اگر معاملات قانون کے مطابق چلتے ہیں تو ٹھیک ورنہ سپریم کورٹ اور عوام کے سامنے جائیںگے:حسین نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو

اگر معاملات قانون کے مطابق چلتے ہیں تو ٹھیک ورنہ سپریم کورٹ اور عوام کے سامنے ...
اگر معاملات قانون کے مطابق چلتے ہیں تو ٹھیک ورنہ سپریم کورٹ اور عوام کے سامنے جائیںگے:حسین نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا ہے کہ اگر معاملات قانون کے مطابق چلتے ہیں تو ٹھیک ورنہ سپریم کورٹ اور عوام کے سامنے جائیںگے۔

’خواتین کو شریف اور نرم مزاج مرد پسند نہیں آتے کیونکہ۔۔۔‘ جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے ایسا حیران کن انکشاف کردیا کہ جان کر ہر مرد کا منہ کھلا کا کھلا رہ جائے,خبر پڑھنے کیلئے کلک کریں

تفصیلات کے مطابق جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسین نواز کا کہنا تھا کہ میرے خاندان کے خلاف کوئی ثبوت ہے ہی نہیں تو سامنے کیسے آئے گا، وزیراعظم ،میرے یا میرے بھائی بہن کے خلاف کسی بے ضابطگی کا ثبوت نہیں ،کسی کے رویے پر بات نہیں کروں گا، میں نے سب سوالات کا جواب دیا، وہ مطمئن ہوئے یا نہیں ان سے پوچھیں۔

وزیراعظم کے صاحبزادے نے مزید کہا کہ حسین سہروردی کے بعدہمارےساتھ ہی یہ سب ہوتارہاہے، قید تنہائی میں پوچھ گچھ ہوتی تھی وکیل ،خاندان اور بچوں سے ملنے نہیں دیاجاتاتھا۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے ساتھ طویل سیشن اٹینڈ کرکے آیا ہوں، مجھے دو گھنٹے انتظار بھی کرایا گیا، ہمیں وکیل کو ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور مجھے دوبارہ بھی بلایا گیا ہے ابھی سمن نہیں ملا جلد مل جائے گا۔

حسین نواز نے ایک سوال پر پنجابی کی کہاوت سناتے ہوئے کہا کہ لسی اور لڑائی کا بڑھاوا ہی ہوتا ہے اس کا آخر کوئی نہیں ہوتا۔واضح رہے کہ پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی نے آج تیسری پیشی میں حسین نواز سے 6 گھنٹے سے زائد پوچھ گچھ کی جس میں حسین نواز نے تمام سوالات کے جوابات دیئے اور کاروبار کی تفصیلات و ٹیکس ریٹرنز جمع کرائے جبکہ اثاثوں کی دستاویزات سمیت تمام شواہد بھی جمع کرادیئے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -