سینیٹ اجلاس، شعبہ زراعت کی بہتری، سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں مزید اضافہ کیا جائے: اراکین

سینیٹ اجلاس، شعبہ زراعت کی بہتری، سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں مزید اضافہ ...

  

اسلام آباد (آن لائن) ایوان بالا میں اراکین نے ملک میں شعبہ زراعت کی بہتری کیلئے بلاسود زرعی قرضے فراہم ، تمام زرعی مشینری پر ٹیکسوں کی چھوٹ دینے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مزید اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ، بلوچستان میں پانی کی شدید قلت کا مقابلہ کرنے کیلئے بڑے ڈیم بنائیں جائیں ، بلوچستان کے تمام اضلاع کو ایک دوسرے کیساتھ ملایا جائے گوادر میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل کام شروع کرایا جائے پارلیمنٹ ہاؤس کیلئے علیحدہ ٹی وی چینل کا اجراء کیا جائے ،صحافیوں کیلئے مفت انشورنس شروع کی جائے ہندوستان کی جا نب سے جاری پروپیگنڈا کا موثر جواب دیا جائے ۔ منگل کے روز سینٹ اجلاس میں سینیٹر الیاس بلور نے بجٹ پر بات کرتے ہوئے کہا چھو ٹے صوبوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ہورہی ہے خیبر پختونخوا کیلئے کسی بھی میگا پراجیکٹ میں پیسے نہیں رکھے گئے ، ملک میں لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہورہا ہے ،صوبائی حکومتوں کو وفاق کی سطح پر اپنے حقوق کیلئے لڑنا ہوگا، وزیر مملکت عابد شیر علی کو خیبر پختونخوا کے عوام کو بجلی چور نہیں کہنا چاہیے، خیبر پختونخوا میں پانچ گرڈ سٹیشنز کا پانچ سو میگا واٹ بننا بے حد ضروری ہے اور لائن لاسز کو ختم کرنا چاہیے، خیبر پختونخوا کے انڈسٹریل ایریا میں بھی نو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے، کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار سے بڑھا کر بیس ہزار کرنا چاہیے اور اس پرعملدرآمد یقینی بنایا جائے، وزیر خزانہ نے دس کا پہاڑہ پڑھا ہوا ہے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی دس فیصد بڑھائی ہیں، سابقہ حکومت کے دور میں گردشی قرضہ 480 ارب تھا جوانہوں نے ختم کردیا ہے مگر اس دور میں تیل سستا ہونے کے باوجود گردشی قرضے 480 ارب تک پہنچنے والا ہے ، ملک میں غیر ملکی قرضے ڈبل ہورہے ہیں اور یورو بانڈ آٹھ فیصد سے زائد ریٹ ہے فلوٹ کیا گیا ہے، سینیٹر نزہت صادق نے کہا موجودہ حکومت نے بہت اچھا بجٹ پیش کیا ہے اور ملکی معیشت درست سمت پرگامزن ہے ۔ حکومت نے ملک میں توانائی کے شعبے کو اولین ترجیح دی ہے، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کا کہنا تھا موجودہ حالات میں دہشت گردی ،فرقہ واریت میں اضافہ ہورہا ہے، صوبوں کی حالت زار ،سرحدوں کی صورتحال بھی خطرناک ہے ،بجٹ میں بلوچستان کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ بلوچستان میں شمسی توانائی کی بہت زیادہ ضرورت ہے، سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے کہا بجٹ ملک کی معاشی اور اقتصادی صورتحال پیش کرتا ہے ۔ زراعت کی بہتری کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے ،سینیٹر گل بشرہ کا کہنا تھا صوبے ابھی تک اپنے وسائل سے محروم ہیں اٹھارہویں ترمیم پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہے ، سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا موجودہ بجٹ انتہائی پرکشش،عوام ہی نہیں بلکہ کسان دوست بھی ہے ۔ سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے خطاب کو پی ٹی وی پر براہ راست نشر نہ کرنا زیادتی ہے اور ان کے احتجاج کو درست سمجھتا ہوں، بدقسمتی سے حکومت کی زراعت کے شعبے پر کوئی توجہ نہیں جو اس کی نالائقی ہے، بجٹ کے حجم میں اضافہ اقتصادی راہداری کی وجہ سے ہوا ہے اور اس کو اقتصادی راہداری کا بجٹ کہا جاسکتا ہے ،پارلیمنٹ کیلئے علیحدہ ٹی وی چینل بنایا جائے پارلیمنٹرین کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر جم بنایا جائے انہوں نے کہا کہ صحافیوں کیلئے انشورنس سکیم کا اجراء کیا جائے کیونکہ وہ دہشت گردی سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں ،،سینیٹر سحر کامران نے کہا ملک کا ہر شہری ایک لاکھ 78ہزار روپے کے مقروض ہے لوگوں کے چولہے ٹھنڈ ے ہو رہے ہیں ، حکومت کی ترجیحات ایسی نہیں کہ جس سے ملک میں امن و سلامتی اور غربت خاتمے ، تعلیم و صحت کی سہولیات میں اضافہ کا موجب بنیں ۔ سینیٹر ستارہ ایاز کا کہنا تھا بجٹ میں چائلڈ پروٹیکشن کیلئے کچھ نہیں رکھا گیا ،آئی ڈی پیز کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے، سینیٹرصلا ح الدین کا کہنا تھا غریب ملازمین اور مزدورں کا گزارا ناممکن ہوتا جا رہا ہے ۔ سینیٹر سلیم ضیاء کا کہنا تھاحکومت کی کامیابی ہے چین جیسا طاقتور ملک پاکستان کیساتھ کھڑا ہے اور ملک میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، سینیٹر گیان چن نے کہا بجٹ سے لوگوں کو بڑی امیدیں ہوتی ہیں لیکن فیگرز کو آگے پیچھے کرکے عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے،عوام کا پارلیمنٹ پر اعتماد ختم ہو رہا ہے، بجٹ پر بات کرنے کیلئے کوئی بھی وزیر ایوان میں نہیں آتا لیکن اگر پانامہ پر بات ہو تو کئی وزراء کھڑے ہوتے ہیں،سینیٹر ڈاکٹر فضل اللہ خان ڈھانڈلہ نے کہا موجود حالات میں اسحاق ڈار نے جو بجٹ پیش کیا اس کی مثال نہیں ملتی ، سینیٹر نثار محمد نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا وزارت پلاننگ اینڈ ڈوپلیمنٹ کے فیگرز کو سمجھنا آسان نہیں ہے، آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کیلئے صرف وزارت خزانہ کا کردار انتہائی خوفناک ہے، اسے قومی مالیاتی کمیٹی میں لایا جانا چاہئے، حکومت کے پاس غربت مکاؤ خاتمہ کیلئے کوئی طریقہ کار ہی نہیں ہے، اگر دہشت گردی سے متاثرہ گھرانوں کی نگداشت صوبائی معاملہ ہے تو پھر پی آئی ایس بی کو بھی صوبوں کاسبجیکٹ بنا دینا چاہئے۔

مزید :

صفحہ آخر -