خواجہ آصف کیس میں بتایا جائے آمد ن کے ذرائع بتانے پر نااہلی کیسے ہو سکتی ہے : سپریم کورٹ

خواجہ آصف کیس میں بتایا جائے آمد ن کے ذرائع بتانے پر نااہلی کیسے ہو سکتی ہے : ...

  

اسلام آباد (صباح نیوز)سپریم کورٹ نے خواجہ آصف کی نااہلی کے خلاف اپیل پر سماعت پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیکل 62-ون کے مقدمات کو گہرائی سے دیکھنا ہوتا ہے ، حالیہ ایمنسٹی سکیم میں ٹیکس کے قانون میں سقم کو دور کر دیا گیا ہے بتایا جائے کہ آمدن کے ذرائع بتانے پر نااہلی کیسے ہو سکتی ہے کیونکہ اگر ٹیکس ادا نہیں کیا گیا تو جرمانہ ہو گا۔یہ کہاں لکھا ہے کہ کاروبار اور تنخواہ کی آمدن الگ الگ بتائی جائے۔ خواجہ آصف نے تنخواہ کی بچت صفر بتائی خواجہ آصف کی بات اگر غلط ہے تو ٹیکس حکام جاکر پکڑ لیں۔ غیر ملکی تنخواہ کا بتا دینا کافی ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کسی کے کیرئیر کو تباہ کیا جائے،جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے خواجہ آصف کی نااہلی کے خلاف اپیل پر سماعت کی تو بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطابندیال نے عثمان ڈار کے وکیل سکندر بشیر مہمند کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کوشش ہے آج سماعت مکمل کرلیں لیکن عثمان ڈار نے انتخابی عذرداری میں یہ نکات نہیں اٹھائے عدالت کو دائرہ اختیار پر بھی مطمئن کریں۔کیااس معاملہ میں مفادات کا ٹکراؤ آرٹیکل 62ون ایف کا نفاذ ہوتا ہے۔ عثمان ڈار کے وکیل سکندر بشیر مہمندنے کہاکہ اپنے دلائل میں عدالتی سوالات کا جواب دوں گا۔جسٹس عمر عطابندیال نے سوال اٹھایاکہ کیا اثاثوں کا معاملہ الیکشن ٹریبونل میں بھی اٹھایا گیا تھا؟اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن ٹریبونل میں عثمان ڈار فریق نہیں تھے۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ دیکھنا ہوگا اثاثے ظاہر نہ کرنے کا کاغذات نامزدگی سے کتنا تعلق ہے۔وکیل کا کہنا تھا کہ معاہدے کے مطابق خواجہ آصف کی پہلی تنخواہ 9ہزار درہم تھی۔جسٹس فیصل عرب نے سوال کیاکہ کیا 9ہزار درہم اور ملازمت کاغذات نامزدگی میں ظاہر کی گئی۔وکیل سکندر بشیر کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے 9ہزار درہم بطور تنخواہ ظاہر نہیں کئے۔جسٹس عمر عطابندیا ل نے سوال اٹھایا کہ اگر تنخواہ خرچ ہو جائے تو کیا وہ اثاثہ ہو گی؟ سکندر بشیر نے جواب دیا کہ خواجہ آصف نے رقم خرچ کرنے کا موقف نہیں اپنایا اورخواجہ آصف کو ملنے والے زرمبادلہ میں تنخواہ شامل نہیں انکی 68لاکھ غیرملکی آمدن میں تنخواہ شامل نہیں کیونکہ 68لاکھ کی غیر ملکی آمدن دیگر ذرائع سے ہے اور خواجہ آصف نے یہ موقف نہیں لیا کہ تنخواہ کی آمدن خرچ ہو گئی،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ یہ دیکھنا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولا ہے یا نہیں۔ یہ دیکھنا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں سچ بتایا گیا۔وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن ٹریبونل میں 68لاکھ غیرملکی آمدن کا کاروبار سے مشروط کیا گیاٹریبونل میں غیرملکی تنخواہ اور آمدن کا ذکر نہیں کیا گیا ۔خواجہ آصف نے 34ملین اور 3.8 ملین کی غیر ملکی آمدن ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کی۔جسٹس عمر کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کے ٹیکس گوشواروں میں نہیں جانا چاہتے کیونکہ انہوں نے اگر ٹیکس نہیں دیا تو متعلقہ محکمہ جرمانہ عائد کرے گا۔اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کی غیرملکی آمدن بھی پاکستان میں قابل ٹیکس ہے ۔خواجہ آصف نے ٹیکس گوشواروں اور انتخابی گوشواروں میں ملازمت کو چھپایا۔جسٹس عمر کا کہنا تھا کہ ٹیکس ادا کرنا نہ کرنا مختلف ایشو ہے اورعدالت کے سامنے مقدمہ آرٹیکل 62ون ایف کا ہے۔کیا غیر ملکی آمدن کے ذرائع بتانے کے خواجہ آصف پابند تھے اِنکم ٹیکس قانون کے تحت غیرملکی آمدن کے زرائع بتانا ضروری نہیں اورغیرملکی آمدن کے حوالے سے ہمارے قانون میں سقم ہیں۔ اس پر وکیل کاکہنا تھا کہ ٹیکس حکام غیرملکی آمدن کے ذرائع پوچھ سکتے ہیں۔جسٹس عمر نے کہاکہ قانون میں آمدن اور ذرائع پوچھنے پر استثنی دیا گیا ہے۔وکیل نے جواب دیا کہ استثنی صرف غیرملکی رہائشی پاکستانیوں کے لیے ہے۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ قانون میں استثنی جان بوجھ کر رکھا گیا ہے اور یہ استثنی امیر لوگوں کے لیے ٹیکس سے بچنے کے لیے رکھا گیا ہے حالیہ ایمنسٹی اسکیم میں ٹیکس کے قانون میں سقم کو دور کر دیا گیا۔بتایا جائے کہ آمدن کے ذرائع بتانے پر نااہلی کیسے ہو سکتی ہے کیونکہ اگر ٹیکس ادا نہیں کیا گیا تو جرمانہ ہو گایہ کہاں لکھا ہے کہ کاروبار اور تنخواہ کی آمدن الگ الگ بتائی جائے۔جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ کسی کی تاحیات نااہلی کا مسئلہ ہے۔جسٹس عمرعطا کا کہنا تھا کہ کورینٹو کے مقدمہ غیر تصدیق شدہ معاملات اور سوالات کا جائزہ نہیں لے سکتے۔خواجہ آصف نے اپنی غیر ملکی آمدن کو کاغذات میں ظاہر کیا ہے۔سکندر بشیر ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ میں رٹ پیٹیشن سے قبل غیرملکی آمدن کا زریعہ کسی کو معلوم نہیں تھا۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ 2014میں خواجہ آصف وفاقی وزیر تھے انکی آمدن کا زریعہ تھا تو آمدن بتانی چاہیے تھی۔اس پر وکیل کا کہنا تھاکہ ملازمت کے دوسرے معاہدہ کے تحت خواجہ آصف بھاری تنخواہ لے رہے تھے لیکن خواجہ آصف نے 9 ہزار تنخواہ بتا کر بچت صفر بتائی۔جسٹس عمر کا کہنا تھا کہ عدالت کے پاس 184/3 کے مقدمہ میں وسیع اختیارات ہیںآرٹیکل 199 کی کارروائی ارٹیکل 184/3 سے مختلف ہے۔خواجہ آصف نے تنخواہ کی بچت صفر بتائی خواجہ آصف کی بات اگر غلط ہے تو ٹیکس حکام جاکر پکڑ لیں۔میرے خیال سے غیر ملکی تنخواہ کا بتا دینا کافی ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کسی کے کیرئیر کو تباہ کیا جائے۔اس پر وکیل نے کہاکہ خواجہ آصف نے 2014 کے گوشواروں میں غیرملکی آمدن ظاہر نہیں کی2015 میں خواجہ آصف نے غیر ملکی آمدن 13.2 ملین بتائی ۔یہ آمدن ان کی مجموعی تنخواہ کی آمدن سے زیادہ ہے۔دوبئی بنک کا اکاوئنٹ بھی کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا گیا۔جسٹس عمر عطابندیال نے سوال اٹھایا کہ بنک اکاوئنٹ چھپا کر کیا فائدہ حاصل کیا گیا۔ہو سکتا ہے اکاؤنٹ درج کرنا بھول گئے ہوںآئین کے آرٹیکل 62-ون کے مقدمات کو گہرائی سے دیکھنا ہوتا ہے۔عدالتی وقت ختم ہونے پر کیس کی سماعت آج تک ملتوی کردی گئی ۔

سپریم کورٹ

مزید :

علاقائی -