کٹھ پتلی انتظامیہ عدالتی احکامات کے باوجود شوہر کو رہا نہیں کر رہی، اہلیہ سرجان برکاتی

کٹھ پتلی انتظامیہ عدالتی احکامات کے باوجود شوہر کو رہا نہیں کر رہی، اہلیہ ...

  

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں امت اسلامی کے غیر قانونی طور پرنظر بند رہنما سرجان برکاتی کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ کٹھ پتلی انتظامیہ عدالتی احکامات کے باوجود انہیں رہا نہیں کر رہی جس وجہ سے انکا عدالتی نظام پر سے اعتما داٹھ چکا ہے ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سرجان برکاتی کی اہلیہ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے انکے شوہر کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بندی کالعدم قرار دے دی تھی لیکن بھارتی پولیس نے بے بنیاد الزامات کے تحت انہیں مسلسل جیل میں رکھا ہو ا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرجان برکاتی کو حا ل ہی میں شوپیاں کی ایک عدالت میں لایا گیا جہاں انہوں نے جج کو بتایا کہ شوپیاں تھانے میں پولیس نے انہیں اس قدر بے رحمی سے مارا پیٹا کہ ان کا ایک دانت بھی ٹوٹ گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالتیں ان کے شوہر پر قائم مقدمات کو بے بنیاد قرار دیکر ان کی رہائی کے احکامات صادر کرتی ہیں تو بھارتی پولیس ایک دم سے ان کے خلاف مزید جھوٹے مقدمات قائم کر دیتی ہے۔ یاد رہے کہ سرجان برکاتی نے 2016 ء کے انتفاضہ کے دوران آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف اپنے منفرد نعروں کے باعث شہرت حاصل کر لی تھی ۔ نعرے لگانے کے ایک منفرد انداز اور اسلوب کے ذریعے وہ عوامی اجتماعات میں ایک زبردست سماں باندھ دیتے تھے۔

انہیں قابض انتظامیہ نے احتجاجی تحریک کے دوران گرفتار کر کے ان پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر دیا تھا۔ عدالتوں کی طرف سے کالا قانون کالعدم قرار دیے جانے کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا جارہااور ان کی اہلیہ کے علاوہ ان کی نو سالہ بیٹی اور چھ سالہ بیٹا ان کی گھر واپسی کی راہ تک رہے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -