سرکس کے شیر

سرکس کے شیر
سرکس کے شیر

  

یہ ہاسٹل کے شروع کے دن تھے، اتنے سال کی محنت کے بعد میڈیکل کالج میں داخلہ ملا تھا،لگتا تھا کہ اب ہم دنیا کے سب سے بڑے ہیرو بن گئے ہیں، مگر گورنمنٹ کے میڈیکل کالج کے ہاسٹل نے دو دن میں ہی اوقات یاد کروا دی۔یہ کیسے بد بو دار کمرے تھے،پوری پوری رات نیند نہیں آتی تھی،ایک کمرے میں چارچار،پانچ پانچ لڑکے ،لگتا تھا جیسے جانور رہ رہے ہوں اور واش روم اس قدر غلیظ کے انسان کی روح کانپ جاتی تھی۔ مجھے یہ سب ہولناک لگتا تھا،ایسا لگتا کہ کچھ دن اور یہاں رہا تو یاں تو پاگل ہوجاؤں گا،یا مر جاؤں گا۔روز فون پر زاروقطار رونا، کئی بار سوچا ڈاکٹری کا جنون یہیں ختم کردوں اور واپس بھاگ جاؤں،مگر جس طرح ایڈمیشن ہوا تھا،اور کچھ اس کے علاوہ نظر نہیں آتا تھا، ہاسٹل رہنا مجبوری تھی۔ پانچ سال، سوچ کر ہی ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرسری سی بجلی کی لہر دوڑتی اور زمین سے ٹکرا کر واپس دماغ میں آجاتی۔ یہ میں اکیلا نہیں تھا، میرا ساتھ کچھ اور بھی اس قسم کی مخلوق تھی،جو میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے بھاگنے کا پلان بنا رہی تھی۔ہاسٹل کے میس کا کھانا ،گلے سے نیچے جانے سے انکاری تھا۔والدین کا پیسہ بھی تھا،اور ان کے عہدوں کی سپورٹ بھی تھی،سو اس سب کو استعمال کرکے ،اپنے جیسی مخلوق کے ساتھ مل کر چور راستے تلاش کرنے لگا۔ پورا دن کالج کے سامنے ایک برانڈ ہوٹل میں گزار دیتا،وہیں پڑھ لیتا،وہیں کھا لیتا اور انہیں کا واش روم استعمال کرلیتا۔ہماری تعداد چونکہ زیادہ تھی،تو ہوٹل والوں کی بھی ہم پر عنایت تھی۔مگر ایسا پانچ سال تو نہیں چل سکتا تھا، آہستہ آہستہ ہاسٹل کی عادت ڈالنے کی کوشش کی۔ چند دنوں تک ،بس باہر سے فوڈ کی ڈیل کی ڈلیوری ہوجاتی اور آنے والے وقتوں میں وہ بھی بس مخصوص دنوں تک محدود ہوگئی،مثال کے طور پر جب ہاسٹل کے میس کوئی بہت بد ذائقہ سبزی یا دال پکی ہوئی ہو۔

میرے ساتھ ایک اور مخلوق بھی تھی، یہ لوگ میس میں جو پکا ہوتا،چپ کرکے کھالیتے تھے اور اتنا کھاتے تھے کہ میس والا بعد میں ان کے آگے ہاتھ جوڑنے پر مجبور ہوجاتا تھا۔ یہ لوگ سردی میں شدید ٹھنڈے پانی سے نہالیتے،حمام میں پانی کھڑا ہوتا،نیچے اینٹ رکھتے ،اس کے اوپر کھڑے ہوکر نہا لیتے۔ ان کو نہ وہ باتھ روم برے لگتے ،اور نہ ہی وہ مچھر جو پوری رات مجھے سونے نہیں دیتے تھے۔یہ لوگ ایسے سوتے تھے کہ جیسے ابدی نیند کی وادی میں جاچکے ہیں۔ ہم لوگوں کے پاس جدید موبائیل فون تھے،لیپ ٹاپ تھے،ان میں اکثریت کے پاس موبائیل فون ہی نہیں تھے اور انٹرنیٹ کی خاطر یہ کالج جایا کرتے تھے۔ ایک ہی پتلون میں دو دو ہفتے نکال لینے والی یہ عجیب مخلوق ،اگر ہاسٹل کے کسی کمرے میں اکٹھی ہوجاتی ،تو ان کے قہقہوں سے پورا ہاسٹل پناہ مانگتا۔ ان لوگوں کی کلاس سے تعلق رکھنے والے سینئر بھی،ان کے ساتھ رہتے،یہ لوگ گروہ بناتے،بدمعاشی کرتے اور لڑائیوں میں ایسے شیر ہوتے کہ ان کے ہاسٹل کے ونگ ہمارے لیے بھوت بنگلہ یعنیHaunted House ہوا کرتے تھے۔ہماری کلاس سے تعلق رکھنے والے سینئر بھی ہماری طرح تھے،انتہائی ڈرپوک،کمروں میں سہم کر ہر وقت کتابوں میں غرق، نہ کبھی اکٹھے ہوکر،کوئی فلم دیکھنی ،نہ کسی سے کوئی بات کرنی،نہ کسی کے کام آنا،بس اپنی خودغرضی میں لگے رہنا۔بس ایک اچھی عادت جو ہمیشہ مجھے ان لوگوں سے زیادہ ہم لوگوں میں پسند تھی ،ہم میں سے کوئی سگریٹ نہیں پیا کرتا تھا،اور ان میں کوئی سگریٹ کے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔

پانچ سال اسی طرح گزر گئے۔اس دوران کتنی محبتیں بھی ہوئیں۔ہم لوگوں کے عشق بھی ،اسی برانڈ فاسٹ فوڈہوٹل سے شروع ہوئے اور وہیں دم توڑ گئے،جن سے ہوئے وہ بھی ہمارے جیسی ہی،سہمی ہوئی،پڑھائی میں مگن،خاموش طبع، مگر ایکٹیو ، کلاس کے ہر ایونٹ میں چھا جانے والی۔ہم لوگ آرگنائز کیا کرتے اور یہ دوسری مخلوق کے لوگ اس آرگنائز کو ڈس آرگنائز کرتے تھے، فنکشن کے دوران فکرے بازی،اونچے اونچے نعرے،یہ کیا لوگ تھے؟ ان کے عشق بھی ہمارے جیسے نہیں تھے،جن سے تھے وہ بھی ہماری طرح نہیں تھیں، یہ لوگ ریڑھی پر چاول چھولے بیٹھ کر کھاتے، گول گپے کھاتے،پارکوں میں بیٹھے نظر آتے ۔ ان کو آنے والے وقتوں میں ہم نے سکوٹر کا نام دے دیا۔ یہ سکوٹر کسی سفارش کے بغیر ہر امتحان نکال لیتے،اور ہم سب ہمیشہ کسی پاوے کی تلاش میں ہوتے۔ان کی کالج کے کلرکوں سے لے کر پرنسپل تک سے ایسی یاری ہوتی کہ ہمیں رشک آتا۔ خدا خدا کرکے کفر ٹوٹا اور پانچ سال پورے ہوگئے، شاندار تعلیم کیرئیر کے بعد یہ ایم بی بی ایس کی ڈگری مل گئی۔لگتا تھا کہ اب ایک دم فرق آئے گا اور ہم لوگ کم از کم ان سکوٹروں سے بہتر ڈاکٹر بن جائیں گے۔ مگر میں اور میرے تمام ساتھی غلط ثابت ہوئے۔ ان لوگوں نے آنے والے وقتوں میں بھی ،ہمیں سخت سے سخت مقابلہ دیا اور ہمیں چیر کے آگے نکلتے گئے۔

یہ سکوٹرکون تھے؟ اس وقت میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ پھر ایک تحریر میں درج ایک واقعہ نے مجھے ان کی اصلیت سے آشنا کردیا۔ واقعہ کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ کسی جگہ بہت بڑا سرکس لگا کرتا تھا،وہاں شیروں کو خوب تیار کیا جاتا تھا،ان کی ٹریننگ کی جاتی تھی،آداب سکھائے جاتے تھے۔ ہوا یوں کہ حالات کے پیشِ نظر سرکس کو بند ہونا پڑا۔اب یہ دس شیر ،پورے سرکس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گئے ،اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کو جنگل میں چھوڑ دیا جائے۔وہاں یہ جنگل کے بادشاہ بن کر رہیں گے،خوراک کا بھی مسئلہ نہیں ہوگا۔اتنے سدھائے گئے ، تربیت یافتہ شیر،جو ہر فن جانتے ہیں ،ان کے لیے جنگل میں رہنا کونسا مشکل کام ہوگا۔ چنانچہ ان دس شیروں کو جنگل میں چھوڑ دیا گیا ۔ کچھ عرصے بعد،سرکس دوبارہ شروع ہوا اور ان شیروں کی ضرورت دوبارہ محسوس کی گئی تو انتظامیہ نے ان شیروں کو دوبارہ سرکس لانے کا سوچا۔جب جنگل کا رخ کیا گیا ،تو وہ لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جنگل میں ایک بھی شیر موجود نہیں تھا، وہ شیر کہاں گئے؟ معلوم ہوا کہ اس جنگل میں سات خونخوار جنگلی کتے رہتے ہیں ،جو ان شیروں کو کھا گئے۔ یہ تحریر میرے لیے ایک Eye-Opener تھی۔ میں جن کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہمیشہ سکوٹر بلاتا رہا ،ان کی اصل حقیقت بہت بھیانک تھی۔ تحقیق کے بعد مذید معلوم ہوا کہ یہ سکوٹر ،دیہاتوں اور پسماندہ علاقوں سے اٹھ کر اپنا میرٹ بنا کر ،ان میڈیکل کالجز میں پہنچے تھے۔ یہ وہی لوگ تھے ،جو کسی بیل گاڑی کے پیچھے لٹک کر،ایک شہر سے دوسرے شہر جایا کرتے تھے۔جو کسی درخت کے نیچے ،کسی سرکاری ماسٹر کے ہاتھوں بدترین ماریں کھا کھا کر کسی سرکاری کالج کی ٹوٹی ہوئی کرسیوں سے ہمارے میڈیکل کالج تک پہنچے تھے۔ان کے گھروں میں کھانے کو روٹی نہیں ہوتی تھی،کسی کا باپ کسان تھا،کسی کا موچی اور کسی کا باپ صرف نشہ کرتا تھا۔ کونسے برانڈ کا برگر کتنے کا ہے،کس برانڈ کے ساتھ رِ ی فِل مفت ملتا ہے،کس مال میں کونسا جوتا کتنے کا ہے،انہوں نے یہ سب کبھی سن بھی نہیں رکھا تھا۔ یہ لوگ ہمارے معاشرے کی سختیاں ،محرومیاں برداشت کرکے یہاں تک پہنچے تھے۔ مجھے جس باتھ روم میں جاتے خوف آیا کرتا تھا،وہ یہ سوچ کر اس کا لطف اٹھا یا کرتے تھے کہ چلو چار دیواری میں نہانے کا موقع تو ملا۔ جس کمرے میں مجھے نیند نہیں آتی تھی ،وہ یہ سوچا کرتے تھے کہ چلو سخت سردی میں کمرہ تو ملا۔ان کے لیے یہ ہاسٹل اپنے جھونپڑوں سے کہیں بہتر تھے۔ میں ایک پیمپر چائلڈ تھا، شہر کے بہترین سکول ،بہترین اساتذہ نے تعلیم کے زیور سے روشناس کرایا۔والدین کی اکلوتی اولاد،ہر ناز نخرہ پورا کروا کر میڈیکل کالج تک پہنچا تھا۔ پوری عمر بہترین پہناوا،بہترین رہائش اور بہترین کھانے کو ملا تھا۔ ہر طرح کے ادب آداب ، تہذیب سکھائے جانے کے بعد ،میں ہاسٹل میں ان سکوٹروں کے سامنے بے بس کیوں ہوگیا؟ اس کا جواب ان سب والدین کو دینا ہوگا،جو اپنے بچوں کی شدید محبت میں دنیا کا بہترین بچہ بنانے کی کوشش میں ،معاشرے اور اس کی سختیوں کو بھول جاتے ہیں۔وہ ان کو ہر آسائش عطا کرتے ہیں،شائد دنیا کے ہر والدین اپنی اپنی حیثیت میں یہی چاہتے ہیں، مگر ہمارے والدین ہماری تربیت میں وہ معاشرتی سختی ڈالنا بھول جاتے ،جس کا ہمیں زندگی میں کسی نہ کسی سٹیج پر جاکر سامنا ضرور کرنا ہوتا ہے۔ آج بھی کسی بیل گاڑی کے پیچھے لٹکے کسی بچے کو جب کسی چمکتی کار میں اجلے یونیفارم میں بیٹھے کسی سکول جاتے بچے کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے دیکھتا ہوں، تو مجھے اس وقت سے خوف آنے لگتے ہے،جب ان کا کسی مقام پر ٹکراؤ ہوگا۔ یہ ٹکراؤ یقیناً جنگل میں ہوگا ،جہاں سرکس کے انتہائی تربیت یافتہ یہ شیر تمام تربیت اور آسائشوں کے باوجود ، جنگل کی اس دہشت اور ہولناکی کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے،جو معاشرے نے بیل گاڑی کے پیچھے لٹکے ان سکوٹروں کے اندر اتاری ہے۔ پھر جنگل ہوگا،یہ ہوں گے،اور معاشرے کے سدھائے،سرکس کے شیر ہوں گے۔ آج بھی جب کسی والد کو اپنے انتہائی لاڈلے بچے کے لیے یہ کہتے سنتا ہوں کہ اسے میں ہاسٹل ضرور بھیجوں گا،تو ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرسری سی بجلی کی لہر دوڑتی جاتی ہے۔ وہی جنگل، وہی مقابلہ ،اور وہی انتہائی تربیت یافتہ سرکس کے شیر۔(www.facebook.com/draffanqaiser)

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -