ضلع فیصل آباد کے 10قومی حلقوں میں انتخابی دنگل ہو گا

ضلع فیصل آباد کے 10قومی حلقوں میں انتخابی دنگل ہو گا

  

فیصل آباد(منیر عمران سے)ضلع فیصل آباد کو انتخابی لحاظ سے 10قومی اسمبلی کے اور 21صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے الیکشن کمیشن نے ان حلقوں میں جو علاقے شامل ہیں ان کی تفصیل بھی اپنی ویٹ سائٹ پر جاری کر دی ہے. اس تقسیم اور تعین میں قبل ازیں کئی بار ردوبدل بھی ہوا‘ چند روز قبل بھی ان حلقوں کو فائنل کیا گیا جن کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم بھی شروع کر دی ان علاقوں میں فلیکسز اور بینرز بھی آویزاں کر دیئے گئے ووٹروں سے میل ملاقاتیں بھی ہونے لگیں پی ٹی آئی کے ایک امیدوار ان لسٹوں کی بنیاد پر پی پی 115میں اپنی کمپنیئن کیلئے بھی پہنچ گئے ابھی حال ہی میں جب تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ حلقہ پی پی 115میں تو کوہ نور فلیٹس والا علاقہ ہی شامل نہیں جسے یونین کونسل نمبر57کہا جاتا ہے آخری فہرست میں چیک کیا گیا تو کوہ نور فلیٹس کا علاقہ تو پی پی 112میں آتا ہے‘ یہ کنفیوژن ابھی ختم نہیں ہوئی سیاسی حلقوں میں ابھی افواہیں یا تجویزیں سرکل کر رہی ہیں کہ قومی اسمبلی کے حلقوں میں تو شاید اب کوئی رودبدل نہ ہو مگر صوبائی حلقوں میں ابھی مزید ردوبدل کی گنجائش ہے. وہ ردوبدل انتظامی طور پر بھی ہو سکتا ہے اور کسی عدالتی فیصلے کے نتیجے میں بھی‘ یہ بھی ممکن ہے کہ موجودہ فہرستیں ہی قائم رہیں. ان افواہوں‘تجویزوں اور ردوبدل کی باتوں کی وجہ سے امیدوارو‘ ان کے سپورٹرز اور ورٹرز کو کنفیوژ کر رکھا ہے جس سے وہ انتخابی رونقیں شروع نہیں ہو رہیں جن کی ماضی میں مثالیں ملا کرتی تھیں2013ء کی حلقوں کی تقسیم میں فیصل آباد کے قومی اسمبلی کے ایک دو حلقے ایسے تھے جن میں دو صوبائی حلقوں کے علاوہ تیسرے صوبائی حلقہ کے چند ایک علاقے شامل تھے مگر 2018ء کی فہرستوں میں قومی اسمبلی کے ایسے حلقوں کی تعداد دو سے زیادہ ہے. اس مرتبہ چند ایک ایسے صوبائی حلقے بھی موجود ہیں جن میں علاقوں کی شمولیت کا تذکرہ اس طرح بھی کیا گیا ہے کہ فلاں فلاں کونسل یا پٹوار یا قانونگو حلقہ کے علاوہ باقی علاقے شامل ہیں مثال کے طور پر حلقہ پی پی 97میں درج ہے کہ چک نمبر3‘48‘6‘114‘115‘198ر. ب کے علاوہ فیصل آباد تحصل صدر کے قانونگو حلقہ گٹ والا کے باقی علاقے شامل ہیں‘ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فہرست میں ان علاقوں کے نام اس فہرست میں درج کئے جاتے جو اس میں شامل ہیں ایسی چند ایک اور مثالیں ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کنفیوژن کو فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ کسی قسم کی دھاندلی کی شکایت پیدا نہ ہو اور انتخابات کا مرحلہ پرامن اور صاف شفاف طریقے سے اپنے انجام کو پہنچے۔

انتخابی دنگل

مزید :

صفحہ اول -