زہریلے اور آلودہ پانی سے سبزیوں کی کاشت

زہریلے اور آلودہ پانی سے سبزیوں کی کاشت

  

ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سبزیوں کی کاشت کے لئے فیکٹریوں کا زہریلا اور سیوریج کا انتہائی مضر صحت پانی استعمال ہو رہا ہے۔ انتہائی آلودہ پانی سے تیار ہونے والی سبزیاں کھا کر لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ رپورت میں بتایا گیا ہے کہ زہریلے اور آلودہ پانی کے استعمال سے پورے ملک میں سبزیاں اگائی جاتی ہیں، لوگ صحت کے لئے سبزیاں استعمال کرتے ہیں لیکن وہ مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ خصوصاً پیٹ، جگر اور جلد کی بیماریاں پھیل رہی ہیں، جن شہروں اور قصبوں میں فیکٹریاں زیادہ ہیں وہاں نہری پانی میں فیکٹریوں کا کیمیکل ملا ہوا پانی شامل ہوتا ہے۔ اسی طرح جن علاقوں میں سیوریج سسٹم کی سہولت بہت کم ہے، وہاں مختلف آبادیوں کے سیوریج کو سبزیوں کی کاشت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ پچھلے بیس بائیس برسوں سے موجود ہے۔ متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی ایکشن نہ لینے سے مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ میڈیا کے ذریعے اس مسئلے کی وقتاً فوقتاً نشاندہی کی جاتی رہی اور حکومتی سطح پر یہ مسئلہ اٹھایا گیا لیکن کسی وزیر یا وزیراعلیٰ کی طرف سے لوگوں میں بیماریاں پھیلنے کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا گیا۔ سبزیوں کی کاشت کے لئے صرف مقامی آلودہ اور خطرناک پانی ہی استعمال نہیں ہو رہا۔ بھارت سے پاکستان کی طرف آنے والے بعض نالوں کا آلودہ اور مضر صحت پانی بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس پانی سے ، دالیں وغیرہ بھی کاشت کی جاتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آلودہ اور زہریلے پانی سے سبزیوں اور دالوں کی کاشت کو سختی سے روکا جائے۔ اس کے لئے آگہی مہم چلانے کی ضرورت ہے جبکہ سبزیاں اور دالیں کاشت کرنے والے کاشتکاروں اور زمینداروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ زہریلی اور آلودہ سبزیاں کھانے سے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ چکی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں بجٹ کی رقوم ہر سال بڑھانا پڑتی ہیں۔ ڈاکٹروں اور مختلف ٹیسٹوں کی سہولتوں کی کمی کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اگر آلودہ اور زہریلی سبزیوں کی کاشت روک دی جائے تو پچاس فیصد تک مریض کم ہو سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -