رمضان المبارک اور اس کی حرمت کے تقاضے !

رمضان المبارک اور اس کی حرمت کے تقاضے !

  

سید کرامت علی شاہ بخاری

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن کا نزول ہوا، جس میں لوگوں کے لئے رہنمائی اور ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں ( البقرہ 185:2 )

یہ بھی ارشاد فرمایا :۔ پس تم میں سے جو کوئی بھی یہ مہینہ پائے تو وہ اس کے روزے رکھے ( البقرہ آیت 185 )

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ماہ رمضان میں شب قدر میں پورا قرآن یکبارگی لوح محفوظ سے اترا تھا ۔ اور آسمان دنیا میں بیت العزت میں رکھ دیا گیا تھا ۔ پھر تھوڑا تھوڑا تئیس سال میں حضرت جبرائیل ؑ کے ذریعے رسول اکرم ؐ پر نازل ہوتا رہا ۔ اللہ تعالی نے قرآن کی صفت بیان فرمائی وہ ھدی للناس (لوگوں کو گمراہی سے نکالنے والا ہے)

و بینٰت من الھدی و الفرقان یعنی احکام کی روشن دلیلیں ہیں ۔

حضرت سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ شعبان کے آخری دن رسول اکرم ؐ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا :۔

’’ لوگوتم پر ایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے ۔ جس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض کئے ہیں اور اس مہینے کی رات میں عبادت کو نفل (افضل) قرار دیا ہے۔ پس جو کوئی اس مہینے میں نوافل کے ساتھ تقرب ( قرب الٰہی) چاہے تو گویا اس نے رمضان کے دنوں کے علاوہ فرض ادا کیا ۔ جس نے اس مہینے میں ایک نیکی کی یا ایک فرض ادا کیا اس کا اجر اس شخص کی طرح ہو گاجس نے کسی دوسرے مہینے میں ستر فرض ادا کئے ۔یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا صلہ جنت ہے ۔یہ غم خواری کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں مومن کے رزق میں اضافہ کر دیا جاتا ہے ۔جو اس مہینے کسی کا روزہ افطار کروائے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے اور اس کی گردن دوزخ کی آگ سے آزاد کر دی جائے گی اور اس کو روزے دار کے برابر ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ روزے دار کے ثواب میں کمی واقع ہو ۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ ہم میں سے ہر شخص میں اتنی استطاعت نہیں ہے کہ روزے دار کا روزہ افطار کروائے تو رسول اکرم ؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ اجر ہر اس شخص کو بھی مرحمت فرمائے گاجو ایک کھجور یا ایک گھونٹ دودھ یا ایک گھونٹ پانی سے روزہ افطار کروائے گا اسے اللہ تعالیٰ میرے حوض سے وہ پانی پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہو گا حتیٰ کہ جنت میں داخل ہو جائے گا ۔یہ وہ مہینہ ہے جس کا اول حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ دوزخ سے آزادی کا ہے۔ پس جس نے اس مہینے میں اپنے ماتحت کے کام میں تخفیف کی اس کے گناہ بخش دئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اسے دوزخ سے آزادی عطا فرمائے گا۔ (مشکوۃ کتاب الصوم حدیث 1868/9)

نبی کریم ؐ نے فرمایا اس مہینے میں یہ چار باتیں زیادہ سے زیادہ کرنی چاہئیں ان میں سے دو باتیں ایسی ہیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کر سکتے ہو۔ اول یہ کہ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کو ئی معبود نہیں دوم اپنے رب سے مغفرت طلب کرنا اور دو باتیں وہ ہیں جن کی تمہیں ضرورت ہے ۔اول یہ کہ اللہ تعالیٰ سے جنت طلب کرو ، دوم اللہ تعالیٰ سے جہنم سے نجات ( پناہ ) مانگو۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ ماہ رمضان کی ہر رات میں اللہ تعالیٰ اعلان کراتا ہے ’’کیا کوئی ہے مانگنے والا کہ میں اس کا سوال پورا کروں ؟ ‘‘ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ میں اُس کی توبہ قبول کروں ؟ کیا کوئی مغفرت کا طلبگار ہے کہ میں اُس کو بخش دوں ؟ کوئی ہے جوا یسے غنی کو قرض دے جو نادار نہیں اور پورا پورا بدلہ دینے والا ہے اور کسی کی حق تلفی نہیں کرنے والا ۔

امام محمد غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ ’’ جو شخص روزے میں صرف نہ کھانے پینے پر اکتفا کرے اس کا روزہ ایک صورتِ بے روح ہے، کیونکہ روزے کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو فرشتوں کی مانند بنائے کہ فرشتوں کو ہر گز خواہش نہیں ہوتی، جبکہ خواہش چوپایوں پر غالب ہوتی ہے،جس پر خواہش غالب ہے وہ بھی چوپایوں اور حیوانات کے مرتبہ میں ہے ۔ جب اس کی خواہشات مغلوب ہو گئیں تو اس نے فرشتوں سے مشابہت پیدا کر لی ۔‘‘

حدیث پاک میں ہے کہ جو روزے میں جھوٹی بات اور اس پر عمل کرنانہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پیناچھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔( صحیح بخاری ، کتاب الصیام حدیث 1776)

یہ بھی ارشاد ہے کہ انسان کی تمام نیکیاں دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جائیں گی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سوائے روزہ کے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا ہوں ( مشکوۃ جلد اول )

معلوم ہوا کہ روزے کی جزا تمام نیکیوں سے بڑھ کر ہے جو روزے دار کو جنت میں دیدار الٰہی کی صورت میں نصیب ہو گی ۔

جب تک امت ماہ رمضان کی حرمت باقی رکھے گی وہ رسوا نہیں ہو گی،جس نے ماہ رمضان المبارک میں عمل حرام کا ارتکاب کیا یا کوئی گناہ کیا، شراب پی یا زنا کیا اس کا کوئی روزہ قبول نہیں کیا جائے گا ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -