افغانستان کو سرحد سمیت تمام معاملات مل بیٹھ کر حل کرنے کی دعوت، اختلاف رائے غیر فطری نہیں لیکن یہ خیر کا باعث ہونا چاہیے: ممنون حسین

افغانستان کو سرحد سمیت تمام معاملات مل بیٹھ کر حل کرنے کی دعوت، اختلاف رائے ...
افغانستان کو سرحد سمیت تمام معاملات مل بیٹھ کر حل کرنے کی دعوت، اختلاف رائے غیر فطری نہیں لیکن یہ خیر کا باعث ہونا چاہیے: ممنون حسین

  

 اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ سیاسی عمل کو افراتفری اور گروہی مفاد سے آزاد ہونا چاہیے اور افغانستان کو باہمی معاملات مل بیٹھ کر حل کرنے کی دعوت دیدی اور گزشتہ روز ہونیوالے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے افغان عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔ان کاکہناتھاکہ افغانستان میں امن کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں ۔ ’’مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیئے‘‘۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران صدر مملکت نے کہا کہ سیاسی عمل کو افراتفری اور گروہی مفاد سے آزاد ہونا چاہیے، اختلاف رائے غیر فطری نہیں لیکن یہ خیر کا باعث ہونا چاہیے، اختلاف رائے سے ترقی کا عمل رکنا نہیں چاہیے، پاکستان میں جمہوریت نےکئی نشیب و فراز دیکھے، جمہوریت نے قوم کی ترقی کی کئی منازل طے کی ہیں۔ پارلیمنٹ کا مقاصد کے حصول کے لیے سفر جاری ہے، پارلیمنٹ نے مشکل حالات میں قومی اتحاد کا ثبوت دیا جس کی وجہ سے تاریخ اس پارلیمنٹ کا کردار ہمیشہ یاد رکھے گی۔پاکستان کے ایٹمی اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ ترقی کے دھارے میں سب کو شامل کیا جانا ضروری ہے، پیچھے رہ جانے والوں کو قومی دھارے میں لانے کا احساس قوی ہورہا ہے، بلوچستان کا احساس محرومی ختم کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔ معاشرے کا ہر طبقہ قومی تعمیر نو میں حصہ ڈالے۔ شرح نمو گزشتہ 10 سال کی بلند ترین سطح پر ہے،عالمی بینک نے  پاکستان کو بہترین کارکردگی والی معیشتوں میں سے ایک قرار دیا ہے،  آیندہ بجٹ میں ترقیاتی بجٹ میں تین گنا اضافہ کیا گیا ہے۔

صدر مملکت نے کہاکہ افغانستان نے بھی بہت نقصان اٹھایا ہے ، سرحدی اور دیگر معاملات مل بیٹھ کر حل کرنے کی دعوت دیتا ہوں، گزشتہ روز بھی جن لوگوں نے کابل میں دہشتگردی کی ، ان کی مذمت اور افغان عوام و حکومت کیساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور دکھ کی ہر گھڑی میں ان کیساتھ ہیں۔ 

صدر مملکت ممنون حسین نے کہا  کہ پاکستان میں جمہوریت نے بڑے نشیب و فراز دیکھے اور جمہوریت نے قوم کی حمایت سے بڑے معرکے سر کیے ۔ دوسروں پر ذمہ داری ڈالنا قوموں کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے ، معاشرے کا ہر طبقہ قومی تعمیر نو میں اپنا حصہ ڈالے ۔قومی ترقی کو متنازع بنانے کا ہر عمل ناکام بنانا ہے۔ضرب عضب کی طرح آپریشن رد الفساد بھی جلد کامیابی سے ہمکنار ہو گا اور ملک امن کا گہوارہ بنے گا۔بھارت لائن آف کنٹرول پر مسلسل جارحیت کامظاہرہ کر رہا ہے۔

قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کی شدید اور مسلسل نعرے بازی کے دوران خطاب کرتے ہوئے انکا کہنا تھاکہ مقاصد کے حصول کیلئے سفر جاری رہے گا اور تاریخ میں اس پارلیمنٹ کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ سی پیک اور توانائی کے منصوبے ملکی ترقی کی نوید ہیں ۔ بے شمار چیلنجز کے باوجود پارلیمنٹ نے اپنی فیصلہ کن حیثیت برقرار رکھی ۔ سیاسی عمل کو انفرادی اور گروہی عمل سے آزاد ہونا چاہیے تاہم اختلاف رائے کا پیدا ہونا کوئی غیر فطری بات نہیں ۔ کشمیریوں کی سفارتی ، اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ اجلا س کے دوران اپوزیشن ارکان نے گور نواز گو کے نعرے بھی لگائے اور پھر ایوان سے واک آﺅٹ کر دیا ۔اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت تینو ں مسلح افواج کے سربراہان اور غیر ملکی سفارتکار بھی شریک تھے۔

انکا کہنا تھا کہ عالمی اداروں کا پاکستانی معیشت میں اعتماد بڑی کامیابی ہے ۔ہماری جمہوریت آزمائش کی گھاٹیوں سے گزری ہے ۔ حال ہی میں بجلی کی پیداوار کے کئی منصوبے مکمل ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالی نے پاکستان کو بے پناہ قدرتی حسن سے نوازاہے۔ امن و امان کی بہتر ہوئی صورت حال کے باعث دنیا بھر سے پاکستان میں سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد کی توقع ہے اس لیے حکومت سے امید کرتا ہوں کی سیاحتی مقامات کی بحالی اور ترقی پر توجہ دے گی ۔

پاک چین دوستی ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہے دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون میں مزید اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔ ون بیلٹ ون روڈ میں ہماری شرکت مفید ثابت ہوئی ہے جس کے دور س نتائج نکلیں گے ۔ہم چاہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تمام مسائل بات چیت سے حل کیے جائیں مگر افسوس ہے کہ دوسری جانب سے اسکا کوئی موثر جواب نہیں دیا گیا بلکہ پاکستان میں جاسوسی کر کے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور بے گناہ شہریوں کو شہید کر رہا ہے جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔ اختلاف رائے سے ترقی کا عمل نہیں رکنا چاہیے۔ قومی ترقی کو متنازع بنانے کا ہر عمل ناکام بنانا ہے ۔

صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے ، زر مبادلہ کے ذخائر بلند ترین اور افراط زر کم ترین سطح پر ہے جبکہ شرح نمو دس سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔برآمدات میں اضافے کیلئے مارکیٹنگ میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے ´۔ توانائی بحران کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی ۔ صحت اور تعلیم کے شعبہ میں مزید توجہ کی ضرورت ہے ۔امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ زراعت کو سب سے بڑا چیلنج موسمیاتی تبدیلی ہے ۔ ملک بھر میں مزید ہسپتال اور میڈیکل یونٹس قائم کیے جائیں گے ۔ بینظیر انکم سپورٹ میں تین گناہ اضافہ خوش آئند ہے ۔ ماضی میں سیاحت کا شعبہ ترقی سے محروم رہا ۔

انہو ںنے افغان دارالحکومت کابل میں ہونے والے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے تعلیم کا کردار انتہائی اہم ہے ۔پاکستان اور چین کے تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مستحکم ہو رہے ہیں ۔ پاکستان افغانستان میں امن عمل کے فروغ کا خواہاں ہے ۔ روس کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقا ت چاہتے ہیں۔خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -