14ویں قومی اسمبلی تحلیل ، سپیکر کی سبکدوش وزیر اعظم ، رہنماؤں کو یاردگاری شیلڈ ز پیش

14ویں قومی اسمبلی تحلیل ، سپیکر کی سبکدوش وزیر اعظم ، رہنماؤں کو یاردگاری ...

  

اسلام آباد(صبا ح نیوز)وزارت پارلیمانی امور نے 31 مئی 2018 ء کی رات بارہ بجے 14ویں قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔رات بارہ بجے قومی اسمبلی کی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہو گئی جس کے بعد ملک میں نگران حکومت آئے گی، جو 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات تک ملکی معاملات سنبھالے گی۔نگران حکومت کے لیے اب تک صرف نگران وزیر اعظم کے نام کو حتمی شکل دی گئی ہے اور سابق چیف جسٹس ناصرالملک یہ ذمہ داری نبھائیں گے۔چاروں صوبوں کے نگران وزرائے اعلی کے ناموں کو حتمی شکل دیاجانا اب بھی باقی ہے۔قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے سے متعلق وزارت پارلیمانی امور نے نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 52 کے تحت جاری کیا۔نوٹیفیکیشن کی کاپیاں وزیر اعظم آفس، ایوان صدر، چاروں صوبوں، الیکشن کمیشن، قومی اسمبلی اور سینیٹ کو بھیج دی گئی ہیں۔قومی اسمبلی کے پانچ سال مکمل ہونے پر سبکدوش وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت تمام حکومت اپوزیشن پارلیمانی رہنماوں کو سپیکر کی طرف سے ’’ یادگاری شیلڈز ‘‘ پیش کی گئیں ان میں پاکستان تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان بھی شامل ہیں ۔ پانچ سال مکمل کرنے پر سبکدوش وزیر اعظم کو سرٹیفیکٹ بھی پیش کیا گیا ہے ۔ یہ رسم قومی اسمبلی کے اجلاس میں ادا کی گئی مدت مکمل کرتے ہوئے قومی اسمبلی تحلیل ہو گئی ہے ۔ اسمبلی کے آخری اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قائد ایوان اور پارلیمانی رہنماوں کے لیے یادگاری شیلڈز کا اعلان کیا ۔ اجلاس کے دوران سپیکر کی طرف سے ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی نے اسمبلی کی مدت کی تکمیل پر سبکدوش وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو سرٹیفیکٹ اور یادگاری شیلڈ پیش کی اسی طرح انہوں نے سبکدوش اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کو بھی شیلڈ پیش کی ۔ عمران خان کی شیلڈ ڈاکٹر شیریں مزاری جبکہ شاہ محمود قریشی کی شیلڈ شہریار آفریدی نے وصول کی ۔ اجلاس میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی رہنما صاحبزادہ طارق اللہ ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی ، ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی کو یادگاری شیلڈز پیش کیں ۔ جے یو آئی ( ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی شیلڈ قبائلی رکن مولانا جمال الدین نے وصول کی سپیکر کی طرف سے دیگر تمام پارلیمانی رہنماوں کو یادگاری شیلڈز دی گئی ہیں ۔

قومی اسمبلی تحلیل

مزید :

کراچی صفحہ اول -