نہال ہاشمی کیس، معز ز جج کے ریمارکس افسوسناک اور سپریم کورٹ کے ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے: ترجمان حکومت پاکستان

نہال ہاشمی کیس، معز ز جج کے ریمارکس افسوسناک اور سپریم کورٹ کے ضابطہ اخلاق ...
نہال ہاشمی کیس، معز ز جج کے ریمارکس افسوسناک اور سپریم کورٹ کے ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے: ترجمان حکومت پاکستان

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومت پاکستان کے ترجمان نے سپریم کورٹ میں نہال ہاشمی توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران ایک معزز جج کے مبینہ ریمارکس پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اعلیٰ عدلیہ کی روایات اور خود سپریم کورٹ کے ضابطہ اخلاق کے منافی قراد دیا ہے ، ترجمان کا کہنا تھا کہ معزز جج نے دوران سماعت معاملے کی مکمل آگاہی کے بغیر حکومت پر نہ صرف بے بنیاد الزامات لگائے بلکہ وزیر اعظم کی جانب سے نہال ہاشمی کے خلاف اٹھائے گئے تادیبی اقدامات کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے محض سپریم کورٹ کی سماعت اور توہین عدالت نوٹس کا ردعمل قرار دیا۔

حکومتی ترجمان کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ حقائق نہ صرف اس کے برعکس ہیں بلکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا تمام ریکارڈ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ حکومت نے نہال ہاشمی کے ریمارکس کے سامنے آتے ہی نہ صرف ان پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا بلکہ فوری طور پر انہیں ان کی ذاتی سوچ کا عکاس قرار دیا۔ یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ یہ ریمارکس پہلی مرتبہ31مئی2017ءکو صبح 10بج کر50منٹ پر الیکٹرانک میڈیا پررپورٹ ہوئے۔جس کے فورا بعد وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے واضح طور پر اعلان کیا کہ یہ نہال ہاشمی کے ذاتی خیالات ہیں جن کا مسلم لیگ (ن) یا حکومت پاکستان سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ وزیراعظم صبح سے قومی سلامتی سے متعلق اداروں اور ان کے سربراہان کے ساتھ میٹنگز میں رہے اور اجلاس ساڑھے تین بجے ختم ہوا جب کہ اجلاس کے بعد وزیراعظم کے نوٹس میں معاملہ آتے ہی وزیراعظم نے فوراً نہال ہاشمی کی پارٹی رکنیت معطل کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کردیا۔ اسی وقت انہیں وزیر اعظم ہاﺅس طلب کیا گیا اور کسی مناسب جواب نہ ملنے پر انہیں فوری طور پر سینٹ کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے احکامات بھی دئیے گئے یہ بات بھی ریکارڈ کاحصہ ہے کہ سینیٹر نہال ہاشمی 5بجکر30منٹ پر سینٹ سیکرٹریٹ میں ذاتی طور پر پیش ہوئے اور سیکرٹری سینٹ کو اپنا تحریر شدہ استعفیٰ جمع کرادیا جس کی باقاعدہ اطلاع سیکرٹری سینٹ نے بذریعہ ٹیلیفوں چیئرمین سینٹ جناب رضا ربانی کو بھی دی جبکہ سپریم کورٹ کی طرف سے اس معاملے پر نوٹس شام6بجے لیا گیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ دوران سماعت ایک معزز جج کی جانب سے حکومت کو SICILIANمافیا اور اٹارنی جنرل کو اس کا نمائندہ قراد دینا انتہائی افسوسناک ہے جس س دنیا بھر میں ایک ملک کی حیثیت سے پاکستان کی شناخت اور وقار کو دھچکا لگا ترجمان نے مزید کہا کہ ایسے بے بنیاد ریمارکس سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز صاحبان کے حلف اور ضابطہ اخلاق کے منافی ہیں۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -