ایکسائز انسپکٹر کیخلاف مقدمہ درج نہ کرنے پر اینٹی کرپشن حکام سے وضاحت طلب

ایکسائز انسپکٹر کیخلاف مقدمہ درج نہ کرنے پر اینٹی کرپشن حکام سے وضاحت طلب

  

ملتان(کرائم رپورٹر)لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے شہری کے گھر داخل ہوکر اہل خانہ کو زدوکوب اورہراساں کرنے ،حبس بے جا میں رکھنے پر اینٹی کرپشن کی جانب سے ایکسائز (بقیہ نمبر16صفحہ12پر )

انسپکٹر کے خلاف مقدمہ کا اندراج نہ کرنے پر وضاحت طلب کرلی ۔شیر شاہ القریش کے رہائشی محمد اکبر نے ڈاریکٹر اینٹی کرپشن ملتان کو درخواست دی جس میں موقف اختیار کیا کہ وہ پیشے کے اعتبار سے پراپرٹی ڈیلر ہے۔29ستمبر 2014کی رات وہ اپنے گھر پر موجود تھا ،اس کے گھر کے باہر سرکاری ڈالے میں ایکسائز انسپکٹرشیخ سکندر 6 اہلکاروں کے ہمراہ آیا اور زبردستی مکان میں داخل ہوگیا ۔اہل خانہ سے بدتمیزی کی پور ا سامان اُٹھا کر باہر پھینک دیا۔اور مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ،بعدازاں میرے حقیقی بھائی ظفر کو اس نے فون کروایا اور کہا کہ 5لاکھ روپے دو ورنہ اسے مختلف مقدمات میں پھنسا دوں گا،جس پر میرے بھائی نے زیور بیچ کر 2 لاکھ 6ہزار روپے اسے دیے اس نے مجھے چھوڑ دیا،جب اس سے رابطہ کر کے رقم کا تقاضہ کیا تو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ جس پر معاملے کی اینٹی کرپشن ملتان نے دو مرتبہ مختلف افسران سے واقعہ کی انکوائری کروائی دونوں انکوائریوں میں ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندر کے خلاف الزامات ثابت ہوگئے،اور مقدمہ کے اندراج کی سفارش کی گئی تاہم ملزم کے بااثر ہونے کے باعث مقدمہ درج نہ ہوسکا،اس حوالے سے متاثرہ شخص محمد اکبر نے ہائی کورٹ ملتان سے دادرسی کے لیے رجوع کر لیا۔ جس پر عدالت عالیہ نے مقدمہ درج نہ کرنے پر اینٹی کرپشن حکام سے وضاحت طلب کرلی ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -