نظریاتی سیاست کاجنازہ ہے , ذرا دھوم سے نکلے !!!

نظریاتی سیاست کاجنازہ ہے , ذرا دھوم سے نکلے !!!
نظریاتی سیاست کاجنازہ ہے , ذرا دھوم سے نکلے !!!

  

     پاکستان تحریک انصاف کے کپتان کو وزیراعظم بننے کی جلدی ہے , یہ تو کافی عرصے سے سن رکھا تھا پھر ہم نے دیکھا کہ پی ٹی آئی میں آدھے سے زیادہ سابقہ جیالے اور متوالے جمع ہوتے چلے گئے۔ مگر کھلاڑیوں کا عقیدہ بدستور یہ ہی رہا کہ ان کا کپتان سب کو کنٹرول میں رکھ سکتا ہے ۔  اندھی عقیدت میں ڈوبے ہوئے کارکنان کو ہوش تب آیا جب نگران سیٹ اپ کےلیے گفت وشنید کا آغاز ہوا۔

نگران حکومت کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کےلیے آصف زرداری نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی ۔اور نگران سیٹ اپ میں اپنا پورا حصہ وصول کیا۔جب ن لیگ نے جسٹس ر ناصر الملک کا نام بطور نگران وزیراعظم کے طور پر پیش کیا تو پی ٹی آئی نے فوراً حامی بھر لی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی موصوف ہیں جنہوں نے   2013 کے انتخابات میں دھاندلی کیس  کی سماعت کےلیے بننے والے بینچ کی سربراہی کی ۔ اس بات کا اعتراف کیا کہ 2013 میں الیکشن کمیشن صاف وشفاف انتخابات کے انعقاد میں ناکام رہا تاہم چونکہ منظم دھاندلی ثابت نہیں ہوسکی لہٰذا کیس خارج کردیا گیا۔ سابق چیف جسٹس ںاصرالملک نے نوازشریف کےخلاف نااہلی کی درخواست بھی خارج کردی۔

دوسری طرف پیپلزپارٹی نے بھی جسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک کی تعیناتی قبول کرلی۔ اگر پیپلزپارٹی ایسا نہ کرتی تو نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں معاملہ اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس جاتا ۔ اسپیکر  نے معاملہ آٹھ رکنی حکومت وحزب اختلاف کی مشترکہ کمیٹی کے سپرد کرنا تھا۔ جس میں چار لیگی ارکان , دو پی پی پی ارکان اور ایک ایک رکن پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم سے ہوتا۔ ن لیگی کو صرف ایک رکن کی حمایت درکار تھی جو ایم کیو ایم کی جانب سے یقینی تھی۔ لہٰذا تب بھی ن لیگ اپنا نمائندہ نگران وزیراعظم نامزد کرنے میں کامیاب ہوجاتی۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آخری وقت پر آصف زرداری نے خورشید  شاہ کو ہدایت کی کہ وہ حکومتی نامزد امید وار برائے نگران وزیراعظم کےلیے اس شرط پر حامی بھر لیں کہ نگران حکومت میں ن لیگ اور پی پی پی کے مساوی ارکان بطور وزیر مقرر کیے جائیں گے۔ اور یوں پی ٹی آئی اور پی پی پی نے نگران وزیراعظم کےلیے ناصرالملک کا  نام منظور کرلیا۔

اس  کے بعد جب نگران وزیراعلی پنجاب کی نامزدگی کی باری آئی تو محمود الرشید اور شہبازشریف نے مشترکہ پریس کانفرنس میں ناصر محمود کھوسہ کو نگران وزیرِ اعلیٰ پنجاب نامزد کیا۔ موصوف کا شمار شہبازشریف کے قابل اعتماد بیوروکریٹس میں ہوتا ہے اور دو سال تک شہبازشریف کے ساتھ چیف سیکرٹری رہ چکے ہیں ۔ نواز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد ناصر کھوسہ کو شہباز شریف کی سفارش پر وفاق میں لایا گیا۔ 2008 میں نواز شریف نے ناصر کھوسہ کو وفادار بیوروکریٹس پر مشتمل ٹیم تیارکرنے کا ٹاسک دیا تھا۔ ناصر کھوسہ نے یہ ٹاسک بخوبی پورا کیا۔ 27 مئی 2013 کو ناصر کھوسہ کو نواز شریف کا پرنسپل سیکریٹری بنایا گیا جبکہ فواد حسن فواد کو ناصر کھوسہ کا معاون خصوصی بنایا گیا۔ ناصر کھوسہ کاکام شہبازشریف  شریف کو بھی باخبر رکھنا تھا۔ 2014 میں ریٹائرمنٹ پر ناصر کھوسہ کو ورلڈ بینک میں ملازمت کا تحفہ دیا گیا۔ ڈھائی کروڑ سالانہ تنخواہ کی پوسٹ پر ناصر کھوسہ کو بلا اشتہار  تعینات کیا گیا۔ بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ محمود الرشید اور شہبازشریف میں ناصر کھوسہ کے نام پر خفیہ ڈیل ہوئی ۔ گزشتہ پانچ برسوں میں محمود الرشید نے کبھی پنجاب اسمبلی کے فلور پر مئوثر کردار ادا نہیں کیا ۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ناصر کھوسہ کو پنجاب میں ایسی بیوروکریسی کو متحرک کرنے کا ٹاسک دیا گیا جومبینہ طور پر شریف برادران کے وفادار ہوں ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی ناصر کھوسہ کی بطور نگران وزیراعلیٰ پنجاب تعیناتی پر رضامندی نے سوشل میڈیا پر تنقید کا طوفان برپا کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے دباو میں آکر پی ٹی آئی نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ پنجاب کےلیے نئے ناموں پر غور شروع کردیا ہے۔ جس میں اعتزاز احسن کا نام خاص طور پرمیڈیا میں گردش کر رہا ہے۔  ناقدین پی ٹی آئی کو نظریاتی اور اصولی سیاست کی پٹری سے اترتا ہوا قرار دے رہے ہیں ۔ تو دوسری جانب اچانک ناصر کھوسہ کی بجائے اعتزاز احسن کا نام زیرِ غور لانے کو سیاسی ناپختگی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ناصرالملک اور ناصر کھوسہ جیسے نگران قبول کرنا پی ٹی آئی کی پہلی انتخابی شکست ہے۔ اور یہ نظریاتی اور اصولی سیاست کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے , اور یہ جنازہ پی پی پی اور پی ٹی آئی دونوں نے خاصی دھوم دھام سے نکالا ہے۔ 

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ