مسلسل دوسسری جمہوری حکومت کی مدت مکمل ، مسائل حل کرنے کیلئے سول مذاکرات ضروری : شاہد خاقان ، مدت کی تکمیل پارلیمنٹ کی فتح جمہوریت کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے : خورشید شاہ

مسلسل دوسسری جمہوری حکومت کی مدت مکمل ، مسائل حل کرنے کیلئے سول مذاکرات ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوا ایجنسیاں ) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کاکہا ہے کہ صاف و شفاف انتخابات ملک کی اہم ضرورت ہے اور پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے سول مذاکرات ضروری ہیں۔قومی اسمبلی کے الوداعی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دوسری بار اسمبلی اپنی مدت پوری کررہی ہے، خورشید شاہ نے بطور اپوزیشن لیڈر مثالی خدمات انجام دی ہیں، انہوں نے ہمیشہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بات کی، تمام اپوزیشن کا مشکور ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایوان میں جب ضرورت پڑی اتفاق رائے نظر آیا، دو ماہ تک الیکشن ہوں گے لیکن تمام جماعتوں نے فاٹا کے معاملے کو سنجیدہ لیا، فاٹا انضمام کے معاملے پر اتفاق رائے قائم ہوا، اتفاق رائے کی وجہ سے جمہوریت اور پارلیمنٹ مضبوط ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھاکہ جو حکومت مدت پوری کرتی ہے اس کی کارکردگی عوام کے سامنے ہوتی ہے، 2013 میں ملک میں امن وامان کی صورتحال خراب تھی لیکن آج سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال 2013کے مقابلے میں بہت بہتر ہے، سول و عسکری قیادت نے مل کر ملک میں امن قائم کیا، ہماری افواج نے ایسی جگہ پر دشمن کو ہرایا جہاں تمام دنیا کی افواج نہیں کرسکیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج کراچی میں صرف اسٹریٹ کرائم باقی ہے، کراچی کے حالات آج ویسے ہیں جیسے کسی بڑے شہر کے ہونے چاہئیں۔وزیراعظم کا کہنا تھاکہ 2013 کے مقابلے میں ملک کی معیشت بہت بہتر ہے،آج کے حالات 5 سال کے حالات سے بہت بہتر ہیں، جو معیشت اگلی حکومت کو دے کر جائیں گے وہ اس سے بہت بہتر ہوگی جو ہمیں ملی تھی، پاکستان میں معیشت کو مضبوط کرنے کی بہت صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں لوگ سرمایہ کاری کررہے ہیں، بیرونی سرمایہ کاری کی وجہ سے معیشت میں بہتری آئی، ملک کی معاشی پالیسیاں سیاسی پالیسیوں سے جڑی ہیں، ملک میں بجلی کا بحران تھا، آج اس پر قابو پالیاگیا ہے، آئندہ 15سالوں میں بھی پاکستان میں بجلی کی کمی نہیں ہوگی، ملک میں پہلی بار کوئلے کے منصوبے ہم لے کرآئے، گیس کے 114 نئی کنویں دریافت ہوئے ہیں، پاکستان میں آج ہر صارف کو اپنی ضرورت کے مطابق گیس مل رہی ہے، ایران پاک گیس پائپ لائن پابندیوں کا شکار ہے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کوئی حرف نہیں آنے دیا، کشمیر کا مسئلہ ہم نے ہر فورم پر اٹھایا، افغانستان کے مسئلے پر دنیا ہمارے مؤقف کی تائید کرتی ہے۔ان کا کہنا تھاکہ انتخابات میں ایک دن کی بھی تاخیر برداشت نہیں ہوگی، صاف و شفاف انتخابات ملک کی اہم ضرورت ہے، پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے سول مذاکرات ضروری ہیں، مسائل کے حل کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، ۔وزیراعظم نے کہا کہ نیب جو کچھ کررہی ہے اس پر سرکاری افسر کے لیے بہتر آپشن یہی ہے کہ وہ کوئی فیصلہ نہ کریں، وقت اور حالات کے مطابق مشکل فیصلے کرناپڑتے ہیں۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھاکہ پانچ سال میں جمہوریت پر بہت سے حملے ہوئے، اخبار خبروں سے بھرے رہے کہ اسمبلی جارہی ہے، جمہوری عمل میں بہت سے کامے اور فل سٹاپ لگانے کی کوشش کی گئی۔قومی اسمبلی کے الوداعی اجلاس میں وزراء اور حکومتی ارکان سمیت اپوزیشن اراکین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی کی جانب سے پارلیمانی رہنماؤں کو شیلڈ پیش کی گئی۔ پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ (ن) کو 5 سالہ آئینی مدت مکمل کرنے کا اعزاز حاصل ہوی ہے۔ اس سے قبل ملکی تاریخ میں کبھی کسی سیاسی جماعت نے اپنی پانچ سالہ حکومتی مدت پوری نہیں کی۔قومی اسمبلی کے الوداعی اجلاس میں اظہار خیا ل کر تے ہوئے سپیکر سردار ایاز صادق نے کہامجھے حکومت اور اپوزیشن دونوں کا تعاون حاصل رہا۔ انہوں نے کہا کہ 1988 سے 90 تک کی اسمبلی میں 13 قوانین پاس کیے گئے۔1990 سے 93 تک 60 قوانین پاس کیے گئے۔ 1993 سے 96 تک 54 قوانین پاس کیے گئے۔1997 سے 99 تک 51 قوانین پاس کیے گئے۔ 2002 سے 2007 تک اسمبلی نے 38 قوانین پاس کیے۔2008 سے 2013 تک کی اسمبلی نے 93 قوانین پاس کیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ نے اب تک 187 قوانین پاس کیے۔پانچ آئینی ترامیم بھی منظورکیں جبکہ 21 پرائیویٹ ممبران کے بل پاس کیے گئے۔ اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی نے تعاون پرتمام ممبران اورپارلیمانی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خورشید شاہ کا بھی شکرگزار ہوں کہ حکومت اور اپوزیشن کی تنقید وہ برداشت کرتے رہے، جمہوریت کیلئے ان کا کردار تاریخی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کی رہنمائی مجھے گاہے بگاہے ملتی رہی ہے، ریاض حسین پیرزادہ کا پارلیمنٹ میں کردار اہم رہا ہے، نوید قمر ویسے تو بہت نرم ہیں لیکن ایشوز میں بہت سخت ہیں، شاہ محمود قریشی نے بھی پارلیمنٹ میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے سابق دوست عمران خان کا بھی شکریہ ادا کروں گا کہ انہوں نے اس ہاؤس میں جو کردار ادا کیا ہے، صاحبزادہ طارق اللہ اپنا گلہ بھی شرافت میں کرتے تھے،محمود خان اچکزئی نے جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اہم کر دار ادا کیا ،آفتاب خان شیرپاؤ کا سابق وزیر داخلہ کی حیثیت سے تجربہ تھا، مولانا فضل الرحمان نے بھی میری بہت رہنمائی کی ہے، اس دوران بعض ارکان اسمبلی نے شیخ رشید کا نام لینے کیلئے بھی آواز لگائی، جس پرسپیکر نے کہا کہ میں شیخ رشید اور جمشید دستی کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے خواتین پارلیمنٹیرینز کے کردار کو بھی سراہا اور میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیاقومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی رہنماء شیریں مزاری نے کہا ہے کہ ہم نے بجٹ تقریر کا احتجاج (ن) لیگ سے سیکھا ہے، کورم کی نشاندہی کرنا جمہوریت کا حصہ ہے ، ہم نے حکومت کی کمزوریوں کی نشاندہی کی، میرے بارے میں جو غلط الفاظ استعمال کئے گئے، اللہ اس کا حساب لے گا۔ شیریں مزاری نے کہا کہ ہم نے حکومت پر کافی تنقید کی، آپ سے برداشت سیکھی، آپ نے جمہوری رویہ دکھایا ،انہوں نے کہا کہ ہم پہلی مرتبہ اسمبلی آئے تھے ، میرے لئے یہ سیکھنے کا تجربہ رہا، یہ جمہوریت کا حصہ ہے کہ کورم کی نشاندہی کریں، ہم نے حکومت کی کمزوریوں کی نشاندہی کی، میں شیخ آفتاب کا شکریہ ادا کرتی ہوں، ان پر ہم نے کافی پریشر ڈالا، ہمیں ان سے بہت ہمدردی رہی ہے، حکومت ان کو ایسی صورتحال میں چھوڑ دیتی تھی،یہ کچھ کر نہیں سکتے تھے، انہوں نے ہمیشہ ہنس کر بات کی، ان کو کافی کچھ برداشت کرنا پڑا، شیریں مزاری نے کہا کہ کئی کمیٹیوں میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، خورشید شاہ ہماری رائے آپ تک پہنچاتے تھے،ہمارا فرض بنتا ہے کہ حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کریں۔قومی ا سمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کی ٗ دوسری بار جمہوری حکومت اور پارلیمان کی مدت کی تکمیل پارلیمینٹ اورجمہوریت کی فتح ہے ٗسیاست کی جیت عوام کے قدموں تلے ہے ٗ آج بھی ووٹ منشور یا پالیسی کے تحت نہیں برادریوں پر ملتا ہے، جب تک پاکستان میں تعلیم عام نہیں ہوگی تب تک اس حوالے سے شعور نہیں آئے گا، جمہوریت کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پوری کوشش کی کہ ایوان میں سیاست کو گالم گلوچ میں تبدیل نہ کروں تاہم اس دوران الزامات عائد کیے جاتے رہے کہ میں نے فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ آج تمام ارکانِ پارلیمنٹ کو علم ہے کہ اسمبلی کی مدت پوری ہورہی ہے، اور وزیراعظم کو بھی علم ہے کہ وہ آج وزیراعظم ہاؤس سے واپس چلے جائیں گے۔اپنے خطاب میں خورشید شاہ نے پارلیمنٹ کی مثبت کوریج کرنے پر میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ گزشتہ سالوں میں ہمیں اگلے دن کا یقین نہیں ہوتا تھا کہ اسمبلی ہوگی یا نہیں‘ آج خوشی ہے کہ پارلیمنٹ کے ممبران کو علم ہے کہ وہ اپنی مدت پوری کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کو بھی علم ہے کہ انہیں رات بارہ بجے وزیراعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر ملناجمہوریت کی فتح ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر نے جتنے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اس پر آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ آپ نے اپوزیشن کو حکومت سے بڑھ کر وقت دیا۔ آپ کا نام تاریخ میں اہم حروف میں لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی قائد ایوان کے طور پر فعال رہے۔ انہوں نے کہا کہ دعا ہے پاکستان قائم رہے اور اس کا سایہ قائم رہے۔ صحیح حلقوں میں عوام کی نمائندگی ہوتی رہے۔ صاف شفاف انتخابات ہوں اور عوام کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔آ فتاب احمد خان شیرپاؤ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ اس اسمبلی نے بڑے نشیب و فراز دیکھے ہیں لیکن سپیکر کے کردار ‘ تحمل‘ برداشت اور دور اندیشی نے اس اسمبلی کا وقار بلند کیا ہے، یہ ہمارے لئے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام بل اور انتخابی اصلاحات بل موجودہ پارلیمنٹ کی اہم کامیابیاں اور کارنامہ ہے۔۔الوداعی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے سپیکر سردار ایاز صادق کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں اپنے حلقے سے انتخابات میں حصہ لینے کی دعوت دی۔ ریاض پیرزادہ نے کہا کہ اس پارلیمان اور اس سے قبل کی پارلیمانوں سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا لیکن احتجاج کے حوالے سے پارلیمان میں اراکین کے طرز عمل میں جو تبدیلی آئی ہے وہ اچھی نہیں ہے۔ احتجاج یونین کونسل کی سطح پر آیا ہے۔ پارلیمان کو اعلیٰ اقدار کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ نواز شریف کو آئین کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرنے پر سزا دی جا رہی ہے،قومی اسمبلی کی بدقسمتی ہے کہ اس کے ارکان کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا گیا، عمران خان، بلاول بھٹو، فضل الرحمان اور نواز شریف قوم سے وعدہ کریں کہ وہ کسی کے ماتحت نہیں بنیں گے بلکہ دوسرے لوگ اس پارلیمنٹ کے ماتحت ہوں گے،سیاسی پارٹیوں کو توڑنے سے پاکستان نہیں چلے گا۔ قومی اسمبلی میں الوداعی خطاب کر رہے تھے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اس ایوان کی بدقسمتی تھی کہ قائد ایوان نواز شر یف کو واضح اکثریت ہونے کے باوجود نااہل کیا گیا، حکومت میں بیٹھے لوگوں نے اپنے پتے ٹھیک طرح نہیں کھیلے، حکومت کے پاس2تہائی اکثریت تھی، وہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کورٹ کے فیصلوں کو بدل سکتی تھی، مگر ایسا نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے نواز شریف سے آج تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، اگر اس نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اس کو سزا دی جائے۔ نواز شریف کو سزا اسلئے دی جا رہی ہے کہ وہ آئین کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتاہے، آ ج سیاسی پارٹیوں کو توڑا جا رہا ہے، ایسے پاکستان نہیں چلے گا، ہمیں ہر صورت پاکستان کو بچانا ہو گا، تجزیہ نگار زہد حامد نے ٹی وی پر بیٹھ کر پارلیمنٹیرین کو گالیاں دیں اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا ۔ پاک فوج نے گن پوائنٹ پر فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام کروایا، یہ جج اور جرنیل سے درخواست ہے کہ آئین سے نہ کھیلیں، جو الیکشن جیتتا ہے اسے جیتنے دیں، مجھے جس دن محسوس ہوا کہ عوام کے مینڈیٹ کو نہیں مانا جا رہا توخاموشی سے گھر چلا جاؤں گا، یہ اسمبلی بدقسمت ہے کہ اس کے ارکان کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا گیا، آئین ہمارا ہے جو سپریم ہے، جمہوری ملک میں سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور ارکان کو ایک کرنل، جرنیل اور بریگیڈیئر فون نہیں کرتے ، ایسے جمہوریت مضبوط نہیں ہو گی ، آئین سپریم ہے، عمران خان، بلاول، فضل الرحمان ، نواز شریف ہم سے وعدہ کریں کہ وہ کسی کے ماتحت نہیں بنیں گے بلکہ دوسرے لوگ اس پارلیمنٹ کے ماتحت ہوں گے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -