مسئلہ فلسطین اور امام خمینی کی نظر 

01 جون 2018 (14:17)

صابر ابو مریم

جون کامہینہ ہے اورساتھ ساتھ ماہ رمضان المبارک بھی ۔۔۔اس ماہ مقدس میں فلسطین کے مظلوم عوام اور قبلہ اوّل کی بازیابی سے متعلق عالمی یوم القدس بھی آنے والا ہے کہ جس کے احیاء و قرار میں اس صدی کی عظیم اسلامی شخصیت حضرت امام خمینی کا بے پناہ اور بنیادی کردار ہے۔ اسی جون کی 3تاریخ کو ہی صدی کے عظیم اسلامی رہنما حضرت امام خمینی کو ہم سے بچھڑے اب اٹھائیس برس ہو چکے ہیں لہذا یہ بلاگ فلسطین اور امام خمینی سے متعلق اس لئے بھی لکھا جا رہاہے تا کہ امام خمینی کی شخصیت سے متعلق اور مسئلہ فلسطین امام خمینی کی نظر میں کس اہمیت کا حامل تھا،ان نقاط کو بیان کیا جائے۔

امام خمینی نے ایران میں اسلامی انقلاب کی بنیاد ڈالی اور یہ انقلاب سنہ1979ء میں کامیاب ہوا، اس انقلاب کی کامیابی کا بنیادی سہرا امام خمینی کے سر جاتا ہے جبکہ امام خمینی نے ایران میں اس وقت کے امریکی و صیہونی آلہ کار حکمرانوں کے مد مقابل نہ صرف قیام کیا بلکہ فلسطین کے حق میں اس دور میں بات کرنا ایک سنگین جرم سمجھا جاتا تھا۔ ایسے دور میں آپ نے اپنی پوری جد وجہد میں فلسطین کاز کی حمایت سے ایک انچ بھی خود کو پیچھے نہیں کیا حالانکہ اس جرم کی پاداش میں آپ کو دربدر کیاگیا، جلا وطن کیا گیا اور نہ جانے آپ کے ساتھیوں کے ساتھ بھی کس کس طرح کے مظالم روا رکھے گئے آپ نے دنیا کی ان تمام سختیوں اور مصائب کا خندہ پیشانی اور دلیرانہ انداز میں مقابلہ کیا اور اپنی جد وجہد کو جاری رکھا، اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آپ نے عملی طور پر سب سے پہلے ایران میں موجود اسرائیل سفارتخانہ کو ختم کر کے اس جگہ کو فلسطینی سفارتخانہ بنایا اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو قبلہ اوّل بیت المقدس کی بازیابی کے لئے یوم القدس کے طور پر منائیں۔

یہ امام خمینی ہی کی شخصیت تھی کہ جس نے دنیا پر واضح طور عیاں کیا کہ اسرائیل ایک غاصب اور جعلی ریاست ہے ، اس کام کے لئے امام خمینی نے اپنے خطابات اور فرامین میں بھرپور انداز سے پیغامات دئیے حتیٰ کہ دنیا کے دیگر ممالک کے رہنماؤں کے لکھے جانے والے خطوط اور خط و کتابت میں بھی امام خمینی کی طرف سے مسئلہ فلسطین کے لئے ہمیشہ بے حد اسرار پایا جاتا تھا۔آپ نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا،اور پوری دنیا میں اس روز مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے اور گھروں سے باہر نکلنے کا حکم صادر فرمایا۔ یوم القدس کے بارے میں امام خمینی کا کہنا تھا کہ منافقین اور وہ لوگ جن کی پس پردہ بڑی طاقتوں کے ساتھ آشنائی اور اسرائیل کے ساتھ دوستی ہے، وہ یوم القدس سے لاتعلق رہتے ہیں یا قوموں کو مظاہرہ نہیں کرنے دیتے۔

امام خمینی نے مسئلہ فلسطین سے متعلق مسلمان اور عرب حکومتوں اور دنیا کی طرف سے سست روی پر مسلمان اقوام کو جھنجھوڑنے کا کام کیا اور مسئلہ فلسطین کی حمایت اور پشتبانی کے لئے اپنی گفتگو میں اس طرح اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ،’’ہم جب تک رسول اللہ ﷺ کے اسلام کو نہ اپنالیں ، ہماری مشکلات، اپنی جگہ پر باقی رہیں گی۔ نہ مسئلہ فلسطین کو حل کر پائیں گے اور نہ ہی مسئلہ افغانستان اور دوسرے مسائل کو لوگوں کو اوائل اسلام کی طرف پلٹ جانا چاہیے، اگر حکومتیں بھی ان کے ساتھ پلٹ گئیں تو کوئی مشکل نہیں رہے گی۔ لیکن اگر حکومتیں نہ پلٹیں تو عوام کو چاہیے کہ اپنا حساب حکومتوں سے الگ کرلیں اور حکومتوں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو ملت ایران نے اپنی حکومت کے ساتھ کیا ہے تاکہ مشکلات دور ہوجائیں ‘‘۔

امام خمینی نے ہمیشہ مسلمان اقوام کے اتحاد و یکجہتی کو فلسطین کی آزادی اور قبلہ اوّل کی بازیابی کا اہم ترین راز اور منبع قرار دیا اور یہی کہا کہ فلسطین کی نجات اور صیہونزم کے توسیع پسندانہ عزائم کے آگے بند باندھنے کا واحد راستہ مسلمانوں کی اسلام کی طرف بازگشت اور ان کا آپس میں اتحاد ہے اور انہوں نے اس چیز پر زور دینے کے ساتھ ساتھ فرمایا ہے کہ ’’اسرائیل کا اصلی مقصد اسلام کو نابود کرنا ہے‘‘ ہمیشہ اس چیز کی بھی تاکید کی ہے کہ ہر طرح کے اختلافات منجملہ مذہبی اختلافات کو ختم کردیا جائے۔

یہاں ایک نقطہ اہم ترین یہ بھی ہے امام خمینی کا تعلق مسلک تشیع سے تھا لیکن فلسطین سمیت دنیا کے کسی بھی مظلوم اقوام بشمول افغانستان اور کشمیر کے لئے آپ نے ہمیشہ نہ صرف تاکید فرمائی بلکہ عملی طور پر بھی فلسطین کے مظلوم اقوام کی حمایت کر کے ثابت کر دیا کہ مسئلہ فلسطین مسلمانوں کا مسئلہ ہے اور اس حوالے سے اگر کوئی بھی مسلکی اختلافات کو ابھارنا چاہے یا ہوا دے کر اس مسئلہ کی اہمیت کو کم کرنا چاہے گا تو یقیناًوہ ہم مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ استعماری قوتوں کا آلہ کار ہو گا، یہی وجہ ہے کہ امام خمینی نے فلسطین کے مظلوم اقوام کی حمایت اور قبلہ اوّل کی بازیابی کے لئے کسی بھی حمایت سے دریغ نہیں کیا۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں