فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں‘ جوس‘ برف کارخانے اور بیکری سربمہر

فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں‘ جوس‘ برف کارخانے اور بیکری سربمہر

  

ملتان ( سٹاف رپورٹر) پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ملتان میں واقع بھٹی اینڈ سنز کمپنی کو مصنوئی فلیورز ، سکرین اور کیمیکلز کے استعمال سے جوس تیار کرنے ،مضر صحت اجزاء ، آلودہ پانی استعمال (بقیہ نمبر8صفحہ12پر )

کرنے، فلٹر تبدیل نہ کرنے، حشرات کی بہتات،زنگ آلود مشنری اور غیر معیاری بوتلوں کے استعمال پر وقاص سوڈا واٹریونٹ کو سیل کر دیا۔ بہاولپور بائی پا س پرکاروائی کرتے ہوئے فوڈ سیفٹی ٹیموں نے عامر پپو بیکری کودی گئی ہدایات پر عمل نہ کرنے،ریکارڈ کی عدم موجودگی،گندے فریزرز،کیمیکل ڈرمز کے استعمال،پروسیسنگ ایریامیں واش روم کی موجودگی،مٹھائیوں میں حشرات کی موجودگی اورمیڈیکل سرٹیفیکیٹس نہ ہونے پر سربمہر کر دیا۔دوسری جانب ڈیرہ غازی خان فوڈ سیفٹی ٹیمز نے صحت دشمن عناصر کے خلاف کاروائیاں کرتے ہوئے مظفر گڑھ میں واقع الکرم واٹر فلٹریشن پلانٹ،لیہ میں مدینہ آئس فیکٹری،راجن پور میں خواجہ آئس فیکٹری اورمدینہ آئس فیکٹری کودی گئی ہدایات پر عمل نہ کرنے،آر او فلٹر کی عدم موجودگی،زنگ آلود مشینری،آلودہ پانی استعمال کرنے،ورکرز کی ذاتی صفائی نہ ہونے ،گندے اور بدبودارکی وجہ سے سیل کر دیا گیا۔مزید برآں فوڈ سیفٹی ٹیمز نے جنوبی پنجاب میں کاروائیاں کر تے ہوئے صفائی کے ناقص انتظامات ، حشرات کی بھرمار ،سابقہ ہدایا ت پر عمل نہ کرنے ، زائدلمعیاد اشیاء کی موجودگی ، ملازمین کے میڈیکلز کی عدم دستیابی اورحفظانِ صحت اصولوں کی خلاف ورزی پرمتعدد فوڈ پوائنٹس کو ملتان میں 99,000 ،ڈیرہ غازی خان میں70000،مظفر گڑھ میں 57000،لیہ میں 20000 جبکہ رحیم یار خان میں15000کے جرمانے عائد کیے گئے۔مزید کاروائیوں میں350غیر معیاری قلفیاں،2000لیٹر دودھ، 1200خالی بوتلیں،1000ماہی مینگو ڈرنکس،700آئس بلاکس، 600مینگو جوس فائنل پروڈکٹس،400لکڑی کے ڈھکن،100فائنل پروڈکٹس،4مکسر،2اوون ،75کلوگلے سڑے پھل وسبزیاں 20کلوگرام رنگدار پاپڑ،74ساشے گٹکا،50کلوگرام ملاوٹی سرخ مرچیں،10کلو گرام خراب چکن ،8لیٹر ناقص آئل،8باکس زائدالمیعاد چائے کے پتے برآمد کر کے تلف کر دئے گئے۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کے فوڈ سیفٹی ٹیمز جنوبی پنجاب میں کاروائیاں کرتے ہوئے متعدد فوڈ پوائنٹس کومزید بہتری کے لیے وارننگ نوٹسز جاری کیے گئے جن پر عمل نہ کرنے پر سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

فوڈ اتھارٹی کارروائیاں

مزید :

ملتان صفحہ آخر -