قومی اسمبلی ، اپوزیشن نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ’’پارلیمنٹ ‘‘ لگائی ، لائیو تقریر کیلئے قانون سازی کی حکومتی آفر بھی ٹھکرا دی

قومی اسمبلی ، اپوزیشن نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ’’پارلیمنٹ ‘‘ لگائی ، ...

  

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران حزب اختلاف کے رہنماؤں کا اظہار خیال سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر نہ کیے جانے پر اپوزیشن نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پارلیمنٹ لگا لی۔پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت کے باہر اپوزیشن جماعتوں کی عوامی اسمبلی میں پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، بی این پی عوامی اور عوامی مسلم لیگ کے ارکان نے شرکت کی۔ اس موقع پر ارکان اسمبلی نے ملک میں جاری لوڈ شیڈنگ پر تبادلہ خیال کیا۔تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملک میں نہ پانی نہ بجلی ہے، حکومت ناکام ہو چکی ہے، وزیر پانی و بجلی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ پورا کریں۔ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کررکھی ہے ٗعوامی اسمبلی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے۔ایم کیو ایم پاکستان کے فاروق ستارنے کہا کہ لوڈشیڈنگ سے پورا ملک اذیت سے دوچار ہے ٗلوگوں کا جینا مشکل ہو چکا ہے اور حکومت عوام کی آواز سننے کیلئے تیارنہیں ٗمتحدہ اپوزیشن کو مطالبہ کرنا چاہیے کہ اب حکومت کی لوڈشیڈنگ ہونی چاہئے ٗایسا نہ کیا گیا توحکومت پاکستان کے جمہوری نظام کو غیرمعمولی نقصان پہنچائیگی ٗ حکومت کی لوڈشیڈنگ کے فاروق ستار کے مطالبے پر اپوزیشن کی اسمبلی میں حکومت مخالف نعرے لگائے گئے ۔

منی پارلیمنٹ

اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ بحث کیلئے اپوزیشن نے حکومت کی وزیر خزانہ کی طرح اپوزیشن لیڈر کی تقریر براہ راست دکھانے پر قانون سازی کرنے کی آفر بھی ٹھکرا دی اور حکومت اپوزیشن کو منانے میں تیسرے روز بھی ناکام رہی۔بدھ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس50منٹ تاخیر سے شروع ہوا جس کی وجہ اپوزیشن کا اجلاس میں نہ آنا تھا،قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں شروع ہوا اجلاس کے دوران محمود خان اچکزئی نے حکومت کو تجویز دی کہ ایسا قانون پاس کروایا جائے کہ ہر سال وزیرخزانہ کی تقریر کی طرح اپوزیشن لیڈر کی تقریر کو بھی براہ راست نشر کیا جائے۔حکومت نے محمود خان اچکزئی کی تجویز کو قبول کرلیا۔وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا کہ اگر محمود خان اچکزئی کہتے ہیں تو ہم اس پر قانون سازی کرنے کو تیار ہیں،اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اپوزیشن سے بات کرنے کیلئے وہ ہمارے ساتھ چلیں اس پر سپیکر نے محمود خان اچکزئی،رانا تنویر وجنرل (ر) قادر بلوچ اور وفاقی وزیر برجیس طاہر کو اپوزیشن سے بات کرنے کیلئے بھیجا۔تین وفاقی وزراء اور محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن سے بات کی اور کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقریر وزیرخزانہ کی طرح براہ راست نشر کرنے کے حوالے سے قانون سازی کرنے کو تیار ہیں لیکن اپوزیشن نے حکومت کی اس آفر کو ٹھکرا دیا اور تین وفاقی وزراء اور محمود خان اچکزئی ناکام واپس لوٹے۔سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس جاری رکھا۔پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی اعجاز جاکھرانی نے کورم کی نشاندہی کی تو سپیکر نے گنتی کا کہا جس کے بعد اراکین اسمبلی کی تعداد پوری تھی اور اجلاس جاری رہا۔اعجاز جاکھرانی نے دوبارہ کورم کی نشاندہی کی تو ڈپٹی سپیکر نے اجلاس کو ملتوی کردیا۔اجلاس کے دوران کیا بجٹ بحث پر اسمبلی اجلاس کے دوران مسلم لیگ(ن) کے رہنما جعفر اقبال نے کہا کہ وزیراعظم نے جو ویژن 2013ء میں دیا اس کے تحت دہشتگردی سے نکلنے کیلئے جواقدامات کئے گئے ہیں چار سال کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور اب گیس سے بجلی پیدا کی جارہی ہے میرے دائیں ہاتھ پر جو کرسیاں خالی پڑی ہیں یہ لوگ وزیر خزانہ کے بجٹ پیش کرنے کے بعد اب اس بات کرنے کو تیار نہیں اس دوران اعجاز حسین جاکھرانی نے اسمبلی میں آکر کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کردی جس کے بعد گنتی شروع کردی گئی کورم پورا ہونے کے بعد اجلاس کی کارروائی شروع کردی گئی جعفر اقبال نے کہا کہ اگر نواز شریف اپنے وعدے پورے کرتے ہیں تو اپوزیشن کے پاس کوئی چیز نہیں جو وہ عوام لیکر جائی آج کراچی امن کا گہوارہ بنا ہے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی لیکن پیپلز پارٹی کراچی کاامن بحال نہ کرسکی کراچی آج میاں نواز شریف کیوجہ سے امن کا گہوارہ بنا انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی انڈسٹری سی این جی اور گھریلو استعمال کی گیس مل رہی ہے اپوزیشن میں اتنا حوصلہ نہیں اس لئے وہ اجلاس چھوڑ کر باہر بیٹھے ہیں ۔

بجٹ بحث

مزید :

علاقائی -