عمران خان کی نئی شادی اور تحصیل سطح پر ایک حلقہ کا خاتمہ ، پاکپتن کی سیاست میں دو بڑے سیاسی بھونچال

عمران خان کی نئی شادی اور تحصیل سطح پر ایک حلقہ کا خاتمہ ، پاکپتن کی سیاست میں ...

  

پاک پتن(تنویر ساحر سے )پاک پتن تحصیل میں قومی اسمبلی کے دو حلقے تھے نئی مردم شماری کے بعد تحصیل پاک پتن میں قومی اسمبلی کا ایک حلقہ ختم ہو گیا ہے پہلے دونوں حلقوں این اے164 اور این اے165 سے مسلم لیگ ن کے سردار منصب علی ڈوگر اور سید اطہر گیلانی کامیاب ہوئے تھے اب ان دونوں حلقوں پر مشتمل قومی اسمبلی کا نیا ایک حلقہ این اے145 بن چکا ہے 2013 کے الیکشن میں این اے 164 سے پی ٹی آئی کے امیدوار راو نسیم ہاشم نے27781 ووٹ حاصل کئے تھے ق لیگ کے محمد شاہ کھگہ نے 65568 ووٹ لیئے جبکہ مسلم لیگ ن کے سردار منصب علی ڈوگر 67866 ووٹ لیکر کامیاب ہوے تھے ۔اسی طرح سے این اے 165 میں پی ٹی آئی کے احمد رضا مانیکا کو 55043 ووٹ ملے تھے دیوان عظمت چشتی نے 20688 ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ کامیاب ہونے والے مسلم لیگ ن کے سید اطہر گیلانی نے 72079 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی نئی حلقہ بندیوں کے تحت اب 2018 کے انتخابات کے لیے 8 لاکھ آبادی پر مشتمل قومی اسمبلی کا ایک حلقہ بنایا گیا ہے جس میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد این اے 145 میں4 لاکھ 57 ہزار5 سو 30 ہے جس میں 257123 مرد ووٹرز ہیں اور200407 خواتین ووٹرز ہیں جن کے لیئے الیکشن کمیشن کی طرف سے 446 پولنگ اشٹشن بنائے گئے ہیں اسی طرح سے صوبائی اسمبلی کے سابقہ حلقہ پی پی 227 سے مسلم لیگ ن کے میاں عطاء مانیکا کامیاب ہوئے تھے پی پی 228 سے مسلم لیگ ن کے میاں نوید علی اور پی پی 229 سے مسلم لیگ ق کے احمد شاہ کھگہ نے کامیابی حاصل کی تھی صوبائی اسمبلی کے یہ تینوں حلقے اب پی پی 191 پی پی 192 اورپی پی 193 بن چکے ہیں جن میں اب سابقہ امیدواروں کے ساتھ کچھ نئے چہرے بھی سامنے آئیں گے ۔پاک پتن میں2018 کے انتخابات سے پہلے دو بڑے سیاسی بھونچال آ چکے ہیں پہلا تو قومی اسمبلی کا ایک حلقہ ختم ہونا تھا وہ سیاسی لیڈر جو پہلے صرف ایک حلقے کی حد تک محدود تھے اور اسی میں ان کی تمام سیاسی بنیادیں تھیں انہیں اب ایک دوسرے حلقے سے بھی الیکشن لڑنا پڑے گا جو بالکل ایسے ہے جیسے پاک پتن کا کوئی سیاستدان ساہیوال یا اوکاڑہ جا کر الیکشن لڑئے دوسرا بڑا سیاسی بھونچال اس وقت آیا جب پاک پتن کے پی ٹی آئی کے ضلعی صدر اور سابق ایم این اے میاں احمد رضا مانیکا کی بھاوج سے عمران خان نے نئی شادی کر لی جس کے بعد میاں احمد رضا مانیکا نے ردعمل کے طور پر پی ٹی آئی چھوڑ کے ضلعی صدارت سے بھی استعفی دے دیا میاں احمد رضا مانیکا نئے حلقے میں پی ٹی آئی کے بہت مضبوط امیدوار تھے کیونکہ دونوں حلقوں میں ان کا ووٹ بنک موجود تھا 2013 کے الیکشن میں خود انہوں نے 55 ہزار سے زائد ووٹ لئے تھے جبکہ دوسرے حلقے میں صوبائی اسمبلی سے ان کے بھائی فاروق مانیکا نے بھی 38 ہزار سے زاید ووٹ حاصل کئے تھے اس طرح سے مانیکا فیملی تقربیاء 95 ہزار کے قریب ووٹ بنک رکھتی تھی جونئے حلقے کے مطابق ایک بڑا ووٹ بنک ہے ۔اب ان کے بعد پی ٹی آئی نے راو نسیم ہاشم کو اپنا ضلعی صدر بنایا ہے ۔اب پی ٹی آئی کے اندر ہی انہیں بہت مخالفت کا سامنا ہے کہ سابق ایم این اے پیر محمد شاہ کھگہ بھی پی ٹی آئی جوائین کر چکے ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے کے پرانے متحارب سیاستدان ہیں اگر پی ٹی آئی راو نسیم ہاشم کو ٹکٹ دیتی ہے تو محمد شاہ کھگہ جنہوں نے 2013 کے الیکشن میں 65568 ووٹ حاصل کئے تھے وہ راو نسیم ہاشم کو کبھی بھی سپورٹ نہیں کریں گے ۔مسلم لیگ ن کے این اے 165 سے کامیاب ہونے والے سید اطہر گیلانی شاید اب مسلم لیگ ن کی طرف سے الیکشن میں حصہ نہ لیں کیونکہ ان کے داماد سابق ایم این اے سید سلمان محسن گیلانی اپنی نئی سیاسی جماعت بنا چکے ہیں سید سلمان گیلانی اپنی سابقہ نااہلی کے باعث خود تو الیکشن نہیں لڑ سکتے لیکن ان کی وسیع پیری مریدی سلسلے کے باعث پاک پتن سمیت دیگر قریبی اضلاع میں بھی ان کا کافی زیادہ ووٹ بنک ہے وہ اگر کسی کی حمایت کرتے ہیں یا اپنے امیدوار سامنے لاتے ہیں تو مقامی سیاست میں بہت حد تک اثر انداز ہو جاہیں گے دوسری طرف سابقہ حلقہ این اے 164 سے 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے سردار منصب علی ڈوگر کامیاب ہوئے تھے لیکن موجودہ انتخابات میں انہیں کافی مسایل کا سامنا ہے۔ان حالات کا مسلم لیگ ن کی ہائی کمان کو بھی ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی طرف سے حلقہ این اے 145 میں عامرہ بی بی کا نام بھی سامنے آچکا ہے عامرہ بی بی سابقہ اسمبلی میں خواتین کی مخصوص سیٹوں پر مسلم لیگ ن کی طرف سے ایم این اے تھیں اور یہ سابق ایم این اے میاں محمود احمد بسی شریف کی بیٹی ہیں اگر مسلم لیگ ن نے انہیں ٹکٹ دے دیا تو بہت خطرناک ثابت ہو جاہیں گی پی ٹی آئی کے لیئے کیونکہ ان پر نہ تو کوئی نااہلی کا کیس ہو سکتا ہے اور ان کا پینل انتہائی مضبوط ہوگا جس میں مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی ایز میاں عطاء محمد مانیکا، سردار واجد علی ڈوگر اور میاں نوید علی کے شامل ہونے کے امکانات ہیں اور یہ انتہائی مضبوط پینل ہوگا جس کا سامنا نہ تو میاں احمد رضا مانیکا کر سکیں گے اور نہ ہی پی ٹی آئی کے راو نسیم ہاشم یا محمد شاہ کھگہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور پیری مریدی کی مقامی روایات کے مطابق ہیومن پارٹی کے سربراہ اور سابق ایم این ایز سید سلمان محسن گیلانی اور سید اطہر گیلانی بھی میاں محمود احمد بسی شریف کی بیٹی عامرہ بی بی کی بالکل مخالفت نہیں کریں گے کیونکہ میاں محمود احمد خود بھی مقامی بڑی مذہبی گدی سے وابستہہیں مسلم لیگ ن کے مد مقابل پی ٹی آئی ابھی تک اپنا ونگ نہیں بنا سکی صرف دو صوبائی حلقوں میں دیوان عظمت چشتی اور فرخ مانیکا کے نام سامنے آ رہے ہیں جو صرف اپنی ہی کمپین کر رہے ہیں کسی واضح پینل کی نہیں شہر کی صوبائی سیٹ پر دیوان عظمت چشتی ،میاں نوید علی اور چوہدری جاوید احمد عوام کے آییڈیل امیدوار ہیں جن میں کانٹے دار مقابلہ ہوگا اور قومی اسمبلی میں بھی کسی ہار جیت کا باعث شہری پولنگ اسٹشن ہوں گے ۔

پاک پتن

مزید :

صفحہ اول -