’’دیوار گریہ کے آس پاس‘‘( کتاب کی تقریب رونمائی)

’’دیوار گریہ کے آس پاس‘‘( کتاب کی تقریب رونمائی)

  

فلسطین(اسرائیل) کی مقدس سرزمین کے بارے میں اردو زبان میں لکھا جانیوالا پہلا سفر نامہ جسے ساؤتھ افریقہ میں مقیم ڈاکٹر کاشف مصطفی نے انتہائی نفاست اور جامع انداز سے کتاب کی شکل میں قلم بند کیا۔ساؤتھ افریقہ کے صنعتی شہر جوہانسبرگ کے مرکزی علاقے فورذ برگ مے فیر میںsalt and paperکے مقام پر فلسطین(اسرائیل) کے سفر نامے پہ اردو زبان میں لکھی جانے والے پہلی کتاب ’’دیوار گریہ کے آس پاس‘‘ کی رونمائی کی پر وقار تقریب منعقد ہوئی،تقریب میں ساؤتھ افریقہ میں انسانیت کی خدمت کیلئے مصروف عمل پاکستانی ڈاکٹرز ان کے اہلخانہ، پاکستانی و مقامی کمیونٹی نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ایک پاکستانی کا فلسطین(اسرائیل) کے مقدس مقامات تک رسائی حاصل کرنا اور پھر انتہائی جامع انداز سے مقدس مقامات کی تفصیل کو لفظوں میں ڈھال کر کتاب کی شکل میں اس طرح بیان کرنا کہ قاری خود کو ان مقدس مقامات کے درمیان محسوس کرے،ڈاکٹر کاشف مصطفی کا لائق تحسین کارنامہ ہے، اہل فلسطین کی حالت زار کو ان پر ڈھائے جانے والے یہود کے مظالم کو درد کی حقیقی کیفیت کیساتھ بیان کرنا دنیا کے سامنے پیش کرنا عظیم کارنامہ ہے۔ڈکٹر کاشف مصطفی بطور ہارٹ سرجن ساؤتھ افریقہ میں انسانیت کی خدمت کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں بنیادی طور پر ان کا تعلق راولپنڈی سے ہے،راولپنڈی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور ساؤتھ افریقہ میں سپیشلائزیشن کی۔سیاحت ڈاکٹر کاشف مصطفی کا شوق ہی نہیں جنون ہے اور اسی جنون کی بدولت انہوں نے 68ممالک کا سفر کیا،فلسطین(اسرائیل) کے عظیم اور مقدس مقامات تک کا سفر اور پھر ان حاصل گیر تجربات کو دیوار گریہ کے آس پاس کی کتابی شکل میں انتہائی متاثر کن انداز سے دنیا کے سامنے پیش کرنا ڈاکٹر کاشف مصطفی کے سیاحتی جنون کا اظہار ہے۔دیوار گریہ کے آس پاس کی تقریب رونمائی کی میزبانی کے فرائض ڈاکٹر نثار برکی نے احسن انداز سے انجام دئیے انہوں نے نا صرف دلفریب انداز سے مقررین کو اظہار خیال کے لئے مدعو کیا بلکہ مصنف اور تصنیف کے بارے میں اپنے خیالات کو دلکش موتیوں کی صورت میں پرو کر حاضرین محفل کی نذر کیا۔ڈاکٹر کاشف مصطفی کی اہلیہ ڈاکٹر صائقہ کاشف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقیناًان کے لئے یہ لمحات ناقابل فراموش ہیں انہیں فخر ہے کہ ان کے ہم سفر ڈاکٹر کاشف مصطفی وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے فلسطین(اسرائیل) کے مقدس مقامات کی عظیمت اور اہل فلسطین کی حالت زار کو اردو زبان مین تصاویر کے ساتھ کتاب کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔سیاحت ڈاکٹر صاحب کا جنون ہے اور یہ جنون ان کے اور ان کے بچوں کے لئے بھی بے حد کارآمد ثابت ہوتا ہے،ڈاکٹر صائقہ کاشف نے تہہ دل سے حاضرین محفل کی آمد پہ سب کا شکریہ ادا کیا۔عفت اطہر نے فلسطین(اسرائیل) کے سفر نامے کو اردو زبان میں کتاب کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کرنے پر ڈاکٹر کاشف مصطفی کو خراج تحسین پیش کیا،انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر کاشف مصطفی نے دیوار گریہ کے آس پاس کی بے مثال تخلیق سے ہم سب کو ارض فلسطین میں واقع ہمارے مقدس مقامات تک رسائی فراہم کر کے عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے۔مصنف کے اظہار خیال سے قبل محمد علی انجم نے مصنف اور تصنیف کے بارے میں اپنے تاثرات کو انتہائی مسحور کن انداز میں پیش کیا۔محمد علی انجم بذات خود اعلی ٰ پائے کی ادبی وصاحب علم شخصیت ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔احکامات الہیٰ اور تعلیمات نبویؐ کی ترویج کے لئے ان کی خدمات قابل تحسین ہیں،محمد علی انجم نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ارض فلسطین انبیا کرام کی سر زمین ہے انبیا کرام سے منسوب ایک ایک اینٹ ایک ایک پتھر اس سر زمین کی عظمت کے شاہد ہیں،اس مقدس سر زمین کی زیارت کی خواہش ہر مسلمان کے دل میں ہے وہ خود اس عظیم خطے کی زیارت کے خواہش مند ہیں مگر صد افسوس کہ عصر حاضر کی کچھ پیچیدگیوں کے باعث ان مقدس مقامات کی زیارت سے محروم رہے ہیں مگر انہیں خوشی ہے کہ ان کے بہترین دوست ڈاکٹر کاشف مصطفی سے اس ارض مقدس پہنچ کر ان مقامات کی اہمیت عظمت و شان شوکت کو خوبصورت متاثر کن سہل لفظوں اور تصاویر کے امتزاج سے دیوار گریہ کے آس پاس کی شکل میں ڈھال کر ہمیں موقع مہیا کیا ہے کہ ہم انبیا کرام کی عظیم سر زمین فلسطین کے بارے میں جان سکیں اور ان مقدس مقاما ت کی زیارت کر سکیں جن کی زیارت کی خواہش ہم سب کے دل میں ہے میں اس عظیم کاوش پر ڈاکٹر کاشف مصطفی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔تقریب کے اختتام پر دیوار گریہ کے آس پاس کے مصنف ڈاکٹر کاشف مصطفی نے اپنے خیالات احساسات جذبات و تجربات کو انتہائی مفصل انداز سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ سیاحت ان کا شوق اور جنون ہے اور یہ جنون انہیں ہمیشہ دنیا کو دیکھنے سمجھنے اور جاننے کے لئے اکسا یا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اب تک68ممالک کا سفر کر چکے ہیں ارض فلسطین کا یہ سفر ناقابل فراموش ہے میں مقامات مقدسہ کی زیارت کے دوران جس کیفیت کو محسوس کرتا رہا ہوں اس کیفیت کو بیان کرنا نا ممکن ہے۔ اس کے باوجود ڈاکٹر کاشف مصطفی نے مقبوضہ بیت المقدس مسجد اقصیٰ حضرت ابراہیم علیہ اسلام و دیگر انبیا کرام سے منسوب مقامات اور نبی اکرمؐ کے سفر معراج کے موجود نقوش کی عظمت کی اس خوبصورت انداز سے تصویر کشی کی کہ حاضرین محفل پہ سکوت طاری ہو گیا انہوں نے افسوس کے ساتھ اہل فلسطین کی زبوں حالی کا بھی تذکرہ کیا اور حاضرین کے اشتراک سے اہل فلسطین کی آزادی کے لئے دعا بھی کی۔حاضرین محفل نے ڈاکٹر کاشف مصطفی کو فلسطین(اسرائیل) کا سفر نامہ اردو زبان میں لکھنے ،مقدس مقامات کی تفصیل ارض مقدس کی عظمت کی تحریر و تصاویر کے اشتراک سے دیوار گریہ کے آس پاس کی صورت میں مجتمع کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔

مزید :

عالمی منظر -