معاشی منصوبوں کی حفاظت ضروری ہے

معاشی منصوبوں کی حفاظت ضروری ہے
معاشی منصوبوں کی حفاظت ضروری ہے

  

پاکستان کے ممتاز بزنس لیڈر سارک چیمبر کے سینئر نائب صدر اور فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر رہنما افتخار علی ملک نے درست کہا ہے کہ سیاسی عدم استحکام سے70 فیصد کاروبار ختم ہوجائیں گے۔ کاروباری برادری کے رہنماؤں کی طرف سے سیاسی خلفشار اور افراتفری سے اقتصادی نقصانات سے دوچار ہونے کے اندیشوں کا اظہار یقینی طور پر گزشتہ چار سال کے دوران پاکستان میں شروع اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں سیاسی خلفشار سے پیدا ہونے والی سست روی کے پیش نظر کیا جارہا ہے۔

عوامی بھلائی اور معاشی ترقی کے بڑے بڑے منصوبوں کی تکمیل پر صلاحیتیں اور محنتیں صرف کرنے اور انہیں مکمل کرنے کے ساتھ سا تھ دوسری طرف سے انہیں سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے اور ناکام بنانے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔

ٹرانسپورٹ کے عظیم الشان منصوبے میٹرو بس کو جنگلا بس کہہ کر حقیر و بے فائدہ ثابت کرنے کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں، دوست ملک چین کے اشتراک و تعاون سے شروع کردہ سی پیک کی تعمیر میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی سازشیں کی گئیں، یہاں تک کہ چین کی قیادت کو منصوبہ کی سرپرستی سے دستکش ہونے کی ترغیب دلائی گئی۔

لاہور میں عام آدمی کی ٹرانسپورٹ سہولتوں میں گرانقدر اضافے کے لئے اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ شروع ہوا تو اس میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہیں۔ عوام اور کاروباری طبقے کی بھرپور تائید اور لگاتار حکومتی کاوشوں سے بجلی کے متعدد منصوبے مکمل ہوکر بجلی دینے لگے ہیں۔

پنجاب حکومت کا ڈنکے کی چوٹ پر یہ اعلان اطمینان بخش اور کاروباری طبقے کے لئے حوصلہ افزا ہے کہ اس نے پنجاب میں پانچ ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی بنائی ہے، جس کی وجہ سے منیو فیکچرنگ سیکٹر کا جمود ختم اور پیدا واری عمل کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

خیبرپختونخوا اور سندھ کی حکومتوں نے شرمناک حد تک اس شعبے میں نااہلی اور ناکامی کا ثبوت دیا ہے۔ بالترتیب ستر اور زیرو میگاواٹ بجلی بنائی گئی ہے، لامحالہ ان دونوں صوبوں میں نہ تو صنعت چل سکے گی اور نہ ہی عوام کو تباہ کن لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکے گی، شاید اپنی انہی بڑی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لئے وہاں کی قیادتیں چار سال تک کامیاب حکمرانوں پر طرح طرح کی الزام تراشیوں کے بم بناتی اور چلاتی رہی ہیں۔ پاکستان کا کاروباری طبقہ بالعموم سیاسی جھمیلوں سے دور رہ کر تعمیر وطن کے لئے کاروبار چلانے اور بڑھانے پر اپنی توجہ مرتکز رکھتا ہے، اس لئے چاہتا ہے کہ آنے والے الیکشن میں سیاست دانوں کی طرف سے گزشتہ چار سال سے جاری چوری چکاری کا سلسلہ ختم کر دیا جائے۔

سیاسی سرگرمیوں کو ایسا کھیل نہ بنایا جائے کہ اقتصادی سرگرمیاں اور ترقیاتی منصوبے ان کی بھینٹ چڑھ جائیں۔ پاکستان کے نامزد نگران وزیر اعظم پاکستان کے چیف جسٹس رہے ہیں، انہوں نے اپنی صاف و شفاف کارکردگی، حب الوطنی اور امانت و دیانت کے بہت سے قابل ستائش نقوش چھوڑے ہیں۔

توقع کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان کے محب وطن کاروباری طبقے کی گزارشات پر ضرور توجہ دیں گے اور ملک کے معاشی ماحول کو خراب ہونے سے بچانے اور جاری و مکمل ترقیاتی و خوشحالی کے منصوبوں کی حفاظت کے لئے خاطرخواہ بندوبست کریں گے، اس سلسلے میں کاروباری طبقہ سیاسی جماعتوں، اعلیٰ عدلیہ، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور فوج کے ساتھ مل بیٹھ کر ایسا ضابط اخلاق تیار کیا جاسکتا ہے کہ الیکشن امیدواران انتخابی مہم کو اپنی کارکردگی بتانے تک محدود رکھیں۔

منشورکے نام پر الزامات، گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑوں تک جانے کی نوبت نہ آنے دی جائے۔ کاروبار کے لئے سرمایہ بنیادی اینٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کاروباری دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ سرمایہ پُرامن اور سازگار ماحول کی طرف جاتا ہے۔

پاکستان نے اگر ترقی کرنی ہے تو ’’ ہر کہ آمد عمارت نو ساخت‘‘ کے مصداق معاشی سرگرمیوں میں بار بار خلل اندازی کو روکنا اور ان میں تسلسل پیدا کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں پاکستان کے کاروباری طبقے نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔

ساٹھ کی دہائی میں ملکی صنعت وتجارت نے ابھی گھٹنوں کے بل چلنا شروع کیا تھا کہ ایک سیاسی حکومت نے بڑے صنعتی اداروں کو قومیانے کا تجربہ کیا۔ صنعتی اداروں کا انتظام و انصرام تجربہ اور مہارت سے چھین کر بیوروکریسی کے حوالے کر دیا۔

عظیم الشان کاروباری ادارے ناتجربہ کاری اور اقربا پروری کی بھینٹ چڑھ کر کھٹارہ بن گئے، لاکھوں مزدور اور ہنرمند بے روزگار ہوگئے، متعدد ادارے آج بھی قومیانے کے عمل کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔

اگلی حکومت کو آخرکار نجکاری کی طرف مراجعت کرنا پڑی، لیکن اس اکھاڑ پچھاڑ میں ملکی صنعت و تجارت کو ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا، اس لئے کاروباری برادری کے رہنماؤں کی خواہش ہے کہ الیکشن کو تعمیر کا ذریعہ بنایا جائے، تخریب کا موجب ہرگز نہ بننے دیا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -