حکومتی سینیٹر کی جے آئی ٹی کو دھمکیوں سے آئین اور قانون کی بالا دستی کو شدید دھچکا لگا : سراج الحق

حکومتی سینیٹر کی جے آئی ٹی کو دھمکیوں سے آئین اور قانون کی بالا دستی کو شدید ...

  

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمران خاندان چاہتا ہے کہ اس سے وی آئی پی طریقے سے گھر میں ہی تفتیش ہو اور تحقیقات کرنے والے ان کے پروٹوکول کا پورا خیال رکھیں،حکمرانوں نے ماضی میں بھی عدالتوں پرچڑھائی کی آج بھی ان کا لب ولہجہ وہی ہے، اپوزیشن لیڈر کو خطاب کرنے کا موقع نہ دینا اور قومی نشریاتی اداروں کو اپوزیشن لیڈر کی تقریر براہ راست نشر کرنے سے روکنا بد ترین آمریت ہے،حکومت نے اپوزیشن کو دیوار سے لگانے اور ان کی بات نہ سننے کو انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔پشاور میں صحافیوں کے اعزاز میں دیے گئے افطار ڈنر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مسلم لیگ کے وزراء ارکان اسمبلی اور سینیٹرز کے نزدیک اس وقت حکمران خاندان کا دفاع کرکے وزیر اعظم کی نظر عنایت حاصل کرنا اصل کامیابی ہے اور پوری کابینہ اسی کام میں لگی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبران کو سرعام دھمکیوں سے ملک میں آئینی اداروں کا نہ صرف وقار مجروح ہوا ہے بلکہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کو بھی شدید دھچکا لگا ہے اور احتساب کے اداروں کا مستقبل بھی خطرے میں نظر آتا ہے۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ نوازشریف ایڈہاک ازم سے معاملات چلا رہے ہیں ،ملک میں طویل مدتی پالیسی کی بجائے خوش نما اعلانات اور اشتہارات کی بھر مار ہے ۔سراج الحق نے مطالبہ کیاکہ قبائلی عوام کو ان کے حقوق دیے جائیں ، فاٹا اصلاحات پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کر کے انہیں قومی و صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔

سراج الحق

مزید :

علاقائی -