اعداد و شمار کا گورکھ دھندا،یو ٹرن، غیر یقینی حالات!

اعداد و شمار کا گورکھ دھندا،یو ٹرن، غیر یقینی حالات!
اعداد و شمار کا گورکھ دھندا،یو ٹرن، غیر یقینی حالات!

  

صبح جب سبزی لینے کے لئے گلی میں آنے والے پھیری والے سے ٹینڈے لینے کی کوشش کی تو زبردست جھٹکا لگا، اس نے نرخ80روپے کلو بتائے۔ اس سے پہلے خود اپنے اخبار کا مطالعہ کرتے ہوئے مارکیٹ کمیٹی کے نرخ دیکھ لئے تھے،جو 40روپے فی کلو تھے(پرچون میں) پھیری والے سے کم کرنے کو کہا تو اُس نے پانچ روپے کی رعایت کا مژدہ سنایا، اس سے نہ خریدا اور محلے کی دکان سے جا کر خریدنے کی کوشش کی تو اُس کے نرخ 100روپے فی کلو تھے اور ہمیں مستقل گاہک کی حیثیت دیتے ہوئے90روپے طلب کر لئے تھے، گھیا کدو لیا تو اس نے60روپے فی کلو مانگ لئے، ڈیڑھ کلو کے عوض بمشکل50روپے لینے پر رضا مند ہوا، جبکہ مارکیٹ کمیٹی کا نرخنامہ20روپے فی کلو بتا رہا تھا، اسی طرح جب برائلر مرغی کا پوچھا تو ڈھائی سو روپے نرخ بتایا گیا۔

یہ اخبار کے مطابق 230 روپے فی کلو ہونا چاہئے تھا،اِسی طرح درجہ بدرجہ تمام سبزیوں کے نرخ مارکیٹ کمیٹی کے نرخنامے سے کہیں زیادہ تھے۔یہ حالات ہر صارف کو ہر روز پیش آتے ہیں کہ فروٹ کی ریڑھی والے سے سیب لینے کی کوشش کی تو دیسی کالا کلو چار سو روپے کلو تھا، جبکہ نیوزی لینڈ کا درآمدی سیب350روپے کلو تک بک رہا ہے، نرخنامے میں کچھ اور ہی تحریر ہے۔ یوں ان دِنوں عام صارف قیمت دے کر بھی اللہ کی بہت سی نعمتوں سے محروم چلے آ رہے ہیں۔

بازار کے نرخ اور نرخنامے کے فرق کی وجہ ہی سے خیال آیا کہ ہمارے حکمران جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں تو ان کے پاس بھی اسی طرح کے اعداد و شمار ہوتے ہوں گے جو حقیقت سے کہیں دور ہوتے ہیں،ہمارے آج تک کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مری کے دیہی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، اللہ نے ان پر فضل کیا ہوا ہے وہ خاصے مالدار ہیں کہ ایک نجی ایئر لائن کے بھی مالک ہیں، ان کے ساتھ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل(جن کا وزارت پر مفتا لگا کہ بغیر منتخب ہوئے، وزیر خزانہ ہو گئے، بجٹ بھی پیش کیا اور ڈیڑھ دو ماہ وزارت کے مزے بھی لئے) بھی تو بڑے تاجر ہیں اور یقیناًان دونوں حضرات کو خود بازار سے سودا سلف خریدنے کی ضرورت نہیں ہوتی،ان کے لئے کوئی ملازم ہی یہ خدمت انجام دیتا ہو گا،ان کو ایسے چھوٹے چھوٹے امور سے کیا تعلق؟ محترم آج تک کے وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ پریس کانفرنس میں بھی یہی اعداد وشمار دیئے اور دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ(ن) کے دورِ حکومت میں مہنگائی3.7فیصد کے تناسب سے بڑھی جبکہ پہلے دور میں اضافہ7.5فیصد تھا، ہمیں پہلے بھی دُکھ ہوا اور اب پھر احساس ہوا کہ یہ جو عوامی ووٹوں سے منتخب ہو کر حکمران بنتے ہیں تو ان کو اقتدار سے پہلے یا بعد میں عوام سے کوئی تعلق نہیں رہتا اور جب حکومت مل جائے تو سرکاری اعداد و شمار پر بھروسہ کرتے ہیں، جو اسی طرح کے گمراہ کن ہوتے ہیں۔

کسی بھی عام آدمی سے پوچھ لیں، پانچ سال تو دور کی بات وہ آپ کو گزشتہ برس اور آج کا فرق بتا دے گا کہ مہنگائی کتنے فیصد بڑھی ہے،جب آپ کو معلوم ہو گا کہ 10روپے والی شے 25 روپے میں مل رہی ہے تو پھر آپ اس کا فیصد بھی نکال لیجئے گا۔

شاید ایسے ہی اعداد و شمار ہیں جن کی وجہ سے مردم شماری کے نتائج پر احتجاج ہو رہا ہے، محترم شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کو اب خود بازار سے جا کر نرخ معلوم کرنے چاہئیں اور کسی دکاندار سے پوچھ لیں کہ گزشتہ برس کس بھاؤ بک رہی تھی، اسی طرح محترم نے یہ بھی دعویٰ کر دیا کہ لوڈشیڈنگ ختم کر دی اور مزید یہ کہا کہ شام چھ بجے سے صبح چار بجے تک تو لائٹ جاتی ہی نہیں ہے، ان کا یہ دعویٰ عملی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ خود ہمارے گھر والے علاقے میں یہ تماشہ لگا ہوا ہے کہ آدھ گھنٹہ بجلی تشریف لا کر چلی جاتی ہے، 20منٹ کے بعد آ کر پھر آدھے گھنٹے کے بعد چلی جاتی ہے، اکثر معمول یہ ہے کہ ایک گھنٹے کے بعد ایک گھنٹہ لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔البتہ اتنا شکر ہے کہ افطار سے پہلے ٹھہر جاتی اور سحری کے وقت بھی ہوتی ہے، لیکن دیہات والوں سے پوچھیں جن کے علاقوں میں سحر و افطار کی کوئی تمیز نہیں ہے، ہم ان وزیراعظم (جو آج(جمعہ)سابق ہو گئے ہیں) اور مفتاح اسماعیل کو کیا کہیں کہ یہ خود ان کا ذاتی تجربہ تو نہیں ان کو جو رپورٹ موصول ہوئی وہ بتا دی، یہی وجہ ہے کہ پریس کانفرنس میں شاہد خاقان عباسی کو اِس مسئلہ پر معذرت کرنا پڑی۔

دفتر پہنچے تو جنریٹر چل رہا تھا،کیا یہ لوڈشیڈنگ نہیں؟

آج(جمعہ) سے اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں، چاروں صوبوں میں تادم تحریر نگران وزرائے اعلیٰ کا فیصلہ نہیں ہوا اور الیکشن کا التوا مانگا جا رہا ہے، بلوچستان اسمبلی کی قرارداد ان شکوک کو بڑھا رہی ہے جو بعض حلقوں کی طرف سے عبوری دور کے طویل ہو جانے کی خبریں پھیلا رہے ہیں،خورشید شاہ نے درست کہا کہ اس میں سازش تلاش نہ کی جائے۔

البتہ انتخابات بروقت ہونے چاہئیں، دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے متعدد اضلاع کی حلقہ بندیاں ختم کرنے سے بھی سرگوشیوں میں اضافہ ہوا ہے اور پہلے سے موجود بے یقینی والی کیفیت کو تقویت مل رہی ہے،جو قطعی طور پر درست نہیں،سیاسی جماعتوں کو متفق ہو کر اس کا ازالہ کرنا ہو گا۔

جہاں تک الیکشن کمیشن کا تعلق ہے تو یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اس کی طرف سے انتخابات ہر صورت 25 جولائی کو کرانے کا اعلان کیا گیا، دہرایا گیا ہے اور الیکشن کمیشن کا اجلاس بُلا کر حالات پر غور کیا جائے گا،الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ عدالت عالیہ اسلام آباد کو حلقہ بندیاں ختم کرنے کا اختیار نہیں، سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

اِس سلسلے میں خود سیاسی جماعتوں کا رویہ بھی قابلِ اعتراض ہے، خصوصاً تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی نئی جماعت (جو برسر اقتدار ہے) بھی اس میں شریک ہے کہ عبوری وزیراعلیٰ کا نام فائنل نہیں کر سکیں، ابھی تک صرف وزیراعظم پر اتفاق ہوا ہے۔ تحریک انصاف نے تو کمال کر دیا، خیبرپختونخوا میں اعلان کرکے نام واپس لے لیا اور پنجاب میں خود نام تجویز کر کے اتفاق ہو جانے کے بعد بھی نام واپس لینے کا اعلان کر دیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق سمری گورنر پنجاب کو جا چکی ہے،لیکن اب مسئلہ خود نامزد وزیراعلیٰ ناصر کھوسہ کی ’’اپنی عزت‘‘ کا آ گیا ہے۔ تحریک انصاف نے خود ہی نام تجویز کر کے خود ہی واپس لے لیا اور ان کی ذات طعن بن گئی۔ ان کا یہ فیصلہ یقیناًبہتر ہے کہ وہ عبوری وزیراعلیٰ بننا منظور نہیں کریں گے، رب خیر کرے!

مزید :

رائے -کالم -