افتتاحی میچ نے پاکستان کی کارکردگی کا پول کھول دیا

افتتاحی میچ نے پاکستان کی کارکردگی کا پول کھول دیا
افتتاحی میچ نے پاکستان کی کارکردگی کا پول کھول دیا

  

عالمی کرکٹ ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں پاکستان کی کارکردگی کا پول کھل کر سامنے آگیا اور یہ ثابت ہوگیا کہ قومی ٹیم ناقص کھیل کا مظاہرہ کررہی ہے ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے جس طرح سے پاکستان کو شکست سے دوچار کیا اس کی ماضی میں بہت کم مثال ملتی ہے پاکستان کی ٹیم نے ورلڈ کپ کے اپنے پہلے ہی میچ میں شائقین کرکٹ کو شدید مایوس کیا ہے اور شائقین یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کیا پاکستان کی ٹیم کی اس کارکردگی کے ساتھ ورلڈ کپ جیتنے کا جو خواب لیکر ورلڈ کپ میں شریک ہوئی ہے اس میں کامیابی حاصل کرسکے گی ۔

یہ دوسرا موقع ہے جب پاکستان کی ٹیم نے ورلڈ کپ میں اپنا سب سے کم سکور کیا ہے ورلڈکپ کے میچ میں پاکستان کی اس ناقص کارکردگی نے ٹیم مینجمنٹ پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کردئیے ہیں ایک طویل عرصہ سے پریکٹس میں مصروف قومی ٹیم امتحان کی گھڑی میں ریت کی دیوار ثابت ہوئی میچ کے دوران کوئی پلان نظر نہیں آیا اوپر نیچے بیٹسمین آﺅٹ ہوتے گئے اور کسی کھلاڑی نے اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی آصف علی کی جگہ حارث سہیل کو میچ کے عین وقت ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ غلط ثابت ہوا ایسے فیصلے ٹیم کی شکست کی وجہ بنتے ہیں مقررہ اوورز سے آدھے اوورز میں پوری ٹیم کا پویلین واپس لوٹ جانااس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیم نے کوئی تیاری ہی نہیں کی صرف105 رنز پر آﺅٹ ہونا بھی ایک مذاق بن گیا اور شائقین یہ سوچنے پر مجبور ہیںکہ اگلے میچز میں بھی ایسی پرفارمنس رہی تو شاید پاکستان کی ٹیم افغانستان کے خلاف میچ بھی نہ جیت سکے جو ورلڈ کپ کی سب سے کمزور ٹیم ہے جسے پاکستان کی ٹیم پریکٹس میچ میں شکست سے دوچار ہوچکی ہے۔

گیارہ میچز میں مسلسل ناکامیوں نے کھلاڑیوں کے حوصلے پست کردئیے ہیں اور جب تک ٹیم ایک کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی اس وقت تک کھلاڑیوں میں جیت کا جذبہ پیدا نہیں ہوسکتا اور اب یہ ایک کامیابی کس طرح سے ملتی ہے اس کے لئے پوری ٹیم کوسخت محنت کی ضرورت ہے ٹاس جیتنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرتے پاکستان کو کم از کم پورے اوورز کھیلنے چاہئیے تھے اور ڈھائی سو سکور کرنا چاہئیے تھا جلدی کس بات کی تھی یہ سمجھ نہیں آئی اوپنرز بیٹسمین مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے امام الحق صرف دو رنز بناکر ایک غلط شاٹ کھیلتے ہوئے کیچ آﺅٹ ہوگئے جبکہ فخر زمان نے ناقص بیٹسمین کی اور بائیس رنز ہی بناسکے بابر اعظم بھی سنبھل کر کھیلنے سے قاصر رہے اور وہ بھی بائیس رنز پر ہی آﺅٹ ہوئے جو اس اننگز کا سب سے بڑا سکور تھا جبکہ اس کے علاوہ کوئی اور بیٹسمین نہیں چل سکا سینئر بیٹسمین محمد حفیظ بھی ناکام رہے اور صرف سولہ رنز بنانے میں کامیاب ہوئے جبکہ باﺅلر وہاب ریاض اٹھارہ رنز بناسکے۔

کپتان سرفراز احمد بھی آٹھ رنز پر آﺅٹ ہوئے اس طرح پوری ٹیم نے غیر ذمہ دارانہ کھیل پیش کیا اور اس قدر ناقص فیلڈنگ کی لگ رہا تھا کہ کھلاڑی میچ جیتنے کے لئے سنجیدہ ہی نہیں ہیںاب اگلامیچ میزبان ملک انگلینڈ سے پاکستان نے کھیلنا ہے جو ورلڈ کپ جیتنے کے لئے فیورٹ ٹیم ہے اس سے پاکستان کی ٹیم مسلسل پانچ میچ ہار بھی چکی ہے اس میچ کے لئے کیا حکمت عملی تیار کی جاتی ہے ہر ہر میچ کو جیتنے کی کوشش کرنا بہت ضروری ہے مگرپاکستانی کھلاڑی جب شکست کھانے پر آئیں تو پھر کچھ پتہ نہیں کہ کب تک ہار تے ہی جائیں انگلینڈ کے خلاف میچ بہت اہمیت کا حامل ہے اور اس میچ میں پاکستان کوجیتنے کے لئے بہت سخت محنت کی ضرورت ہے اور یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب تمام کھلاڑی اس میچ کی اہمیت کو سمجھ کر میدان میں اتریں اور ایسی کوئی غلطی نہ کریں جس کی وجہ سے ایک مرتبہ دوبارہ پاکستان کے لئے شکست اس کا مقدر بن جائے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ