کنٹونمنٹ بورڈ حکام کی ملی بھگت، پلازہ میں 8دکانوں کی قواعد کے برعکس فروخت کا انکشاف

کنٹونمنٹ بورڈ حکام کی ملی بھگت، پلازہ میں 8دکانوں کی قواعد کے برعکس فروخت کا ...

  

ملتان (نیوز رپورٹر) سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر کنٹونمنٹ بورڈ اور وائس (بقیہ نمبر14صفحہ12پر )

پریذیڈنٹ کی ملی بھگت سے مال پلازہ کروڑوں روپے مالیت کی دکانوں کی قواعد کے برعکس فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔ مال پلازہ کی آٹھ دکانیں نجی بینک کو کرایہ پر دی گئیں‘ بعدازاں انہیں کنٹونمنٹ بورڈ قوانین کے برعکس ٹرانسفر کے اختیار بھی سونپ دیئے گئے جس کے بعد چند سالوں میں نجی بینک نے عثمان مشتاق نامی شخص کے نام ٹرانسفر کردی ہیں۔ کنٹونمنٹ بورڈ ممبران شاہد علی انصاری‘ فرحان ماجد اور ثناء اکبر نے کورکمانڈر ملتان‘ سیکرٹری ڈیفنس منسٹری آف ڈیفنس اسلام آباد اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹس راولپنڈی کو اس جعلسازی سے آگاہ کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ سی ای او رضوان قاضی اور وائس پریذیڈنٹ طارق نیاز نے جعلسازی کے ذریعے مال پلازہ کی آٹھ دکانیں کنٹونمنٹ بورڈ کے وضع کردہ قوانین کے برعکس اعلیٰ حکام کو اعتماد میں لئے بغیر نجی بینک مالکان سے ایگریمنٹ کیا جس کے تحت بینک نے ان دکانوں کو عثمان مشتاق نامی شخص کو ٹرانسفر کردی ہیں جو اب ان آٹھ دکانوں کے 20 کروڑ روپے طلب کررہا ہے۔ اپنی درخواست میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ مال پلازہ کی صرف ان آٹھ دکانوں کا علیحدہ سے ایگریمنٹ کیا گیا ہے جو مجوزہ قوانین کے متصادم ہے۔ ان کے مطابق وائس پریذیڈنٹ طارق نیاز نے کنٹونمنٹ بورڈ کے فلیٹ نمبر 1692پر بھی ناجائز قبضہ کررکھا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے 1924 کے ایکٹ میں واضح لکھا ہے کہ جو ممبر کنٹونمنٹ بورڈ کے مفاد کیخلاف کام کریگا اس کی ممبر شپ پریذیڈنٹ کنٹونمنٹ بورڈ خود ختم کرسکتا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ کو کروڑوں روپے کے نقصان سے دوچار کرنیوالے وائس پریذیڈنٹ طارق نیاز کیخلاف فوری اقدام اٹھائے جائیں اور جعلسازی کے مرتکب طارق نیاز اور سی ای او رضوان قاضی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے سمیت ان کی ممبرشپ بھی ختم کرکے دوبارہ الیکشن کروائے جائیں۔

فروخت کا انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -