الیکشن ہوئے تو رزلٹ کیا ہوگا

الیکشن ہوئے تو رزلٹ کیا ہوگا
الیکشن ہوئے تو رزلٹ کیا ہوگا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

صدرِ پاکستان نے عام انتخابات  پچیس جولائی کو منعقد کرنے کا با قاعدہ نوٹیفکشن جار ی کر دیا ہے۔ جس سے اُمید بندھی ہے کہ انتخابات مقررہ تاریخ اور وقت پر ہونگے۔ کیونکہ عام تاثر یہی تھا کہ امسال انتخابات کا ہونا اگر نا ممکن نہیں تو مُشکل ضرور ہو گا۔ میاں نواز شریف کی بطور وزیر اعظم بر طرفی اور عدالت ِ عظمٰی کی طرف سے نا اہل قرار دئیے جانے کے بعد حالات کُچھ ایسے پیدا ہو گئے تھے کہ انتخابات بر وقت منعقد ہونا نا ممکن دکھائی دیتا تھا۔ کیونکہ میاں نواز شریف کے طیش میں دئیے گئے عدلیہ اور فوج کے خلاف بیانات اس بات کی غمازی کر رہے تھے کہ حا لات سُدھرنے کی بجائے زیادہ اُلجھ رہے ہیں۔ لگتا تھا کہ میاں صاحب کی نا اہلی نے اُن کو باغی بنا دیا ہے۔ اُنکو ایسے حالات میں انتخابات میں جیتنے کے لئے ایک با غیانہ اور سر کش قسم کا بیانیہ در کار تھا۔ جس سے عوام میں ایک سنسنی پیدا کی جا سکے۔

عوام اور مُسلم لیگ ن کی قیادت کو اُمید تھی کی میاں صاحب اپنے بیان کی پُر زور انداز میں تردید کریں گے۔ لیکن عوام کو اُس وقت مایوسی ہوئی جب میاں صاحب نے اپنے انٹرویو کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ فرمایا کہ میں نے کونسی غلط بات کی ہے؟ با لالفاظ دیگر انہوں نے اپنے موقف کی تا ئیدکرکے فوج پر براہ راست وار کیا ہے۔ ایک منجھے ہوئے سیاست دان سے ایسے بیان کی توقع نہ تھی جس سے مُلک و قوم کی سالمیت داﺅ پر لگ جائے۔فوج کے کردار پر حرف آئے اور مُلک کی ساری دُنیا میں جگ ہنسائی ہو۔اِس کے علاوہ اُنہوں نے اپنے حلف کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ در اصل انہوں نے اپنے روئے اور بیانات سے فوج اور عدلیہ کو ہر طرح سے زچ کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن بھر بھی عدلیہ اور فوج نے اس اشتعال انگیزی کو طفلانہ حرکت سمجھ کر کسی شدید رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ میاں نواز شریف کی سیاست یہ رہی ہے کہ عوام کو فوج اور عدالت عالیہ کے خلاف بھڑکایا جائے اور عوام کی توجہ اپنی کرپشن سے کسی دوسری جانب مبذول کر دی جائے تاکہ عوام میاں صاحب کی فریب کاریوں سے واقف نہ ہوسکیں۔ بلکہ عوام یہی سمجھتے ر ہیں کہ نواز شریف کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تاکہ عوام جذبا ت کی رو میں بیٹھ کر کھُلے عام نواز شریف کے حق میں مظاہرے کریں۔ جس سے حکومت ، فوج اور عدلیہ نواز شریف کو ر اہ فرار دینے پر مجبور ہو جا ئیں یا پھر تمام مقدمات کو حکومت واپس لینے پر مجبور ہو جائے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اُن کی یہ بھی خواہش تھی کہ عدلیہ یا فوج مشتعل ہو کر اُن کو جیل میں بند کر دیں تاکہ وُہ عوام میں مزید مقبولیت حاصل کر سکیں۔ لیکن میاں صاحب کی تما م زیادتیوں کے باوجود بھی عدلیہ اور فوج نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ چیف جسٹس چاہتے تو اپنے اختیارات کو استعمال کرکے میاں صاحب پر غداری کا مقدمہ قایم کر سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ کیونکہ وُہ ایسا تا ثر نہیں دینا چاہتے تھے کہ وُہ شخصی طور پر میاں صاحب کے خلاف ہیں۔ لیکن ان تمام تر تلخیوںکے باوجود فوج اور عدلیہ مُلک کے مُفاد میں ماضی کو بھول کر مُلک کی فلاح میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہے۔ لیکن اعلیٰ ظرفی اور برداشت کو اداروں کی کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ میاں صاحب اب خود الیکشن نہیں لڑ سکتے مگر اُن کی شدید خواہش ہے کہ اُن کی پارٹی دوبارہ حکومت میں آ جائے تاکہ وُہ پارلیمنٹ میں عدلیہ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیکر پھر سے وزیر اعظم بننے کے اہل ہو جائیں۔ پارلیمنٹ میں نااہلی کو اہلیت میں بدلنے کے لئے مُسلم لیگ کو واضع اکثریت درکار ہے جو کہ در یں اثنا محال نظر آتی ہے۔ سیاسی حالات پر کڑی نظر رکھنے والے پنڈت یہ عندیہ دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ مُسلم لیگ کی قیادت کو مُلک کے صوبوں میں ایسے امیدوار نہیں مل رہے جو انتخابات میں اپنی کامیابی کو یقینی بنا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ درخواستوں جمع کرنے کی تاریخ میں تو سیع کی جار رہی ہے۔ کیونکہ تجربہ کار سیاست دانوں نے میاں صاحب کے روئیے سے تنگ آ کر اپنی سیاسی وفاداریاں بدل لی ہیں۔اُن کو میاں صاحب کی ہٹ دھرمی اور ضد بالکُل اچھی نہیں لگی۔ میاں صاحب کا بچگانہ رویہ اور غیر لچک دارانہ مزاج مُسلم لیگ ن کی سیاست کے لے سُم قاتل ہے۔لہذا اس بار انتخابات میں مُسلم لیگ ن کی واضح کامیابی مشکوک نظر آرہی ہے۔سیاسی تجزیو ں کے مُطابق تحریک انصاف کی کامیابی کے امکانات کافی حد تک واضع ہیں۔ لیکن حتمی طور پر کُچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پچھلے انتخابات میں بھی قیاس آرائی کی جار ہی تھی کہ اس دفعہ تحریک انصاف جیت جائے گی۔ عمران خاں کے زخمی ہونے کیوجہ سے لوگوں میں ہمدردی کے جذبات پائے جاتے تھے لیکن پھر بھی کامیابی عمران خان کا مقدر نہ بن سکی۔ عام خیال ہے کہ تحریک انصاف کے پاس تجربہ کار سیاستدانوں کی کمی ہے۔ وُہ انتخابات کو جیتنے کی درکار مہارت سے محروم ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک عمران خان وزیر اعظم بن چُکے ہیں۔ لیکن ہمارے خیال میں دلی ہنوز دور است۔

ہم آصف زرداری صاحب کے تجزئیہ کو اہم سمجھتے ہیں۔ اُن کے مُطابق کسی بھی سیاسی پارٹی کو واضع ا کژیت حاصل نہیں ہوگی۔ تمام پارٹیوں کو مل کر حکومت بنانا پڑے گی۔ تاہم انتخابات میں کوئی بات بھی حتمی طور پر نہیں کی جا سکتی۔ لیکن ہماری دُعا ہے کہ انتخابات کا عمل غیر جاندارانہ ہو۔ عوام روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آ چُکے ہیں۔ دھرنوں اور مظاہروں سے نہ صر ف مُلک کی اقتصادیات پر بُر ا اثر پڑتا بلکہ مُلک میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس سے مُلک ترقی کرنے کی بجائے تنزلی کی طرف رواں دواں ہو جاتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن نے ریٹائرڈ چیف جسٹس ناصر ملک کو نگران وزیر اعظم چُن کا ایک قابل قدر کارنامہ انجام دیا ہے۔ جو کہ لائق تحسین ہے۔ اُمید ہے کہ نئے وزیر اعظم انتخابات کے عمل کو غیر جانبدارانہ اور شفاف بنانے کے لئے ہرممکن کوشش کریں گے۔ عوام دشنام بازی سے عاجز آ چُکے ہیں۔ توقع ہے کے نئے وزیر اعظم اور اُنکی ٹیم عوام کی امیدوں پر پوری اُترے گی۔

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ