نجی تعلیمی اداروں کے ایڈمن آفس کھولنے کی اجازت پر مالکان کے تحفظات

  نجی تعلیمی اداروں کے ایڈمن آفس کھولنے کی اجازت پر مالکان کے تحفظات

  

راولپنڈی (این این آئی)نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے حکومت پنجاب کی جانب سے ایڈمن آفس کھولنے کی اجازت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مالکان، پرنسپل اور سکول عملہ نے صوبہ بھر کے نجی تعلیمی ادارے جون کے دوران ہفتہ میں صرف دو دن سوموار اور منگل کو انتظامی دفاتر کھولنے کے نوٹیفکیشن پرحیرت کا اظہار کیا ہے۔ نوٹیفیکیشن صوبے کے سرکاری تعلیمی اداروں سے متعلق جاری کیا تھا جس میں ان تعلیمی اداروں کو اسی قسم کے امور کو رانجام دینے کے لئے ہفتہ کے دوران دو دن سکول کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم وزیر تعلیم پنجاب اور ان کے ماتحت چلنے والے سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے افسران کو سرکاری تعلیمی اداروں اور نجی تعلیمی اداروں کی مشکلات اور ورکنگ میں پائے جانے والے فرق کے بارے میں علم نہیں ہے یا پھر وہ جان بوجھ کر نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کے لئے مشکلات گھڑی کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر مراد راس جنہیں اپنی وزارت کے بارے میں نہ تو کوئی تجربہ ہے اور نہ ہی وہ اپنی وزارت کی اہمیت اور اس کے بارے میں کچھ جانتے ہیں اپنے اس حکم کے تحت ہفتہ میں چھ دن میں سے چار دن نجی تعلیمی اداروں کے ایڈمن آفسز کو بند رکھ کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ سکول پہلے سے ہی بند ہیں۔نجی تعلیمی اداروں کے ایڈمن آفس میں صرف والدین ایس او پیز کو مدنظر رکھ کر بلائے جاتے ہیں اور اس دوران اداروں کے انتظامی مسائل اور بچوں کی تعلیم کے حوالے سے اختیار کئے گئے مختلف جدیدطریقے والدین کے علم میں لائے جاتے ہیں تاکہ مشکل کی اس گھڑی میں بچوں کا تعلیمی حرج نہ ہو اور بچوں کا تعلیم کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا جا سکے۔ڈاکٹر مراد راس نجی تعلیمی اداروں کے معاملات کو اپنی ذاتی عناد کا مسئلہ نہ بنائیں اور نجی تعلیمی اداروں کے خلاف اختیار کئے گئے ناروا رویے کو تبدیل کریں۔

تحفظات

مزید :

علاقائی -