سروس سٹرکچر کا مسئلہ حل نہ ہو سکا ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ سراپا احتجاج

سروس سٹرکچر کا مسئلہ حل نہ ہو سکا ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ سراپا احتجاج

  

لاہور(عامر بٹ سے)5سال کا عرصہ گزر نے کے باوجود اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈز کے سروس سٹرکچر کا معاملہ حل نہ کیا جاسکا۔ صوبے بھر کے ملازمین انتظامیہ کی ملازمت دشمن پالیسی کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ جبکہ صوبے بھر میں اراضی ریکارڈ سنٹرز میں تعینات ملازمین کی کثیر تعداد نے دوبارہ ہڑتال اور اراضی ریکارڈ سنٹرز کی تالہ بندی کاعندیہ دیدیا۔ روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی انتظامیہ 5 سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہونے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ کو مستقل کرنے کے حوالے سے کوئی ٹھوس اقدام نہ اٹھاسکی ۔ معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ دنوں پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی جانب سے ایک سمری بھی تیار کی گئی تھی اور صوبے بھر کے ملازمین کو بار بار یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب اسلم کمبوہ اور چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن(ر) زاہد سعید سے اے ڈی ایل آر کو مستقل کیے جانے کی سمری منظور کروالی جائیگی۔ اس حوالے سے تمام اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ نے ایم پی ڈی ڈی کا کورس بھی مکمل کرلیا مگر بیوروکریسی کاغذی کارروائی تک محدود نظر آئی جس پر صوبے بھر کے ملازمین ملازمت دشمن پالیسی پر عمل پیراانتظامیہ کے خلاف سراپا احتجاج بن چکے ہیں اور صوبے بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹرز پر تعینات عملہ میں اس وقت شدید بے چینی اور غم وغصے کی لہر پائی جارہی ہے۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ملازمین کی کثیر تعداد کا کہنا تھا کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی میں بعض عناصر جوکہ انتظامی عہدوں پر براجمان ہیں ہمارے سروس سٹرکچر میں رکاوٹ بن رہے ہیں جس پر ہم پرامن طریقے سے صوبے بھر میں ہڑتال کریں گے اور اس دفعہ اپنے مطالبات منوانے کے بعد ہی واپس اراضی ریکارڈ سنٹرز آئیں گے جبکہ دوسری جانب ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام سینئرز افسران کے نوٹس میں سروس سٹرکچر کے معاملات لے آئے ہیں ہماری طرف سے نہ تو کوئی رکاوٹ ہے اور نہ ہی کوئی مخالفت ہے سمری کی منظوری چیف سیکرٹری پنجاب اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب نے دینی ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -