وہ آدمی جو 15 سال تک روزانہ انڈے کھاتا رہا،نتیجے میں جسم میں کیا تبدیلی آئی،دیکھ کر ڈاکٹرز بھی حیران رہ گئے

وہ آدمی جو 15 سال تک روزانہ انڈے کھاتا رہا،نتیجے میں جسم میں کیا تبدیلی ...
وہ آدمی جو 15 سال تک روزانہ انڈے کھاتا رہا،نتیجے میں جسم میں کیا تبدیلی آئی،دیکھ کر ڈاکٹرز بھی حیران رہ گئے

  

لندن (نیوز ڈیسک ) انڈے کا شمار لذیز ترین اور مفید ترین غذاﺅ ں میں ہوتا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ انڈوں میں معمول سے زیادہ دلچسپی کا ذکر بھی کریں تو ہر کوئی آپ کو خبردار کرنے لگے گا کہ یہ بہت گرم غذا ہے ، اس کی وجہ سے کولیسٹرول میں اضافہ ہو جاتا ہے اور نجانے دیگر کون کون سے مسائل آپ کو بتائے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ انڈوں کو بے حد پسند کرنے کے باوجود ان کا استعمال انتہائی محدود رکھتے ہیں ، لیکن دوسری جانب امریکی سائنسدان ڈاکٹر رکی لیوس انڈوں کے بارے میں ہمیں ایک انتہائی حیرت انگیز بات بتا رہے ہیں۔

ویب سائٹ blogs.plos.orgپر شائع ہونے والے ایک مضمون میں ڈاکٹر رکی لیوس ایک ایسے شخص کی کہانی بیان کرتے ہیں کہ جو 88 سال کی عمر میں بھی روزانہ 25 ابلے ہوئے انڈے کھاتا تھا، اور اس کے باوجود بالکل صحت مند تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی من گھڑت کہانی نہیں بلکہ 1991 میں سائنسی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن نے میں اس شخص کے بارے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی۔ اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد یونیورسٹی آف کولو راڈو سکول آف میڈیسن کے سائنسدان ڈاکٹر فریڈ کیرن نے اس شخص پر تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے روزانہ 25انڈے کھانے والے معمر شخص کے کولیسٹرول اور دیگر بائیو کیمیکلز کا موازنہ ان لوگوں سے کیا جو انڈے نہیں کھاتے تھے، اور جو بہت کم انڈے کھاتے تھے۔ ڈاکٹر فریڈ کی تحقیق کے نتیجے میں کچھ انتہائی دلچسپ معلومات حاصل ہوئیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جو لوگ انڈے بہت کم کھاتے تھے ان کا جسم دیگر غذاسے زیادہ کولیسٹرول حاصل کرتا تھا، جس کی شرح تقریبا 54.6 فیصد تھی۔ اس کے برعکس نسبتاً زیادہ انڈے کھانے والوں میں اس کی شرح نسبتاً کم تھی ، اور معمر شخص جو کہ روزانہ 25 انڈے کھاتا تھا اس کا جسم دیگر غذا سے صرف 18 فیصدکولیسٹرول لے رہا تھا۔ ڈاکٹر فریڈ نے حیرت ناک نتیجہ اخذ کیا کہ روزانہ 25 انڈے کھانے کے باوجود معمر شخص کے جسم میں مضر صحت کولیسٹرول کی زیادتی نہیں تھی، اور اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ اس کا جسم کولیسٹرول کو بیلنس رکھنے کیلئے دیگر غذاﺅں سے کولیسٹرول جذب نہیں کرتا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جسم کے اندر زیادہ تر کولیسٹرول جگر سے پیدا ہوتا ہے ، جبکہ غذا سے حاصل ہونے والے کولیسٹرول کی مقدار نسبتاً کم ہو تی ہے۔

ڈاکٹر رکی لیوس کہتے ہیں کہ آئے روز کوئی ایسی رپورٹ سامنے آتی ہے جس میں کولیسٹرول کے نقصانات کا ذکر کیا جاتا ہے اور لوگوں کو انڈے کھانے سے ڈرایا جاتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسی کوئی بھی رپورٹ دیکھ کر ان کے ذہن میں روزانہ 25 انڈے کھانے والے شخص کا واقعہ گردش کرنے لگتا ہے، اور وہ سوچنے لگتے ہیں کہ کیا واقعی انڈوں کا بکثرت استعمال کولیسٹرول میں اضافہ کرتا ہے، یا یہ کہانیاں مخصوص مفادات کے تحت پھیلائی جاتی ہیں۔

مزید :

تعلیم و صحت -