بروقت انتخابات،قوم کا یک نکاتی ایجنڈا

بروقت انتخابات،قوم کا یک نکاتی ایجنڈا
بروقت انتخابات،قوم کا یک نکاتی ایجنڈا

  

اچھا ہوا کہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کی بنیاد پر انتخابات ملتوی ہونے کا امکان مسترد کر دیا۔اتنے بڑے مُلک میں اگر چار چھ حلقوں کے لئے انتخابات موخر بھی کرنے پڑیں تو کوئی حرج نہیں، لیکن عام انتخابات کو اگست میں کرانے کی جو قرارداد منظور کی گئی ہے اُس کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ ایک ماہ میں کیا ہو جائے گا کہ اُس کے لئے انتخابات کو التوا میں ڈالا جائے۔

بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ انتخابات کو جلدی میں کرانے کی کیا ضرورت ہے،سوچ سمجھ کر کرائے جائیں۔۔۔ کیسی جلدی اور کہاں کی عجلت؟ الیکشن کمیشن پچھلے دو برسوں سے انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ سوچ سمجھ کر فیصلے کئے جا رہے ہیں۔

فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔ یہ بھی نہیں کہ اسمبلیاں وقت سے پہلے توڑ دی گئی ہوں اور الیکشن کمیشن کو اچانک انتخابات کی تیاری کرنا پڑی ہو۔اندھے کو بھی معلوم تھا کہ اسمبلیاں کب اپنی مدت پوری کریں گی اور کب انتخابات ہوں گے؟اِس لئے اب اگر مگر کی گنجائش نہیں۔ ایک بار انتخابات التوا کا شکار ہوئے تو سمجھو آئین کی مقررہ مدت سے نکل گئے، پھر بوتل سے نکلے ہوئے اس جن کو کیسے بند کرنا ہے، اس کا نسخہ کسی کے پاس بھی نہیں۔

ہر پاکستانی آج کل یہی سوال پوچھ رہا ہے کہ کیا انتخابات ملتوی ہو جائیں گے؟آخر یہ شوشہ کس نے چھوڑا ہے اور کیوں چھوڑا ہے؟ایک طے شدہ امر کو، جس پر سب راضی بھی ہیں،اس طرح ابہام کا شکار کیوں کیا جا رہا ہے۔

چھوٹی چھوٹی باتوں پر انتخابات کو کیسے ملتوی کیا جا سکتا ہے؟ اب اگر ناصر سعید کھوسہ کے نام پر اتفاق نہیں ہو سکا تو یہ کون سا ایسا مسئلہ ہے، جسے انتخابات کے التوا کا جواز بنایا جائے۔ ٹی وی اینکرز اور مبصر ایک ہی سانس میں ایسی بہت سی وجوہات گنوا کر یہ سوال داغتے ہیں کہ کیا اِن حالات میں انتخابات کا انعقاد ممکن ہے؟ کیا کسی امیدوار کی وفات یا علاقے میں کسی بیماری یا سیلاب کی وجہ سے اُن حلقوں کے انتخابات پہلے ملتوی نہیں کئے جاتے رہے،ایسا ہے تو پھر حلقہ بندیوں کے ایشو پر انتخابات کو کیسے ملتوی کیا جا سکتا ہے؟اگر مقررہ وقت کے اندر یہ حلقہ بندیاں ہو جاتی ہیں تو بہتر وگرنہ یہاں انتخابات تین ماہ کے لئے آگے کر دیئے جائیں۔

اِس مسئلے پر قومی انتخابات کے التوا کا مطالبہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ افواہیں بھی گرم ہیں کہ نگران حکومتوں کے قیام کی مدت کو بڑھا دیا جائے گا اور پھر قومی حکومت قائم کر کے اگلے دو تین برسوں تک نظام کو درست کرنے کے بعد انتخابات ہوں گے۔

یہ بہت پرانا بلکہ گھِسا پٹا فارمولا ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں،جمہوریت کو کسی صورت بریک نہیں لگنی چاہئے،جس تسلسل سے حکومت اور جمہوریت وقتِ مقررہ پر انتخابات کے مراحل سے گزرتی رہی ہیں،اُسی طرح اِس بار بھی وقت پرانتخابات اور انتقالِ اقتدار ہونا چاہئے۔

یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور عوام کی خواہش بھی۔ ریاست کے تمام ادارے اگر اِس کے لئے یکسو ہو جائیں تو کوئی ایسی طاقت نہیں،جو ہمارے جمہوری تسلسل کو روک سکے۔

عوام اِس وقت نئے انتخابات کے لئے بالکل تیار ہیں، اُن کے اندر جوش و خروش بھی ہے اور اپنے حق رائے دہی کے استعمال کی بھرپور خواہش بھی۔

مَیں تو جس شخص سے بھی ملا ہوں وہ وقتِ مقررہ پر انتخابات چاہتا ہے، اُمیدیں عام انتخابات ہی سے بندھی ہوئی ہیں۔ پاکستانیوں کی جمہوریت سے یہی کمٹمنٹ مُلک سے تین بار آمروں کو چلتا کرچکی ہے، کیونکہ وہ ووٹ ڈالے بغیر خود کو اُدھورا سمجھتے ہیں۔

آمروں کو بھی عوام کے اِس مزاج کا علم تھا، اِس لئے انہوں نے بھی انتخابات کرائے،حالانکہ وہ صرف خانہ پُری کے لئے تھے، مگر عوام نے اُن میں بھرپور حصہ لیا۔

ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کو انتخابات کرانے پڑے، حالانکہ وہ مطلق العنان حکمران تھے، مگر عوام کے اندر جو تلاطم موجود تھا، اسے کنٹرول میں رکھنے کے لئے انہوں نے انتخابات کا انعقاد ضروری سمجھا۔ پاکستان میں مسلسل تین بار حکومتوں نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی ہے تو عوام کے شعور میں بھی خاصا اضافہ ہو چکا ہے۔

آج کا ووٹر گزرے ہوئے کل کے ووٹر کی نسبت کہیں زیادہ زیرک، متحرک اور باشعور ہے۔ یہ تو ان عوامی نمائندوں سے پوچھو جو سالہا سال سے منتخب ہوتے آئے ہیں، لیکن اِس بار اُنہیں شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

عوام کے تندوتیز سوالات اور اپنی بری کارکردگی کا دفاع کرنے میں ناکامی ہی کا نتیجہ ہے کہ اپنے اپنے حقوق کے چیمپئن اپنی وفاداریاں بدل کر تحریک انصاف میں جارہے ہیں، تاکہ اس کی چھتری تلے آکر عوام کے شدید رد عمل سے بچ سکیں، سویہ سلسلہ چلتا رہنا چاہئے، اس کو ایک بار بھی بریک لگی تو معاملہ عوام کے ہاتھ سے نکل کر چند مخصوصی ہاتھوں میں آجائے گا، جو ملک کے لئے کسی بھی طرح سودمند ثابت نہیں ہو سکتا۔ صدرِ مملکت نے جب انتخابات کی تاریخ منظور کر کے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، تو اب یہ ایک آئینی معاملہ بن چکا ہے۔ اس تاریخ کو کسی انتظامی حکم سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

صرف سپریم کورٹ ہی اس کے بارے میں کوئی حکم جاری کرنے کی مجاز ہے، جس کا بوجوہ امکان موجود نہیں، کیونکہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بروقت انتخابات کی بارہا یقین دہانی کرا رکھی ہے۔

یہ قیاس آرائیاں بھی صرف پوائنٹ سکورنگ کے لئے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی مقبولیت کے باعث انتخابات کو ملتوی کیا جا سکتا ہے۔ یہ کیسے اندازہ ہوا اور کس نے بتایا کہ مقبولیت بڑھ گئی ہے؟ بالفرض بڑھ گئی ہے تو عوام کو فیصلہ کرنے دیں۔

اگر عوام واقعتا مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ مینڈیٹ دینا چاہتے ہیں تو اس میں مداخلت کیوں کی جائے؟ پھر یہ قیاس کرنے والے یہ بھی تو بتائیں کہ اس وجہ سے اگر انتخابات ملتوی کئے گئے تو کیا مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت ختم ہو جائے گی۔ وہ تو مزید بڑھے گی، پھر ایک یا دو مہینوں میں سیاسی فضا کیسے تبدیل ہو سکتی ہے؟ ایسی باتوں سے عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابات کے بروقت انعقاد پر بلاکسی شرط کے زور دینا چاہئے،یہ پاکستان کی جمہوریت کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک یا دو ماہ آگے جانے سے کوئی قیامت نہیں آ جائے گی ۔۔۔لیکن اس سے جو آئین کی خلاف ورزی ہوگی اس کی ذمہ داری کون اُٹھائے گا اور پھر اس کی ضمانت کون دے گا کہ انتخابات صرف ایک یا دو ماہ ہی آگے جائیں گے؟ کسی جمہوری ملک میں نتائج کو من پسند بنانے کے لئے ایسے ہتھکنڈوں کی قطعاً گنجائش نہیں ہوتی۔ اب پہلے سے ان پیش گوئیوں کا کیا مقصد ہے کہ آئندہ ایک مخلوط پارلیمنٹ آئے گی اور کسی جماعت کو بھی اکثریت حاصل نہیں ہو گی۔ ابھی انتخابی مہم چلی نہیں، عوام کے موڈ کا اندازہ ہوا نہیں، پھر یہ باتیں کیسے کی جا سکتی ہیں؟بالفرض ایک مخلوط مینڈیٹ بھی آتا ہے تو کیا جمہوری ملکوں میں ایسا نہیں ہوتا، کیا برطانیہ میں ایک ووٹ کی اکثریت سے حکومتیں نہیں چلتی رہیں، پاکستان میں ایسا ہو جائے گا تو کیا یہ جمہوریت کے خلاف بات ہو گی؟ دیکھا جائے تو انتخابات کے التوا کے لئے جتنے بھی دلائل سامنے آئے ہیں۔

ان میں کوئی ٹھوس جواز موجود نہیں۔ بلوچستان اسمبلی کی قرارداد میں بھی کوئی ایسی خاص وجہ بیان نہیں کی گئی جسے انتخابات کے التوا کا واقعی جواز بنایا جا سکے۔

پاکستان کا آئین بنانے والوں کی منشا یہی تھی کہ جمہوریت کا تسلسل برقرار رہے۔ اس میں ایسی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی کہ انتخابات کو بعض وجوہات کے تحت طے شدہ مدت سے آگے لے جایا جا سکتا ہے۔

آئین میں صرف دو آپشنز موجود ہیں۔ اگر اسمبلیاں مدت پوری کرتی ہیں تو ساٹھ دن کے اندر انتخابات ضروری ہیں اور اگر وقت سے پہلے توڑ دی جاتی ہیں تو نوے دن کے اندر انتخابات کرائے جانے چاہئیں۔

اب تیسرا آپشن نظریۂ ضرورت ہے، جس کی آئین میں تو کوئی گنجائش نہیں۔ اس نظریۂ ضرورت نے ہمیں بہت دھوکے دیئے ہیں۔ اس کے تحت پاکستان میں جمہوریت کو بار بار ڈی ریل بھی کیا گیا ہے، یہ آمروں کا ہتھکنڈہ رہا ہے، اسے جمہوریت میں کبھی استعمال نہیں کیا گیا،اِس لئے جمہوریت اور آئین کی فعالیت کے ہوتے ہوئے انتخابات کو وقت مقررہ پر نہ کرانے کے عذر تلاش کرنا اور انہیں شکوک و شبہات میں ڈالنا بنیادی طور پر جمہوریت دشمنی ہے۔

آج اگر یہ سروے کرایا جائے کہ عوام کی تشویش کا اصل نکتہ کیا ہے تو یہی جواب ملے گا کہ بروقت انتخابات کا نہ ہونا۔ ایک زمانہ تھا کہ پہلے احتساب اور پھر انتخاب کے جذباتی نعرے لگا کر عوام کو بے وقوف بنایا جاتا تھا، اب عوام کی اکثریت اس فارمولے کو رد کر چکی ہے۔ سب یہ چاہتے ہیں کہ احتساب کا حق ووٹروں کو دیا جائے۔

وہ بہتر فیصلہ کریں گے۔ مَیں سمجھتا ہوں موجودہ صورتِ حال میں نگران وزیراعظم، چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس آف پاکستان کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے، انہیں اس یک نکاتی ایجنڈے پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہئے کہ عام انتخابات مقررہ آئینی مدت کے درمیان ہو جائیں۔

اس کے لئے جو اقدامات بھی اٹھانے پڑیں، وہ اٹھائے جائیں۔ پاکستان کو تسلسل کے ساتھ انتخابات کی اشد ضرورت ہے، صرف یہی ایک طریقہ ہے کہ ہم اپنی جمہوریت اور جمہوری روایات کو مستحکم بنا سکتے ہیں۔ میرا رجائی نقطہ نظر ہے کہ تمام تر منفی پروپیگنڈوں، سازشوں اور کوششوں کے باوجود عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے اور جمہوریت کا قافلہ اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -