ارشد عمرزئی دہشت گردی‘ قتل و اقدام کے مقدمات سے بری

ارشد عمرزئی دہشت گردی‘ قتل و اقدام کے مقدمات سے بری

  

چارسدہ (بیورو رپورٹ) ڈسٹرکٹ سیشن منیرہ عباسی نے صوبائی وزیر ٹیکنکل ایجوکیشن ارشد عمرزئی کو دہشت گردی ،قتل و اقدام قتل کے مقدمات میں باعزت طور پر بری کر دیا ۔ ارشد عمر ز ئی اور اس کے بھائی خورشید خان عمر زئی پر اے این پی کے سابق صوبائی وزیر بشیر خان عمر زئی کے قافلے پر ریمورٹ کنڑول بم حملے کے مقدمات درج تھے ۔ حملے میں بشیر خان عمر زئی کا ڈرائیور جاں بحق جبکہ بشیر خان عمر زئی تین ساتھیوں سمیت زخمی ہوئے تھے ۔ ارشد عمر زئی نے عدالتی فیصلے کو حق و انصاف کی جیت قرار دیا ۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ سیشن جج منیرہ عباسی نے دہشت گردی ، قتل و اقدام قتل کے مقدمات میں نامزد ملزم صوبائی وزیر ٹیکنکل ایجوکیشن ار شد خان عمر زئی کو تمام مقدمات سے باعزت طور پر بری کر دیا ۔ قومی وطن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر ارشد خان عمر زئی اور اس کے بھائی خور شید خان عمر زئی پر 12جنوری 2013کو عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی وزیر بشیر خان عمر زئی کی گاڑی پر ریمورٹ کنڑول بم دھماکہ حملے کا الزام تھاجس میں بشیر خان عمر زئی کے ڈرائیور لیاقت علی جاں بحق جبکہ گاڑی میں سوار بشیر خان عمر زئی ، پولیس اہلکار عاصم ، ظفر علی خان اور نثار علی زخمی ہو گئے تھے ۔واقعہ کے حوالے سے بشیر خان عمر زئی کے بیٹے خلیل بشیر خان عمر زئی نے قومی وطن پارٹی کے صوبائی وزیر ٹیکنکل ایجو کیشن ارشد خان عمر زئی اور ان کے بھائی خور شید خان عمر زئی کے خلاف تھانہ عمر زئی میں قتل اقدام قتل اور دہشت گردی ایکٹ 302,148,149,427,3/4EXP مقدمات درج کئے ۔ نامزد ملزم ارشد خان عمر زئی نے مذکورہ مقدمے میں گرفتاری پیش کی تھی اور بعد میں عدالت نے ان کو ضمانت پر رہا کیا تھا ۔ گزشتہ چار سال سے مذکورہ کیس ڈسٹرکٹ سیشن جج چارسدہ کے عدالت میں زیر سماعت رہا جبکہ مذکورہ کیس کے سماعت کے دوران پانچ ڈسٹرکٹ سیشن جج تبدیل ہوئے جس کی وجہ سے مقدمہ التواء کا شکار رہا ۔ مد عی بشیر خان عمر زئی کی طر ف سے سلیم خان ایڈ وکیٹ اور وارث خان ایڈوکیٹ جبکہ صوبائی وزیر ارشد خان عمر زئی کی طرف سے معظم بٹ ایڈو کیٹ ، بابر خان یو سفزئی ایڈوکیٹ اور نادر خان ایڈ وکیٹ نے کیس کی پیروی کی ۔عدالت سے باہر چارسدہ جرنلسٹ سے بات چیت کر تے ہوئے ارشد عمر زئی نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے حق و انصاف کا بول بالا ہو گیا ۔ مذکورہ مقدمے میں ہم کو جان بوجھ کر پھنسایا گیا ۔ بشیر خان عمر زئی پر حملہ میں ہم کسی طور پر بھی ملوث نہ تھے اور اس حوالے سے ہم نے مخالفین کو ہر قسم یقین دہانی کر ائی تھی ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -