پیاسے پودے پانی کی آواز سن سکتے ہیں،آسٹریلوی سائنسدانوں کی تحقیق

پیاسے پودے پانی کی آواز سن سکتے ہیں،آسٹریلوی سائنسدانوں کی تحقیق
 پیاسے پودے پانی کی آواز سن سکتے ہیں،آسٹریلوی سائنسدانوں کی تحقیق

  

میلبرن(مانیٹرنگ ڈیسک)پودے کیڑوں کی بھنبھناہٹ، سنڈیوں کے پتے کھانے کی آواز اور درختوں میں سیٹیاں بجاتی ہوئی ہواؤں کیلیے بھی کان رکھتے ہیں۔اس تحقیق سے یہ معمہ حل ہوگیا ہے کہ آخرخشک ترین علاقوں میں بھی پودے ، شجر اور گھاس پھوس کس طرح پانی تلاش کرکے زندہ رہتے ہیں۔ اس کے لیے یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے ماہر مونیکا گیگلیانو اور ان کے ساتھیوں نے مٹر کے پودے کو ایک ایسے گملے میں الٹے لگائے جو انگریزی حروف وائے کی شکل کے تھے۔ گملے کا ایک سرا پانی میں اور دوسرا خشک مٹی میں رکھا گیا۔معلوم ہوا کہ پلاسٹک میں لپیٹنے اور چھپانے کے باوجود بھی پودے کی جڑیں پانی کی جانب مڑیں گویا انہیں معلوم تھا کہ اس طرف پانی ہے اور پانی بھی پلاسٹک کے پانی میں بند تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جڑیں بہنے والے پانی کی صرف آواز ہی سن رہی تھیں۔ اس تحقیق سے سائنسداں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جب پودوں کے قریب آبی بخارات نہ ہوں اور پانی بہت دور بہہ رہا ہو تو وہ صرف اس کے بہنے کی ہلکی آواز سے پانی کو پہچان لیتے ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -