تمباکو کی صنعت کے منافع سے ذیادہ صحت کو ترجیح دی جائے،کولیشن فارٹوبیکو

تمباکو کی صنعت کے منافع سے ذیادہ صحت کو ترجیح دی جائے،کولیشن فارٹوبیکو

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کولیشن فار ٹوباکو کنٹرول پاکستان کے پارٹنر ز کا تمباکو نوشی کی روک تھام کے عالمی دن پر مطالبہ کرتے ہیں کہ تمباکو کی صنعت کے منافع سے ذیادہ صحت کو ترجیح دی جائے۔ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے سخت قوانین بنائے جارہے ہیں جبکہ پاکستان کی عوام حکومت کی جانب سے سگریٹ کی ڈبیوں پر 85فیصد تصویری انتباہ سے متعلق جنوری 2015میں کیے گئے فیصلے پر گزشتہ دوسال سے عملدرآمد کی منتظر ہے ۔ سگریٹ نوشی سے متعلق تصویری انتباہ سے نہ صرف سگریٹ نوشی کرنے والا شخص سگریٹ پینے سے محتاط رہتا ہے بلکہ اس کے ارد گرد کے لوگ بھی تمباکونوشی سے محتاط رہتے ہیں ۔ لیکن بدقسمتی سے یہ عوام کی صحت سے متعلق تصویری انتباہ کا فیصلہ تاحال حکومت کی جانب سے عملدرآمد کا منتظر ہے ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں حکومت سگریٹ کی ڈبیوں پر 85فیصد تصویری انتباہ کے فیصلے پر عملدرآمد فوری یقینی بنائے تاکہ ہمارے بچے اور نوجوان نسل تمباکو نوشی کی وباء سے محفوظ رہ سکیں ۔555000سے زیادہ بچے ہر دن تمباکو کا استعمال شروع کرتے ہیں نوجوان نسل ہر ملک کا مستقبل کا معمار سمجھی جاتی ہے اگر نوجوان نسل صحت مند نہیں ہوگی تو اس کا مطلب ہمارے ملک کا مستقبل خطرہ میں ہوگا ،عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق 80فیصد سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کم اور متوسط آمدنی والے ملکو ں میں رہتے ہیں ۔ جہاں صحت کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے تمباکو نوشی کے استعمال سے انسانی صحت کے نقصانات ذیادہ ہوتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے پیداواری صلاحیت اور صحت کی دیکھ بھال کی لاگت میں سالانہ ایک ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -