثہ فلیٹ تھا، چیف جسٹس نے استفسار کیا آفشور کمپنی کے ٹیکس بچانے کے علاوہ کیا فائدے ہیں؟ اس پر نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کمپنی بنانے کا اولین مقصد کیپیٹل گین ٹیکس بچانا ہے، سروسز لمیٹڈ کو ظاہر کرنا لازم نہیں تھا، چیف جسٹس نے کہا ایمنسٹی سکیم سے پہلے عمران خان نے لندن فلیٹ ظاہر نہیں کیا، لندن فلیٹ ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں ظاہر کیا گیا، اس پر نعیم بخاری نے کہا ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھاتے وقت عمران خان عام آدمی تھے، اس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کیا قانون کا اطلاق اس وقت ہوگا جب معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے جائے؟ نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا آف شور کمپنیوں کا معاملہ ایف بی آر کے سامنے ہے، عدالت ایف بی آر سے پہلے آف شور کمپنی کے معاملے پر فیصلہ نہیں کرسکتی، انکم ٹیکس قوانین کے تحت صادق و امین ہونے کا تعین نہیں ہو سکتا، چیف جسٹس نے کہا عمران خان نے نیازی سروسز کو ٹیکس گوشواروں اور اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا، نعیم بخاری نے کہا نیازی سروسز لمیٹڈ کے گوشوارے نیو جرسی میں فائل کیے گئے، عمران خان آف شور کمپنی کے ڈائریکٹر تھے نہ ہی شیئرہولڈر، اس لیے عمران خان کو ٹیکس ریٹرن میں آف شور کمپنی ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، جسٹس عمر عطاء بندیال کا کہنا تھا آف شورکمپنی کا اکلوتا اثاثہ فلیٹ تھا، نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا لندن فلیٹس سے متعلق عدالتی چارہ جو ئی چل رہی تھی، آف شور کمپنی کو عدالتی چارہ جوئی کے باعث زندہ رکھا گیا، ریٹرن فائل نہ کرنے پر کمپنی 15ء میں تحلیل ہو گئی، جمائمہ خان کی جانب سے رقم بھجوانے کی دستاویزات بھی پیش کی جائیں گی،اس پر چیف جسٹس نے کہا رقم بھجوانے کی وضاحت بنی گالہ اراضی کی ادائیگی کیساتھ دیں، نعیم بخاری نے کہا مائی لارڈ کنٹریکٹ یاد کرنا ہے یا فیض کو، مجھ سے فیض کا شعر پوچھیں فوری سناؤں گا، فیض کا شعرہ نہ سنا سکا تو مجرم ہوں گا، چیف جسٹس نے استفسار کیا جمائمہ نے 2 لاکھ تیس ہزار ڈالرز زیادہ بھیجے، اس کی وضاحت ہے؟ نعیم بخاری نے کہا راشد خان کے اکاؤنٹ میں ایک لاکھ 10 ہزار ڈالرز جمائمہ نے نہیں بھیجے، یہ رقم کسی دوسرے شخص کی جانب سے راشد خان کو بھجوائی گئی، 20 ہزار ڈا لر ز جولائی میں راشد خان کے اکاؤنٹ میں آئے، راشد خان کو یاد نہیں کہ یہ رقم کہاں سے آئی، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 2 لاکھ 58 ہزار ڈالر جمائمہ کی جانب سے آنے کے کیا شواہد ہیں، آپ کو ثابت کرنا ہوگا رقم جمائمہ نے بھیجی، حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا ابھی تک نعیم بخاری چوتھے نکتے پر ہیں، پھر آپ نے بیرون ملک چلے جانا ہے، یہ کیس جلد تکمیل تک نہیں پہنچ سکے گا، اس پر نعیم بخاری نے اکرم شیخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا شیخ صاحب! کچھ نہیں ہوتا صبر کریں، شیخ صاحب نے رمضان کے آخری عشرے میں سعودی عرب بھی جانا ہے، اس پر اکرم شیخ نے کہا میری پیشہ وارانہ ذمہ داری ذاتی ذمہ داری سے بالاتر ہے، میرے لیے حقوق العباد مذہبی ذمہ داری سے اوپر ہیں، بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات تک کردی۔ادھر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے توہین عدالت کیس میں جمع کرائے جانے والے جواب کو مسترد کرتے ہوئے 7جون کو دوبارہ جواب داخل کرنے کا حکم جاری کیا ہے جبکہ غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سما عت 22جون تک ملتوی کر دی ہے ۔بدھ کے روز چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا کی سربراہی میں 5رکنی بنچ نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی اس موقع پر پی ٹی آئی کے وکیل فواد حسن نے الیکشن کمیشن میں عمران خان کی جانب سے توہین عدالت کیس میں داخل کئے جانے والے جواب پربات کرتے ہوئے کہا عمران خان اداروں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں انہوں نے الیکشن کمیشن کی توہین نہیں کی ،الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے وکیل کی جانب سے جمع کرایا جانے والا معافی نامہ کا عمران خان کو علم نہیں تھا ،جس وکیل نے معافی نامہ جمع کرایا انہوں نے وہ واپس لے لیا تھا ،انہوں نے الیکشن کمیشن سے توہین عدالت کا کیس واپس لینے کی استدعا کی جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہاجس وکیل کی جانب سے معافی نامہ جمع کرایا گیا تھااس کو واپس لینے کے آرڈر میں لکھا ہوا تھا چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ابھی تک توہین عدالت کا جواب نہیں دیا گیا ،اس موقع پر الیکشن کمیشن نے توہین عدالت کا جواب مسترد کرتے ہوئے 7جون کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کی جبکہ پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل کی جانب سے استدعا کی گئی کہ اسی نوعیت کا کیس سپریم کورٹ میں بھی درج کیا گیا ہے جس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جارہی ہے،الیکشن کمیشن سے استدعا ہے کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے فیصلے تک ملتوی کی جائے سے چیف الیکشن کمشنر نے منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت22جون تک ملتوی کردی ۔

مزید :

صفحہ اول -