انتخابات کا التوا؟ بے وقت کی راگنیاں

انتخابات کا التوا؟ بے وقت کی راگنیاں

  

بلوچستان اسمبلی نے اپنی پانچ سالہ طبعی عمر کے خاتمے کے آخری روز ایک قرارداد منظو کی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ انتخابات ایک ماہ کے لئے ملتوی کئے جائیں،قرارداد میں تجویز کیا گیا ہے کہ انتخابات جولائی کے آخری ہفتے کی بجائے اگست کے آخری ہفتے میں منعقد کرائے جائیں،قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ جولائی میں شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پولنگ سٹاف کا بیٹھنا بھی محال ہو گا، عوام انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے سکیں گے، اپوزیشن نے قرارداد پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اِسے آئین و قانون کے منافی قرار دیا اور اِس موقف کا اظہار کیا کہ یہ قرارداد جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔ پشتونخوا میپ نے قرارداد منظور ہونے پر ایوان سے واک آؤٹ کیا، وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ ہم بلوچستان کے موسم کو دیکھتے ہوئے قرارداد لائے ہیں، ہماری قرارداد غیر جمہوری اور غیر قانونی نہیں ہے۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے جہاں کی اسمبلی اور حکومت اب ختم ہو چکی ہے اور حکومت محض نگران وزیراعلیٰ کے تقرر تک عبوری عرصے کے لئے کام کر رہی ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک خط لکھ کر تجویز دی ہے کہ فاٹا کے اکیس حلقوں میں بھی انتخابات، عام انتخابات کے ساتھ ہی کرائے جائیں، اُن کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں عموماً مخلوط حکومتیں ہی بنتی ہیں،اِس لئے ایک سال بعد فاٹا میں پولنگ سے غیر یقینی سیاسی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے اور اس کے نتائج سے حکومتی اکثریت متاثر ہو سکتی ہے، صوبے میں جو حکومت قائم ہو گی وہ بھی فاٹا کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گی،جس سے فاٹا کا انتخاب شفاف نہیں ہو سکے گا۔اُن کا خیال ہے کہ ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں انتخاب ملتوی کرنے میں کوئی حرج نہیں، اطلاعات کے مطابق پرویز خٹک نے یہ خط27مئی کو لکھا تھا تاہم وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری نے کہا کہ خط میں انتخابات کے التوا کی کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی، ایم کیو ایم پاکستان نے بھی الیکشن کمیشن کو درخواست دی ہے کہ کراچی میں شفاف مردم شماری کی بنیاد پر عام انتخابات کرائے جائیں، پانچ فیصد تھرڈ پارٹی آڈٹ کیا جائے، ایم کیو ایم پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ ہماری درخواست نہ مانی گئی تو عدالت میں جائیں گے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا آئین ساٹھ دن کی اجازت دیتا ہے اسی مدت کے اندر انتخابات ہونے ہیں،جو اس کی خلاف ورزی کرے گا اس پر آئین کا آرٹیکل6 لاگو ہونا چاہئے۔

آئین میں انتخابات سے متعلق شقیں واضح ہیں اگر اسمبلی (اور صوبائی اسمبلیاں) اپنی مدت پوری کرے تو انتخابات ساٹھ دن کے اندر کرانے کے لئے آئین کا حکم موجود ہے اور اگر اسمبلی وقت سے پہلے توڑ دی جائے تو انتخابات کا انعقاد نوے روز کے اندر ہونا ہوتا ہے، اِس سلسلے میں کوئی ابہام ہے اور نہ شک و شہبے کی کوئی گنجائش، چونکہ تمام اسمبلیوں نے اپنی اپنی مدت پوری کی ہے اور یہ اچھی روایت ہے اِس لئے اس کو آگے بڑھا کر وقت پر نتخابات کا انعقاد ہی مستحسن عمل ہے، جو لوگ موسم کی بنیاد پر انتخابات کے التوا کی بات کرتے ہیں کیا اُنہیں آج پتہ چلا ہے کہ جولائی کے مہینے میں موسم گرم ہوتا ہے؟ پچھلے انتخابات11مئی کو ہوئے تھے، مئی کا موسم تو جولائی سے بھی زیادہ سخت اور گرم ہوتا ہے، درجہ حرارت بھی مئی میں زیادہ ہوتا ہے،جولائی کا موسم تو اِس لحاظ سے بہتر ہوتاہے کہ بارشوں کی وجہ سے درجہ حرارت گر جاتا ہے اور سائے میں گرمی کی وہ حدت نہیں ہوتی جو مئی میں ہوتی ہے، پنکھوں کی ہوا بھی ٹھنڈی ہو جاتی ہے،اِس لئے اگر مئی میں بخیر و خوبی انتخاب ہو سکتے ہیں تو جولائی میں بھی ہو سکتے ہیں،اہم بات یہ ہے کہ پانچ سال پہلے جب11مئی کے انتخابات کے نتیجے میں نئی اسمبلیاں اور نئی حکومتیں تشکیل پا رہی تھیں تو اسی وقت ٹھیک ٹھیک اندازہ تھا کہ اب کی بار جو اسمبلیاں اور حکومتیں بنی ہیں وہ اپنی مدت مئی کے آخر میں ہی پوری کریں گی اور انتخابات جولائی میں ہی ہوں گے، اِس لئے اگر کسی کو گرم موسم کی شکایت ہے تو اس کا حل پہلے سے تلاش کیا جا سکتا تھا کہ افہام و تفہیم سے چند ماہ پہلے اسمبلیاں ختم کر دی جاتیں تاکہ انتخابات ذرا بہتر موسم میں ہو سکتے، جب بلوچستان میں نواب ثنا اللہ زہری کے مخالف متحرک تھے اور اُن کے ساتھی اُن کے ساتھ دغا کر رہے تھے تو کسی رجلِ رشید کو خیال نہیںآیا کہ نواب زہری کو کہا جائے کہ وہ گورنر کو اسمبلی توڑنے کی سفارش کر دیں تاکہ نوے روز میں الیکشن ہو جائیں(اور اچھے موسم میں ہو جائیں) اُس وقت تو بلوچستان اسمبلی کے ارکان ایک ’’گریٹ گیم‘‘ کھیل رہے تھے جس کا مقصد پہلے مرحلے میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی اور دوسرے مرحلے میں سینیٹ کے انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کو اکثریت حاصل کرنے اور اپنا چیئرمین لانے سے روکنا تھا یہ دونوں نیک مقاصد کامیابی سے حاصل کئے جا چکے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ اِس مقصد کے لئے کروڑوں روپے خرچ کر کے ووٹ خریدنے پڑے اور اسی خریداری کی پاداش میں تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا سے اپنے بہت سے ارکان کو جماعت سے نکالا ہے۔

آئین کی نظر میں وقتِ مقررہ پر انتخابات کے انعقاد کی ایک تقدیس اور حرمت ہے،بلکہ امریکہ جیسے مُلک میں تو صدیوں سے انتخابات ہر چار سال بعد ایک مقررہ دن کو ہوتے ہیں اور کوئی اس دن سے آگے پیچھے ہونے کا تصور تک نہیں کر سکتا،2016ء کے صدارتی انتخابات سے چند روز پہلے امریکہ کی کئی اہم ریاستوں میں تباہ کن سمندری طوفان آیا تھا، جس سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی تھی اور صدر اوباما اپنی پارٹی کی انتخابی مہم چھوڑ کر تباہ شدہ ریاستوں کے دورے پر نکل کھڑے ہوئے تھے ایسے میں کسی جانب سے یہ آواز آئی کہ انتخابات ملتوی کر دیئے جائیں تو صدر اوباما نے غصے کے عالم میں یہ تجویز نہ صرف رد کر دی، بلکہ ایسی سوچ ہی کو بیمار قرار دیا۔

بدقسمتی سے ہمارے مُلک میں ایسے بیمار لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کے نزدیک آئینی شقوں کی خلاف ورزی بچوں کا کھیل ہے اور وہ ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں ’’چند دن‘‘ انتخابات میں تاخیر میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، بلکہ بعض لوگ تو ’’سالہا سال‘‘ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ انتخابات وقت پر ہو ہی نہیں سکتے،ایسے میں اگر بلوچستان اسمبلی اپنی زندگی کے آخری روز انتخابات کے التوا کی قرارداد منظور کرے گی تو اسے کیا نام دیا جائے گا؟ فرض کریں اگر دسمبر میں انتخابات ہوں تو اس وقت بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقے سردی سے ٹھٹھر رہے ہوتے ہیں تو پھر کب الیکشن کرائے جائیں؟ موسم تو ہمارے ملک میں صدیوں سے اسی طرح چلے آ رہے ہیں اور ہمارے لوگ موسموں کی سختیوں کے عادی ہیں ویسے بھی بلوچستان کے لوگ تو اتنے خوش قسمت ہیں کہ پانچ سو ووٹوں سے ایم پی اے منتخب ہوا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ وزیراعلیٰ بھی بنا جا سکتا ہے،اِس لئے گرمی کتنی بھی قیامت کی ہو، پانچ سو لوگ تو ووٹ ڈالنے آ ہی جائیں گے اِس لئے بلوچ بھائیوں کو اس سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ انتخابات کے بروقت انعقاد میں ہی قوم و ملک کی فلاح ہے، جہاں تک پرویز خٹک کی تجویز کا تعلق ہے وہ بڑی دور کی کوڑی لائے ہیں،فاٹا کا انضمام ہوا ہے تو اس کے معمولات بدلتے بدلتے ابھی کئی سال لگیں گے، پہلے وہ فاٹا کا انضمام چاہتے تھے اب انضمام کے ساتھ ہی ’’اندیشہ ہائے دور دراز‘‘ میں مبتلا ہو گئے ہیںیہ صائب سوچ نہیں، حوصلہ اور فکر بلند رکھیں، حکومت جس کسی کی بھی ہو عوام ہمیشہ درست اجتماعی فیصلہ کرتے ہیں۔ پرویز خٹک کی ذمے داری صرف اتنی ہے کہ وہ انتخابات کی تیاری کریں باقی باتیں ان لوگوں پر چھوڑ دیں جو اپنا نیک و بد اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -