فیس ماسک پہننے کی پابندی

فیس ماسک پہننے کی پابندی

  

پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، اس کے ساتھ ہی ساتھ اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پبلک مقامات پر ماسک کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسجدوں، بازاروں، دکانوں، شاپنگ مالز، ٹرینوں، بسوں، ہوائی جہازوں اور تمام ایسے مقامات پر جہاں لوگ موجود ہوں، فیس ماسک پہننا لازم ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اگر زیادہ افراد رہ رہے ہیں تو بہتر ہو گا کہ گھر کے اندر بھی ماسک استعمال کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں لوکل ٹرانسمیشن یعنی، مقامی افراد سے مقامی افراد کے متاثر ہونے کی شرح92فیصد ہے۔اس وائرس کا شکار ہونے والوں کو اب بیرون ملک سے آنے والے متاثر نہیں کر رہے،بڑے پیمانے پر یہ کام مقامی شہریوں ہی نے سنبھال لیا ہے۔ان کے ذریعے یہ وائرس ایک دوسرے کو منتقل ہو رہا ہے اور متاثرین کی تعداد میں بے پناہ اضافہ کر رہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب تو کورونا کی یلغار سے اس قدر مضطرب ہیں کہ انہوں نے اسے محدود کرنے کے لیے دو ہفتوں کے سخت لاک ڈاؤن کی ضرورت پر زور دیا ہے،لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ خدشہ بھی ظاہر کر دیا ہے کہ وفاقی حکومت کا اس تجویز سے اتفاق مشکل ہے۔ اس کے باوجود ان کا ارادہ ہے کہ اسے این سی او سی(نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر) کے اجلاس میں ضرور پیش کریں گے، چاہے کوئی مانے یا نہ مانے…… اصولی طور پر مرتضیٰ وہاب کی تجویز کو مسترد نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ لا متناہی لاک ڈاؤن بھی جاری رکھنا مشکل ہے، لیکن دو ہفتوں کے لیے اس پر عمل کر کے وائرس کے راستے میں سپیڈ بریکر ضرور لگایا جا سکتا ہے۔اس سے نپٹنے کے لئے ایک قدم آگے، ایک قدم پیچھے کی پالیسی اگر اپنا لی جائے تو متاثرین کی تعداد کو محدود کرنے میں مدد ضرور ملے گی۔ لیکن وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کا موڈ اسے بآسانی تسلیم کرنے پر تیار ہوتا نظر نہیں آتا۔ان کی طرف سے تو تمام پبلک مقامات کو کھولنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور اس سمت میں قدم بڑھانے کو کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔

وفاقی حکومت اور اس کی ہم نوا صوبائی حکومتوں کی بات کہ عمل تو اس ہی پر ہونا ہے تو پھر بھی قواعد و ضوابط کی پابندی پر زور دیئے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور گھروں سے کم سے کم باہر نکلنے کی اہمیت اپنی جگہ حکم ہے۔لیکن بہت ایچ پیچ کے بعد وفاقی حکومت نے ماسک کی پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے، لیکن تادم تحریر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی ہو گی یا نہیں۔خلاف ورزی پر کوئی سزا بھی دی جا سکے گی یا نہیں، کہ زبانی جمع خرچ سے کام چلایا جائے گا، اور اگر رضا کارانہ طور پر فیس ماسک پہننے پر زور دیا جاتا رہا تو اس کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو سکیں گے۔دُنیا کے کئی ممالک میں کورونا سے محفوظ رہنے کے لئے قواعد و ضوابط کی پابندی کے حوالے سے باقاعدہ سزائیں مقرر کر دی گئی ہیں۔ فیس ماسک کے بغیر گھر سے باہر نکلنے پر کڑی سزاؤں کا اعلان کیا گیا ہے۔پاکستان میں بھی اسی طور اقدام کرنا ہو گا کہ اربابِ اقتدار کسی دارالعلوم کے مفتی نہیں ہیں کہ فتویٰ دے کر ان کی ذمہ داری پوری ہو جائے، انہیں آئین نے جو قوتِ نافذہ عطا کی ہے، اس کا بروقت اور برمحل استعمال بھی لازم ہے۔ تمام صوبائی حکومتوں کو قانونی اقدامات کرنے چاہئیں، اور انہیں پوری شدت سے نافذ بھی کرنا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -