ہوس؟

ہوس؟
ہوس؟

  

عید کے دن قصور کے علاقے کھڈیاں خاص میں ہوس کے ایک پجاری نے کم سن نوجوان کو صرف اس وجہ سے قتل کر دیا کہ وہ اس کے ساتھ دوستی کرنے سے انکاری تھا اس کے ساتھ تعلق بنانے سے منع کرتا تھا، جس کی وجہ سے اس نے عید کے روز فجر کی نماز کے لئے جاتے ہوئے حافظ سمیع الرحمن کو اپنے مذموم مقاصد پورے نہ ہونے پر موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ملزم معصوم علی اس سے قبل بھی حافظ سمیع الرحمن کو گناہ کی راہ پر چلانے کی کوشش کرتا رہا،لیکن ماں باپ کی تربیت اور نیک فطرت حافظ سمیع الرحمن نے ملزم کے چنگل میں پھنسنے سے انکار کر دیا۔جوان سال شہید کے والد قاری خلیل الرحمن خود بھی بڑے نیک صفت اور دین دار آدمی ہیں یہ ان کی دینی تربیت کا اثر ہی تھا کہ سمیع الرحمن نے جان تو قربان کر دی، لیکن غلط راہ پر چلنے سے انکار کیا۔یہ کیس پنجاب پولیس کے لئے بھی ایک امتحان ہے کیوں کہ ملزم معصوم علی کا تعلق پنجاب پولیس سے بتایا جا رہا ہے اور اب آئی جی پنجاب سمیت پولیس کا یہ فرض ہے کہ وہ مجرم کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے اپنی ذمہ داریاں بخوبی ادا کریں۔یہ پاکستان یا قصور میں کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل درجنوں اس طرح کے واقعات رونما ہو چکے ہیں،جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کام کرنے والے نہ تو قانون سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی انہیں معاشرے کا کوئی خوف ہے۔ گزشتہ برس چونیاں میں پانچ بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جنہیں سہیل نامی ملزم نے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا تا کہ یہ معصوم بچے کسی کو اس کے اس جرم سے آگاہ نہ کر سکیں۔ اس سے قبل 2018ء میں زینب کے ساتھ قصور شہر میں زیادتی کی گئی اور اس کو مارنے والے ملزم عمران نے نہ صرف زینب،بلکہ متعدد لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کی۔ زینب نامی اس نوعمر لڑکی کے قتل نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پورے ملک میں قتل کے خلاف مظاہرے کئے گئے اور قصور شہر سمیت پوری انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا۔اس واقعہ کے بعد پورے ملک میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور زینب کے قاتل کوگرفتار کر کے سزائے موت بھی دے دی گئی تھی۔ہونا تو یہ چاہئے کہ حکومت کو ہر واقعے سے اسی انداز میں نمٹنا چاہئے۔ اسی طرح حسین خاں والا قصور کے نواحی گاؤں میں تو پورا ایک نیٹ ورک بے نقاب ہوا، لیکن اس واقعہ کے ملزم نہ صر ف آزاد ہیں، بلکہ قصور شہر میں ہونے والے واقعات اس بات کی علامت ہیں اگر ان مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتاتو کوئی اس طرح کا کام کرنے سے قبل سو بار سوچتا۔حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ نے سعادت امین نامی ملزم کی ضمانت منظور کی جسے 2018ء میں لاہور کی سائبر کرائمز سے متعلق عدالت نے انہیں سات برس قید اور 12 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ سعادت امین کی گرفتاری ناروے کی پولیس کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی بنا پر عمل میں لائی گئی تھی۔ مجرم کے قبضے سے ایک ہزار گیگا بائٹ کی ہارڈ ڈسک برآمد ہوئی تھی، جس پر ایف آئی اے کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں بچوں کی پورنو گرافک فلمیں اور تصاویر موجود تھیں۔وہ تو بھلا ہو سوشل میڈیا کا جس پر سعادت امین کی ممکنہ ضمانت پر واویلا مچایا گیا تو سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے کر ملزم کی ضمانت کا خواب چکنا چور کیا۔ملک میں کئی گینگ منظم اندازمیں بچوں کو فحش فلمیں دکھا کر اخلاقی طور پر پہلے خراب کرتے ہیں اور پھر ان کواستعمال کر کے انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔ معاشرتی رویوں کی وجہ سے کئی گھرانے اس طرح کے واقعات کو رپورٹ ہی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے مجرموں کو حوصلہ ملتا ہے۔بڑھتی ہوئی اخلاقی گراوٹ، انصاف کے نظام کی کمزوری، معاشر تی رویئے اور تفتیشی عملے کی غفلت ان چند عوامل میں سے ہے،جو اس طرح کے واقعات کا سبب بنتے ہیں۔

ان تمام اسباب کی وجہ سے اس طرح کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔شہروں میں تو قانون تک آسان رسائی کی وجہ سے کسی حد تک ان واقعات کو رپورٹ کیا جاتا ہے، لیکن دیہات میں حالات انتہائی خراب ہیں۔ دیہات میں ایک تو غربت کی وجہ سے لوگ تھانے کچہری کے چکر کاٹنے سے ڈرتے ہیں اور ان متاثرین کے پاس وکیلوں کو دینے کے لئے پیسے بھی نہیں ہوتے، کہ وہ ملزم کو عدالتی نظام کے تحت سزا دلا سکیں۔دوسرا اس طرح کے واقعات اکثر رپورٹ ہی نہیں کئے جاتے کہ کہیں معاشرے میں بدنامی نہ ہو جائے اور اس سے بچے کی نفسیاتی صحت پر بھی برا اثرپڑتا ہے اور وہ بچہ پوری زندگی یا تو محرومی کے سائے میں پلتا ہے یا جب اس قابل ہو جاتا ہے تو اپنا غصہ کسی دوسرے پر نکالنے کی کوشش کرتا ہے جیسا کہ چونیاں والا واقعہ ہو یا زینب قتل کیس کا مجرم عمران ان کے جرم کرنے کی وجہ یہی تھی کہ انہیں بچپن میں ہی ان کے رشتہ داروں یا جاننے والوں نے ہوس کا نشانہ بنایا اور وہ نفسیاتی طور پر اس کے اثر سے باہر نہ آ سکے۔جب یہ مجرم جوان ہوئے تو انہوں نے دیگر بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا نا شروع کر دیا۔ اب یہ ہمارے معاشرے کا بھی اتنا ہی فرض ہے کہ وہ ان جرائم کے تدارک میں اپنا کردار ادا کرے، اپنے بچوں کو بچپن سے اچھے برے کی تمیز سکھائیں انہیں بتائیں کہ کوئی اجنبی بلائے تو اس کے پاس نہیں جانا اور اگر کوئی اپنا ان کے ساتھ اس طرح کی حرکت کرنے کی کوشش کرے تو بچے اگر اس کے بارے میں بتائیں تو بچوں کی بات سنیں تا کہ بچوں کو یہ محسوس نہ ہو کہ وہ کسی غیر سے نہیں بلکہ اپنے ہمدرد سے بات کر رہے ہیں، کیونکہ اکثر کیسز میں دیکھا گیا ہے کہ بچے بدنامی اور مار کے خوف سے بھی گھر والوں سے بات کرنے سے کتراتے ہیں، جس کی وجہ سے مجرم کو شہ ملتی ہے۔حکومتی سطح پر ان جرائم کے تدارک کے لئے اقدامات کرنا انتہائی ضروری ہیں۔حکومت کو چاہئے کہ وہ تفتیش کے جدید ادارے دیہاتوں اور پسماندہ علاقوں میں بنائے، پولیس کے نظام کو ٹھیک کرے اور ان علاقوں میں انصاف کے اداروں کا نیٹ ورک بچھائے تاکہ ظلم کے شکار بچوں کو انصاف بھی ملے اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام بھی ہو سکے۔

مزید :

رائے -کالم -