پاکستان کا وہ نواں بڑااور دنیا کا مشہور شہر جسے چور پور کے نام سے پکارا جاتا تھا مگر اللہ کے ایک ولی کی نگاہ نے اسکی تقدیر بدل ڈالی

پاکستان کا وہ نواں بڑااور دنیا کا مشہور شہر جسے چور پور کے نام سے پکارا جاتا ...
پاکستان کا وہ نواں بڑااور دنیا کا مشہور شہر جسے چور پور کے نام سے پکارا جاتا تھا مگر اللہ کے ایک ولی کی نگاہ نے اسکی تقدیر بدل ڈالی

  

لاہور( ڈیل پاکستان آن لائن )قیام پاکستان کے بعد کراچی تجارتی اور اہم ترین شہر ہونے کی وجہ سے پاکستان کا دارالحکومت بھی تھا لیکن صدر ایوب خان نے انتظامی،دفاعی اور جغرافیائی تحفظات کے پیش نظر دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دیا تو راولپنڈی کے قریب مارگلہ کے پہاڑوں کے درمیان جس جگہ دارالحکومت آباد کرنے کے لئے جگہ خریدی گئی یہ نورپورشاہاں کا علاقہ تھا جو اس سے پہلے چور پور کہلاتا تھا ۔چور پور سے نورپورشاہاں اور پھر 1968 میں اسلام آباد قائم ہونے تک اس خطہ کی داستان کا باب کھولا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں پوٹھوہار میں اسلام کا نور پھیلانے کے لئے حضرت بری امام سرکارؒ نے قدم رنجہ فرمایا۔یہ روایت بہت معروف ہے کہ اسلام آباد کے نام کی وجہ تسمیہ آپؒ کی دعا کی قبولیت بنی ۔یہ علاقہ چوروں اور اسلام دشمنوں سے آباد تھا لیکن آپؒکے رشد وہدایت سے چور گناہوں سے تائب ہوگئے۔

حضرت بری امام سرکارؒ نے 17ویں صدی میں جب یہاں ولایت کا پودا نصب کیا توارشاد فرمایا تھا کہ لوگو جان لو کہ نور پور پوٹھوہار ایک دن توحید کا مرکز بنے گا۔وقت نے آپ ؒ کی پیش گوئی سچ کر دکھائی اور آج یہاں پاکستان کا نواں بڑا شہر آباد ہوچکاہے ۔ حضرت بری امامؒ نے فقہ اور حدیث کی تعلیم نجف اشرف سے حاصل کی اور اس کے بعد آپؒ مقدس مقامات کی زیارت کیلئے مکہ معظمہ مدینہ منورہ ، کربلائے معلّی اوردوسرے اسلامی ممالک میں تشریف لے گئے اور وہاں موجود جید علماء اور اولیائے سے مزید دینی علوم اور روحانی فیوض حاصل کئے۔ حضرت بری امامؒ کایہ سفر بارہ سال پر محیط ہے۔ انہیں بری امام کا لقب ان کے مرشد حضرت حیات المیر ہی نے عطا کیا تھا۔ ایک مرتبہ آپ ؒ پوٹھوہار کی جانب محو سفر تھے،ابھی آپؒ نے چار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہوگا کہ اچانک جنگل سے چند ڈاکو نکلے اور انہوں نے لوٹنے کی غرض سے آپؒ کا راستہ روک لیا مگر جونہی ان کی نگاہ باطل آپؒ کے چہرہ مبارک پر پڑی اور انہوں نے آپؒ کی گفتگو سنی تو جرائم سے ہمیشہ کیلئے تائب ہوگئے اور اسی وقت آپؒ کے ہاتھ پر بیعت کرکے آپؒ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے۔ آپؒ نے یہیں اقامت اختیار کرکے تبلیغ کا کام شروع کردیا اور اس طرح چور پور میں اسلام کے نور کی روشنی پھیلا کر اسے ہمیشہ کیلئے نور پور بنا دیا۔ یہ وہی نور پور شاہاں ہے جہاں آج آپؒ کا مزار مبارک ہے اور ہزاروں لوگ یہاں اپنی عقیدتوں کا اظہار کرنے آتے ہیں اور فیض باطن حاصل کرتے ہیں۔

مزید :

رئیل سٹیٹ -