’جن انسانوں میں یہ ایک چیز ہو وہ ایڈز کا شکار نہیں ہوتے‘ جدید تحقیق میں انتہائی حیران کن انکشاف منظر عام پر، جان کر آپ بھی خدا کی قدرت پر عش عش کر اُٹھیں گے

’جن انسانوں میں یہ ایک چیز ہو وہ ایڈز کا شکار نہیں ہوتے‘ جدید تحقیق میں ...
’جن انسانوں میں یہ ایک چیز ہو وہ ایڈز کا شکار نہیں ہوتے‘ جدید تحقیق میں انتہائی حیران کن انکشاف منظر عام پر، جان کر آپ بھی خدا کی قدرت پر عش عش کر اُٹھیں گے

  

کیپ ٹاﺅن(مانیٹرنگ ڈیسک) جنوبی افریقہ میں 170ایسے بچوں کا انکشاف ہوا ہے جو پیدائشی طور پر ایڈز کے وائرس کا شکار تھے مگر آج تک ان میں مرض کے آثار نظر نہیں آتے اور نہ ہی کبھی آئیں گے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ان تمام بچوں کی عمریں 5سال ہیں جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں۔ ایچ آئی وی کے وائرس ماں کے پیٹ سے ان بچوں میں آئے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ان بچوں پر تحقیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ان تمام بچوں میں ایک منفرد قسم کا کمزور مدافعتی نظام پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے اندر موجود ایچ آئی وی کے وائرس نشوونما نہیں پا سکتے اور کبھی ایڈز کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکتے۔

تحقیقاتی ٹیم کے رکن ڈاکٹر فلپ گولڈر کا کہنا ہے کہ ”ان بچوں کو ایک منفرد نوعیت کا کمزور مدافعتی نظام ایڈز سے بچا رہا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایڈز کے وائرس مدافعتی نظام کے چند خلیوں کو ہی نشانہ بناکر نشوونما پاتا ہے۔ ان بچوں کے خلیوں پر ریسیپٹر پروٹین کا لیول بھی بہت کم ہے۔اس پروٹین کا نام سی سی آر5ہے۔ عموماً ایچ آئی وی کے وائرس اسی پروٹین کے ذریعے خلیوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔اس پروٹین کے بغیر ایچ آئی وی کے وائرس کے پاس خلیے تک پہنچنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ اگر کوئی ہے بھی تو اس کے ذریعے وائرس کی نشوونما نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ لہٰذا ان بچوں کے خلیوں پر اس پروٹین کی تہہ کا نہ ہونا ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں اور یہ اپنے جسم میں ایچ آئی وی وائرس کی موجودگی کے باوجود، بغیر کسی دوا کے ایک صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔“

مزید :

تعلیم و صحت -