بابا ہمیں معاف رکھو ، ناصر کھوسہ کے بعد ناصر درانی نے بھی معذرت کر لی

بابا ہمیں معاف رکھو ، ناصر کھوسہ کے بعد ناصر درانی نے بھی معذرت کر لی
بابا ہمیں معاف رکھو ، ناصر کھوسہ کے بعد ناصر درانی نے بھی معذرت کر لی

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

تحریک انصاف نے اپنی یو ٹرن کی درخشاں روایت برقرار رکھی اور ناصر کھوسہ کا نام پیش کرنے کے بعد جب منظور کر لیا گیا اور رانا ثناء اللہ کے بقول جب سمری گورنر کو ارسال کی جا چکی تھی تو یہ نام واپس لے لیا، قائد حزب اختلاف محمود الرشید نے جن کا تعلق تحریک انصاف سے ہے، ناصر کھوسہ کا نام تجویز کیا تھا جو شہبازشریف نے قبول کر لیا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ قائد حزب اختلاف کے پیش کردہ نام کی قبولیت تھی جسے سراہا جانا چاہئے تھا لیکن جب ناصر کھوسہ کا نام سامنے آنے کے بعد اس کی تعریف و تحسین شروع ہوئی اور بطور بیوروکریٹ اُن کے کارنامے گنوائے گئے۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ اصول پسند اور میرٹ کو مدنظر رکھنے والے افسر رہے ہیں، دباؤ میں بھی نہیں آتے تو یہ اوصاف سامنے آنے کے بعد عمران خان کا ماتھا ٹھنکا ہوگا کہ اتنا اصول پسند اور میرٹ کو مدنظر رکھنے والا آدمی ہمارے کس کام کا؟ چنانچہ انہوں نے یو ٹرن لینے میں کوئی قباحت نہیں سمجھی کہ جہاں سیاست میں اتنے بہت سارے یوٹرن ان کے کریڈٹ پر ہیں ٹوپی میں سرخاب کا ایک اور پر لگ جانے سے کیا فرق پڑے گا، سو انہوں نے نام واپس لے لیا، ویسے آپ تصور فرمائیں کہ جس جماعت کا قائد ایوان اپنے صوبے میں آزادانہ فیصلہ نہیں کر سکتا، وہاں بے چارہ قائد حزب اختلاف کیا بیچتا ہے جسے لاہور کے جلسے میں اتنے بڑے سٹیج پر بیٹھنے کا بھی مستحق نہیں سمجھا گیا، ان کے لئے تین میں نہ تیرہ میں والا محاورہ بھی نہیں بولا جا سکتا کیونکہ وہ پارٹی کی نگاہ میں ہزاروں میں بھی نہیں۔ قائد حزب اختلاف کہتے ہیں کہ ناصر کھوسہ کا نام عمران خان نے دیا تھا۔ ظاہر ہے ان کے سوا کون دے سکتا تھا، لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ نام آخر واپس کیوں لیا گیا؟ اس سلسلے میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں، ان میں بنیادی بات تو یہی ہے جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں کہ ناصر کھوسہ میرٹ پر یقین رکھتے ہیں۔ اب وہ اگر ایک ایسے صوبے کے (نگران) وزیراعلیٰ بننے جا رہے تھے جو رقبے اور آبادی دونوں کے لحاظ سے دنیا کے کئی ملکوں سے بھی بڑا ہے اور جو پاکستان میں وفاق کے اقتدار کی کنجی ہے۔ اب تصور فرمایئے کہ وہ بطور وزیراعلیٰ ایسے فیصلے کرنے لگ پڑتے جو خان صاحب کو پسند نہ ہوتے اور وہ ان فیصلوں پر اسی طرح تنقید شروع کر دیتے جس طرح انہوں نے جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم پر شروع کر دی تھی حالانکہ جب وہ نامزد ہوئے تھے تو اس پر خوشی کے شادیانے بجائے گئے تھے لیکن ان کے کرائے ہوئے انتخابات کا نتیجہ جب ان کے حسب توقع نہ نکلا تو انہوں نے فخر الدین جی ابراہیم کو نشانے پر رکھ لیا حالانکہ سپریم کورٹ کے عدالتی ٹریبونل نے بھی قرار دیا کہ 2013ء کے انتخابات میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی لیکن آج تک اس کو نہیں مانا گیا۔ بہت اچھا ہوا عمران خان نے ابھی سے ناصر کھوسہ کو ’’ڈس اون‘‘ کر دیا، ابھی تک ان کا کچھ نہیں بگڑا تھا۔ وہ وقت پر ہی چھوٹ گئے اور اب انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ صوبے کے نگران وزیراعلیٰ نہیں بننا چاہتے جیسے کہہ رہے ہوں بخشو بی بلی، چوہا لنڈورا ہی بھلا، ایسے منصب کا کیا فائدہ جس پر چند دن بعد سیاہی ملی جانے والی ہو اور اس کا اندازہ اس ردعمل سے ہوا ہے جو ’’اتفاق رائے‘‘ کے بعد سامنے آیا۔ کہا جاتا ہے کہ آدمی کو کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے سوبار سوچنا چاہئے اور جب کوئی فیصلہ کر لیا جائے تو اس پر چٹان کی طرح ڈٹ جانا چاہئے، لیکن یہاں نو سوچ بچار ہے نہ ڈٹ جانے کا حوصلہ، عجلت میں فیصلہ کیا گیا اور پھر اتنی ہی عجلت میں واپس لے لیا گیا، گویا نہ فیصلے سے پہلے سوچا اور نہ فیصلہ کرنے کے بعد؟

ناصر کھوسہ کا نام واپس لینے کے بعد عمران خان نے پہلے جتنی ہی عجلت بلکہ جلدبازی سے دو مزید نام دے دیئے ہیں جن میں سے ایک تو ناصر درانی ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک کے پی کے میں پولیس کے سربراہ تھے اور شُنید یہ ہے کہ انہوں نے صوبے کی پولیس کو ’’غیر سیاسی‘‘ بنا دیا ہے، ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن ایک ایم پی اے خاتون نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد مختلف کہانی سنائی، ممکن ہے ’’غیر سیاسی‘‘ پولیس کی برکات نیچے تک نہ پہنچی ہوں اور خلائے بسیط ہی میں تیر رہی ہوں کیونکہ قتل کی بہت سی ایسی وارداتیں تو کے پی کے میں بھی ہوتی ہیں جن کے ملزم نہیں پکڑے جاتے اور بیرون ملک فرار ہو جاتے ہیں۔ یہ کام وہ ہے جو ہر صوبے میں ہو رہا ہے اور اگر ناصر درانی کی غیر سیاسی پولیس والے صوبے میں ہو رہا تھا تو کیا غلط تھا؟ پولیس سیاسی ہو یا غیر سیاسی، اس کا کلچر جو کوئی تبدیل کر سکتا ہے ایسا مرد جری ابھی سامنے نہیں آیا، جس کسی نے بھی دعویٰ کیا وہ دعویٰ ہی رہا، تو خیر بات ہو رہی تھی نئی نامزدگیوں کی، جو تحریک انصاف کی جانب سے سامنے آئی ہیں لیکن ناصر درانی کے سامنے جو کچھ ناصر کھوسہ سے ہوا (یا عہدہ سنبھالنے کی صورت میں ہونے والا تھا) اسے دیکھ کر انہوں نے بھی معذرت کر لی ہے اور کہا ہے کہ وہ نگران وزارت کے بغیر ہی اچھے ہیں، اب آپ ذرا تصور فرمایئے کہ اگر ناصر درانی کسی طرح وزیراعلیٰ نامزد ہو جاتے اور حلف بھی اٹھا لیتے اور اپنی ’’غیر سیاسی پولیس‘‘ کی شہرت سے فائدہ اٹھا کر ایسے اقدامات شروع کر دیتے جو قابل قبول نہ ہوتے تو کیا بنتا مثلاً وہ عہدہ سنبھالتے ہی کسی غیر سیاسی کو چیف سیکرٹری اور کسی دوسرے کو آئی جی لگا دیتے تو ایسا کتنوں کے لئے قابل قبول ہوتا، کیونکہ نگران حکومتوں سے نہ جانے کس کس نے کیسی کیسی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ ممکن ہے ان امید لگانے والوں میں سے کوئی یہ بھی چاہتا کہ چیف سیکرٹری میری مرضی سے لگے گا اور کوئی دوسرا اس امر کا خواہش مند ہوتا کہ آئی جی میرا بندہ ہونا چاہئے۔ ایسے میں جناب ناصر درانی کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے، اس لئے انہوں نے اچھا کیا کہ خبر سن کر ہی معذرت کر لی، دوسرا نام جو تحریک انصاف نے دیا ہے وہ پروفیسر حسن عسکری کا ہے جو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات میں استاد رہے ہیں اور اب ریٹائر ہیں۔ تجزیہ نگار ہیں اور ایسا تجزیہ کرتے ہیں کہ سیاسی کھلاڑیوں کا دل جیت لیتے ہیں۔ وہ کبھی عملی سیاست میں نہیں رہے اور نہ ہی کسی انتظامی منصب پر فائز رہے ہیں، بیوروکریٹ رہے ہیں اور نہ ہی کاروبار حکومت کا عملی تجربہ رکھتے ہیں۔ اب اگر قرعہ فال ان کے نام نکل آتا ہے تو ایک بات یقینی ہے، اعلیٰ عہدوں پر من پسند تقرر زیادہ مشکل نہیں رہے گا کیونکہ پروفیسر صاحب کی اس کوچے سے آشنائی ہی نہیں، افسر جو نام دیں گے اور اس پر اپنی سمری میں جیسی حاشیہ آرائی کریں گے پروفیسر صاحب کو وہ قبول کرنا پڑے گی، ویسے بعید نہیں وہ بھی دو ناصروں کی طرح معذرت ہی کر لیں، کیونکہ جو کام انہوں نے 75 سال تک نہیں کیا اب کس طرح کر سکیں گے۔ اس لئے بہتر ہے تحریک انصاف مزید نام تلاش کر رکھے۔

مزید :

تجزیہ -رائے -