پٹرول، 7.06،مٹی کا تیل 11.88، لائٹ ڈیزل، 9.37فی لٹر سستا،پٹرول پر لیوی میں 6,20روپے فی لٹر اضافہ

پٹرول، 7.06،مٹی کا تیل 11.88، لائٹ ڈیزل، 9.37فی لٹر سستا،پٹرول پر لیوی میں 6,20روپے ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) حکومت نے عوام کو خوشخبری دیتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی۔ اس سلسلے میں وزارت خزانہ کی جانب سے اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے پٹرول سات روپے چھ پیسے سستا کر دیا ہے۔ اب پٹرول کی نئی قیمت 74روپے 52 پیسے فی لٹر ہوگی۔اعلامیہ کے مطابق مٹی کا تیل 11.88 پیسے فی لٹر سستا کرکے اس کی قیمت 35 روپے 56 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہائی سپیڈ ڈیزل پانچ پیسے فی لٹر مہنگا کر دیا گیا ہے۔ قیمتوں میں ردوبدل کے بعد ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 80 روپے 15 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی ہے۔جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 9 روپے 37 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد نئی قیمت 38 روپے 14 پیسے فی لیٹر ہوگی۔ لائٹ ڈیزل آئل پہلے 47 روپے 51 پیسے فی لٹر فروخت ہو رہا تھا۔ نئی قیمتوں پر عملدرآمد کا اطلاق گزشتہ رات بارہ بجے سے شروع ہو گیا۔خیال رہے یکم جون سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11 روپے 88 پیسے فی لیٹر تک کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔ اس سلسلے میں اوگرا نے اپنی سمری پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کی تھی۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پٹرول 7 روپے 6 پیسے لیٹر، لائٹ ڈیزل آئل 9 روپے 37 پیسے جبکہ مٹی کا تیل 11 روپے 88 پیسے سستا کرنے کی سفارش کی تھی۔اس کے علاوہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 پیسے فی لٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی۔ اوگرا نے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قلت کا نوٹس لیتے ہوئے ہائیڈرو کاربن ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ کو ہدایت کی تھی کہ ڈیپوز اور آوٹ لیٹس پر پٹرول اور ڈیزل کی دستیابی کا جائزہ لیا جائے اور معقول ذخیرہ نہ ہونے پر رپورٹ فراہم کی جائے۔دوسری طرف وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونیوالی کمی کا پورا فائدہ عوام کو منتقل نہیں کیا اورپٹرول پر عائد پیٹرولیم لیوی میں 6 روپے 20 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے تناظر میں اوگرا نے پٹرول کی قیمت میں 13 روپے فی لیٹر کے لگ بھگ کمی کی سفارش کی تھی مگر وزارت خزانہ نے 7 روپے 6 پیسے فی لیٹر کمی کی ہے۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں کمی کا پورا فائدہ عوام کو منتقل کرنے کی بجائے پٹرول پر عائد پٹرولیم لیوی میں 6 روپے 20 پیسے اضافہ کردیا جس کے پیٹرولیم لیوی کی شرح 30 روپے فی لیٹر کی زیادہ سے زیادہ حد پر پہنچ چکی ہے۔ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی کی شرح پہلے ہی سے30 روپے فی لیٹر کی زیادہ سے زیادہ سطح پر ہے۔ قانون کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر اس سے زیادہ پیٹرولیم لیوی عائد کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے اس لیے حکومت نے ڈیزل کے بعد پٹرول پر بھی پٹرولیم لیوی کی شرح بڑھا کر 30 روپے فی لیٹر کردی ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے عوام کو پورا فائدہ منتقل نہ کرنے کیلئے جی ایس ٹی کی شرح بڑھانے کی بجائے پٹرولیم لیوی کی شرح بڑھائی ہے کیونکہ پٹرولیم لیوی کی مد میں حاصل ہونے والا ریونیو وفاقی حکومت کو ملتا ہے جبکہ جی ایس ٹی کی مد میں ملنے والا ریونیو قابل تقسیم محاصل پول میں شامل ہے جہاں سے اس کا 57 فی صد حصہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت صوبوں کے پاس چلاجاتا ہے۔ اب پٹرول پر عائد پٹرولیم لیوی کی شرح بڑھانے سے وفاقی حکومت کو ساڑھے 5 سے 6 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔

پٹرولیم لیویز

مزید :

صفحہ اول -