فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر441

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر441
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر441

  

موسیقی کے اعتبار سے نذر الاسلام کی پہلی اردو فلم ’’کاجل‘‘ بھی ایک قابل ذکر فلم ہے۔اسکے موسیقارسیل داس اور گیت نگار سروبارہ بنکوی تھے۔فردوسی بیگم کی آواز میں گایا ہو اایک نغمہ اس فلم کی جان تھا۔

یہ آرزو جوا ں جواں 

یہ چاندنی دھواں دھواں

پکارتے پھریں تمہیں 

بتاؤ ہم کہاں کہاں

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر440 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سبل داس بھی ایک بہت باصلاحیت اور ذہین موسیقار تھے جن کو کبھی مغربی پاکستان آنے کی دعوت نہیں دی گئی ورنہ وہ بھی بہت نام پید ا کرتے۔

روبن گھوش نے فلم ’’بھیا‘‘ کی موسیقی بنائی تھی۔اس کیلئے گلوکارہ مغربی پاکستان سے بھی لئے گئے تھے۔اس فلم کی موسیقی اس کی سب نمایاں خوبی تھی۔

فلم ’’بیگانہ‘‘ میں روبن گھوش نے ایک بار پھر اپنی موسیقی سے سننے والوں کو چونکا دیا تھا۔یہ فلم تو نہ چلی مگر اس کے گانے خوب چلے۔فردوسی بیگم نے اس کیلئے گانے گائے تھے۔ان کے گائے ہوئے دو نغمات آج بھی تازہ اور شگفتہ ہیں۔

یہ پیارکی سوغات ہے

یہ تھے تمہاری ادا کے قابل

اب جگر تھام کر بیٹھئے کہ فلم ’’چکوری ‘‘ کا ذکر ہو رہا ہے۔’’چکوری‘‘ وہ فلم تھی جس نے ندیم اور شبانہ جیسے سپر اسٹارز کو جنم دیا تھا اور سارے ملک میں کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کئے تھے حالانکہ اس میں کچھ نیا تھا۔’’چکوری ‘‘ کی کامیابی میں اس کی موسیقی کو بھی بہت دخل تھا جو روب ن گھوش نے مرتب کی تھی۔

کہاں ہو تم کو ڈھونڈرہی ہیں

یہ بہاریں یہ سماں

نے ایسا سماں باندھا تھا جو آج بھی بندھا ہو اہے۔کوئی اسے کھول نہیں سکا۔ایک اور نغمہ بھی ہر ایک کی زبان پر تھا۔

وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں

یہ گیت احمد رشدی اور فردوسی بیگم کی آوازوں میں الگ الگ ریکارڈ کیا گیا تھا اور وہ مختلف سچویشنز پر استعمال ہو ا تھا۔ایک اور گیت بھی بہت مقبول ہوا تھا۔

رت ہے جواں دن سہانا

دل ہو گیا ہے دیوانہ

’’درشن ‘‘ایک ایسی فلم تھی جس نے دیکھنے والوں پر ایک رومانی سحر طاری کر دیا تھا اور اس نے فلم کی موسیقی کا نمایاں ہاتھ تھا جو گلوکارہ بشیر احمد نے مرتب کی تھی۔’’درشن‘‘ کو اگر میوزیکل فلم کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔اس کے قریب قریب سبھی گانے سپر ہٹ تھے۔ذرا یاد کیجئے۔

گلشن میں بہاروں میں تو ہے(گلوکار۔بشیر احمد)

یہ موسم یہ مست نظارے پیار کر و تو ان سے کرو(گلوکار۔بشیر احمد)

اس نغمے نے نیو تھیڑز کی ایک پرانی کامیاب فلم کی یاد میں تازہ کر دی تھی۔جس میں پنکچ ملک کی آواز میں جو گانا ریکارڈ کیا گیا تھا اس کا انداز اور اسلوب بھی ایسا ہی تھا شاعر نے ہیروئن سے اظہار محبت کے بجائے ایک نیا تخیل پیش کیا تھا۔

ہیرو اپنی محبوبہ سے مخاطب ہوکر کہتاہے۔

یہ راتیں، یہ رم جھم ،یہ موسم سہانا۔

مجھے بھول جانا انہیں نہ بھلانا۔

اس کے بعد شاعر نے الفاظ کی مدد سے ایسا سماں باندھا ہے اور ماحول کی ایسی منظر کشی ہے یہ گیت آرزو لکھنوئی یا فیاض ہاشمی کا لکھا ہوا تھا۔یقنی طورپر کچھ نہیں کہاجاسکتا۔

درشن کے کچھ اور گانے مقبول یہ تھے۔

چن لیا اک پھول کو ( گلوکار۔میڈیم نورجہاں،بشیر احمد)

یہ سماں پیارا پیارا

یہ ہوائیں بھیگی بھیگی(گلوکارہ‘مالا)

تمہارے لیے اس دل میں اتنی محبت ہے(گلوکار۔ بشیر احمد)

دن رات خیالوں میں تجھے یاد کروں گا( گلوکار۔ بشیراحمد)

گلشن میں بہاروں میں توہے(گلوکار۔بشیر احمد)

ہم چلے چھوڑ کر تیری محفل صنم(گلوکار۔بشیر احمد)

نواب سراج الدولہ ایک نئی تاریخ فلم تھی۔بہت کم سرمائے اور انتہائی محدود وسائل سے بنائی گئی تھی۔اس کے موسیقار،فلم ساز ہدایت کار اور مصنف عطاالرحمٰن تھے۔اس فلم میں موضوع کے اعتبار سے موسیقی کی گنجائش بہت کم تھی مگر سرو بارہ بنکوی کی یہ غزل حاصل فلم تھی۔

یہ ہے عالم تجھے بھلانے میں

اشک آتے ہیں مسکرانے میں

اسی سال فلم’’چھوٹے صاحب‘‘نمائش کے لئے پیش کی گئی تھی۔یہ ندیم کی دوسری فلم تھی۔اس کے ہدایتکار مستفیض تھے اور موسیقار علی حسین ۔اس فلم کے چند گانے بہت مقبول ہوئے تھے۔احمد رشدی اور مالا کی آوازوں میں بیشترگیت صدا بند کیے گئے تھے۔

جھومیں ری کلیاں،بگیا میں آئی بہار(گلوکارہ ‘مالا)

آنکھوں کے گلابی ڈورے‘ذلفوں کا مہکتا سایہ(گلوکاراحمد رشدی)

کاہے بدرا کا ہے ۔اس پریتم کی یاد دلائے ( گلوکارہ مالا)

ابھی یوں نہ جائیے(گلوکارہ۔احمد رشدی)

موسیقی کے لحاظ سے مشرقی پاکستان کی ایک اور فلم’’چاند اور چاندنی‘‘ بھی قابل ذکر اور یادگار ہے۔اس کے ہدایتکار شور لکھنوئی اور موسیقار کریم شہاب الدین تھے۔دونوں کا تعلق کراچی سے تھا۔سروبارہ بنکوی نے اس فلم کی موسیقی بے انتہا پسند کی گئی تھی۔یہ ایک میوزیکل فلم تھی۔اس چند نغموں کے بول سنئے اور سوچئے کہ یہ واقعی ابھی تک آپ کے کانوں میں رس کھول رہے ہیں۔

لائی گھٹا موتیوں کا خزانہ (گلوکارہ مالا‘ اور لڑکیاں)

تیری یاد آگئی غم خوشیوں میں ڈھل گئے (گلوکار‘احمد رشدی)

جان تمنا خط ہے تمہارا پیار بھراافسانہ (گلوکار‘احمد رشدی)

یہ سماں موج کاکارواں(گلوکار مسعودرانا)

مشرقی پاکستان کی اکثر فلموں کی موسیقی بہت دلکش ہوتی تھی جن کی تفصیل بیان کرنا آسان نہیں ہے اور نہ ہی وہ تمام گیت اوران کی تفصیل ہمیں باخوبی یاد ہے۔مگر چند فلموں کے سپراہٹ نغمات یادیں تازہ کرنے کیلئے پیش ہیں۔

پھر ایک بار وہی نغمہ کنگنا دو زرا(فلم کوری‘گلوکارہ بشیر احمد

اے ماں پیاری ماں (فلم قلی‘گلوکارہ احمد راشدی اور ندیم)

تم ضد جو کر رہی ‘ ہم کیا تمہیں سنائیں (فلم داغ گلوکار ۔ مہدی حسن )

اناڑی تجھے جان گئی رے ‘پہچان گئی رے (فلم اناڑی ‘ گلوکار۔ بشیر احمد ‘ مینا بشیر ) 

لکھے پڑھے اگر ہو تے ‘ تو ہم تم کو خط لکھتے (فلم اناڑی ، گلوکار۔ ندیم یاسمین ) 

جسے چاہا اسے اپنانے کے یہ دن آئے (فلم کنگن ‘ گلوکار ۔ بشیر احمد ‘مینا بشیر) 

اچھا کیادل نہ دیا ‘ ہم جیسے دیوانے کو (فلم پیاسا ‘ گلو کار۔ احمد رشدی)

مشرقی پاکستان کی فلموں کاتذکرہ کافی طویل ہے ۔ پہلے بھی سنا چکے ہیں۔ اس بار پھر موسیقی کے حوالے سے سنا رہے ہیں مگر معاملہ وہی ہے کہ کہاں تک سنو گے ‘ کہاں تک سناؤں ۔ 

مشرقی پاکستان کی فلموں کا خیال آتا ہے تو اس کے ساتھ ہی مشرقی پاکستان کا خیال بھی دل کو جلانے آجاتا ہے پھر وہاں کے لوگ ‘ دوست احباب ‘ فنکار ‘ ہنر مند اور پیار بھرے انسان یاد آجاتے ہیں۔ ایک چبھن ‘ ایک کسک سی دل میں رہ گئی ہے۔ جو بھی ہوا اس کا ڈر تو تھا مگر جب یہ رونما ہوا تو بالکل اچانک اور آناً فاناً میں ہوگیا اس لیے یہ صدمہ بھلائے نہیں بھولتا۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں نے ہر شعبے میں نمایاں کام کیے ہیں ۔ یہ تو صرف فلم کے حوالے سے تھوڑا سا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ہاں ۔ یاد ۔ آیا۔ مشرقی پاکستان ک ایک اور فلمی نغمہ بھی بہت مقبول ہوا تھا اور آج بھی مقبول ہے ۔ اس کے نغمہ نگار جمیل الدین عالی ہیں او یہ ناہید نیازی کی آواز میں صدا بند کیا گیا تھا۔ یہ فلم ’’پریذیڈنٹ‘‘ کے لیے ریکارڈ کیا گیا تھا مگر بعد میں اس کا نام ’’سن آف پاکستان ‘‘ رکھ دیا گیا تھا ۔ یہ فلم صرف ڈھاکا میں ہی نمائش پذیر ہوئی تھی ۔ بقیہ پاکستان ’’سن آج پاکستان ‘‘ کو دیکھنے سے محروم ہی رہا ۔ اس کا مکھڑا یہ تھا ۔ 

میں چھوٹا سا ایک لڑکا ہوں 

کام کروں گا بڑے بڑے 

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کے گیتوں کے ریکارڈ بن کر مغربی پاکستان پہنچ گئے تھے اور یہ گانے بے حد مقبول ہوا تھا۔ یعنی ہمیں صرف گانوں پر ہی کزارہ کرنا پڑا، بقیہ ساری فلم نگاہوں سے اوجھل رہی جس طرح کہ مشرقی پاکستان ہم سب کی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا ہے۔ 

(جاری ہے ، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -