سپریم کورٹ رجسٹرار پر لگنے والے الزامات اصل میں جج صاحبان پر لگائے گئے، سپریم کورٹ فل بنچ بنا کر معاملے کی تہہ تک جائے: اعتزاز احسن

سپریم کورٹ رجسٹرار پر لگنے والے الزامات اصل میں جج صاحبان پر لگائے گئے، ...
سپریم کورٹ رجسٹرار پر لگنے والے الزامات اصل میں جج صاحبان پر لگائے گئے، سپریم کورٹ فل بنچ بنا کر معاملے کی تہہ تک جائے: اعتزاز احسن

  

اسلام آبا د(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماءاور سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے متعلق چلنے والی خبر میں لگنے والے الزامات دراصل سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر لگائے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ فل بینچ بنائے اور معاملے کی تہہ تک جائے کیونکہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان یا کم از کم بنچ میں بیٹھے 3 جج صاحبان پر من گھڑت الزام لگایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ طلوع آفتاب سے پہلے معروف سٹیج اداکارہ کی شیخ رشید کیساتھ ایسی تصویر سوشل میڈیا پر آ گئی کہ تہلکہ مچ گیا، دیکھنے والوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں

پارلیمینٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ میڈیا میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے متعلق چلنے والی خبر انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ جس میں کہا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے ایس ای سی پی کے سربراہ اور سٹیٹ بینک کے گورنر کو فون کر کے کہا کہ جے آئی ٹی کیلئے فلاں فلاں نام بھیجیں۔

بظاہر یہ الزام سپریم کورٹ کے رجسٹرار پر ہے، کہ اس نے دھاندلی کرنے کی کوشش کی مگر اصل میں یہ الزام سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر ہے، کیونکہ رجسٹرار کی مجال اور مقام نہیں کہ وہ اس قسم کا کام کرے، میں نہیں مانتا لیکن اگر رجسٹرار نے یہ کیا ہے تو وہ چیف جسٹس کے کہنے یا بینچ کے سینئر جج کے کہے بغیر نہیں کر سکتا اور اس طرح جج صاحبان کو ملوث کیا جا رہا ہے تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ جج صاحبان نے میرٹ پر نہیں بلکہ اپنا مقصد حاصل کرنے کیلئے منظور نظر افراد کو جے آئی ٹی میں نامزد کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ الزام رجسٹرار پر نہیں ہے بلکہ براہ راست ججز پر ہے، اور یہ نواز شریف کی سازش ہے کہ وہ بینچ کو، سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کو اتنا متنازعہ کر دینا چاہتا ہے کہ اس سے یہ محسوس ہو کہ جو فیصلہ آئے گا وہ ان کے خلاف پہلے سے طے شدہ تھا۔ نواز شریف نے یہ سازش اس لئے کی ہے کیونکہ ان کے پاس جواب نہیں ہے، منی ٹریل نہیں، ثبوت نہیں کہ کس طرح پیسہ لندن گیا اور فلیٹ خرید ے گئے۔

اگر ان کے پاس ثبوت ہوتا تو پہلے دن سامنے رکھتے اور معاملہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا، نہ نعرے لگتے اور نہ کوئی مسئلہ ہوتا، نواز شریف مزے میں حکومت کرتا اور بچے مزے سے کاروبار کرتے، یہ سب نواز شریف نے خود کروایا ہے اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو ملوث کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ طیارہ گر کر تباہ، شاہ رخ خان سمیت کئی افراد ہلاک، ایک خبر جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا لیکن پھر۔۔۔

سینیٹر اعتزاز احسن نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اس معاملے پر فل کورٹ بنچ بنائے اور اس خبر کی تہہ تک پہنچا جائے، کیونکہ اس میں چیف جسٹس خود، یا وہ کم از کم تین سینئر جج صاحبان جو بینچ پر بیٹھے ہیں، ان پر من گھڑت الزام لگا دیا گیا ہے، کیونکہ یہ ایک دفعہ نہیں بلکہ 2 سے 3 دن میڈیا پر خبر جاری ہوئی، اس کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -