پانچویں روزے کی اسلامی تاریخ میں کیا اہمیت ہے؟ جانئے وہ باتیں جو آپ کو معلوم نہیں

پانچویں روزے کی اسلامی تاریخ میں کیا اہمیت ہے؟ جانئے وہ باتیں جو آپ کو معلوم ...
پانچویں روزے کی اسلامی تاریخ میں کیا اہمیت ہے؟ جانئے وہ باتیں جو آپ کو معلوم نہیں

  

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی تاریخ میں پانچویں روزے کی کیا اہمیت ہے، تہذیبی ورثے کے ماہر اور تحقیق کار وسیم عفیف نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ایسی تاریخی معلومات بہم پہنچائی ہیں جو بہت کم لوگ جانتے تھے۔ العریبیہ کی رپورٹ کے مطابق وسیم عفیف نے بتایا ہے کہ ”5رمضان المبارک 113ہجری کو مسلم سلطنت کے بانی عبدالرحمن اول پیدا ہوئے تھے۔ اسی روز 1342ہجری میں لیبیا کے باغیوں اور اطالوی سامراجی طاقتوں کے مابین توبروک کے مقام پر جنگ کا آغاز ہوا تھا اور 1367ہجری کو فلسطین میں لیدا (Lydda)قتل عام ہوا تھا۔

خانہ کعبہ کے گرد کسی کو نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہو گی تاکہ۔۔۔ سعودی حکومت نے واضح ہدایات جاری کر دیں

وسیم عفیف کے مطابق عبدالرحمن اول کو ان کے سیاسی مخالف دوسرے عباسی خلیفہ ابو جعفرالمنصور کی طرف سے ’سقر قریش‘ کا لقب دیا گیا تھا جس کے معنی ’قریش کا باز‘ کے ہیں۔عبدالرحمن اول بنو امیہ کے دور میں دمشق میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا۔ جب سلطنت بنو امیہ کا خاتمہ ہوا، عبدالرحمن ایک سے دوسرے ملک سفر کرتا رہااو ر ایک مضبوط فوج تیار کرنے کے بعد انہوں نے اندلس میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ 138ہجری میں انہوں نے اندلس کو فتح کر لیا۔ اسی طرح دیگر مذکورہ واقعات کی طرح 5رمضان المبارک کو اسرائیل نے فلسطینیوں کا قتل عام کیا جس میں 426لوگ شہید کیے گئے۔فلسطینیوں کی جوابی کارروائیوں میں 60اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔

مزید :

Ramadan News -