کوہاٹ ،اورکزئی خاندان کے گھر پر دھاوا کی خبر میں صداقت نہیں ،پولیس ترجمان

کوہاٹ ،اورکزئی خاندان کے گھر پر دھاوا کی خبر میں صداقت نہیں ،پولیس ترجمان

  

پشاور( سٹاف رپورٹر)کوہاٹ پولیس ترجمان نے بعض قومی اخبارات میں شائع ہونیوالی ان خبروں کی تردید کی ہے جسمیں بتایا گیا ہے کہ بااثر پولیس افسر کی ایماء پر کوہاٹ پولیس نے اورکزئی خاندان کے گھر پر دھاوا بول دیا اور گھر میں موجود قیمتی سامان ساتھ لے گئی۔ایک وضاحتی بیان میں پولیس ترجمان نے کہا ہے کہ دراصل 24مئی کی رات علاقہ جنگل خیل میں 27سالہ مقامی باشندے ثاقب خان ولد شعیب خان کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتارا گیا اور مقامی پولیس نے برقت کاروائی کرتے ہوئے قتل کے اس واقعے میں ملوث اورکزئی خاندان سے تعلق رکھنے والے دو ملزمان بھائیوں جان اکبر اور افتخار پسران میر اصغر کو موقع پر آلہ قتل پستول سمیت گرفتار کرلیا اور انکے خلاف تھانہ جنگل خیل میں مقتول کے چچا وہاب خان کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کرلیا ۔پولیس ترجمان نے مزید کہا کہ قتل کے مقدمے میں گرفتار دونوں ملزمان کو جیل بھیجا جا چکا ہے اور انکے خلاف عدالت میں کیس ٹرائل کے سلسلے میں شفاف تفتیش کی مزید قانونی کاروائی جامع طریقہ کار کے مطابق جاری ہے ۔ترجمان نے قتل کیس میں گرفتار ملزمان کے والد میر اصغراور چچا عبدالولی کی جانب سے کوہاٹ پولیس پرجانبداری اور بااثر پولیس افسر کی ایماء پر انکے گھر سے قیمتی سامان لے جانے کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا۔پولیس ترجمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس فورس میں نظم وضبط اور چیک اینڈ بیلنس کا باقاعدہ نظام موجود ہے جبکہ عوام کی جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ پولیس کے اولین فرائض میں شامل ہے جوکہ اس طرح کے الزامات کی سختی سے نفی کرتی ہے اورموجودہ پولیس نظام میں خلاف قانون کسی بھی عمل کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔انہوں نے کہا کہ ایس پی انوسٹی گیشن کی زیر نگرانی پولیس کی تحقیقاتی ٹیم قتل کے اس مقدمے کی جامع اور شفاف تفتیش کررہی ہے جو کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیراپنے فرائض منصبی انجام دیکر کیس کو عدالت میں کامیابی سے ہمکنار کرے گی لہٰذا ملزمان اور مقتول کے خاندانوں کیساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی صرف انصاف ہوگا اور جلد ہوگا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -