طیارہ حادثہ، فرانسینی ٹیم نے تحقیقات مکمل کر لیں، 74میتیں ورثا ء کے حوالے

      طیارہ حادثہ، فرانسینی ٹیم نے تحقیقات مکمل کر لیں، 74میتیں ورثا ء کے ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)ایئربس کمپنی کے ماہرین نے پی آئی اے طیارہ حادثہ کی تحقیقات مکمل کرلیں اور جائے وقوعہ سے تمام ضروری شواہد بھی اکھٹے کرلیے ہیں۔ذرائع کے مطابق فرانس کی ایئربس کمپنی کی 11 رکنی تحقیقاتی ٹیم نے پی آئی اے طیارہ حادثہ کی تحقیقات مکمل کرلیں تاہم رپورٹ فرانس میں تیار کی جائے گی، جہاز کے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کیبن وائس ریکارڈر کی ڈی کوڈنگ کا عمل 2 جون سے شروع ہو گا، ایف ڈی آر اور سی وی آر کی ڈی کوڈنگ فرانس کے شہر لی بورگٹ کی ایوی ایشن لیب میں کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق ایف ڈی آر اور سی وی آر کی پہلے مرمت کی جائے گی اور پھر ڈی کوڈ کیا جائے گا جبکہ سی وی آر اور ایف ڈی آر ڈی کوڈنگ کیلئے پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کے کچھ ممبران بھی فرانس جائیں گے۔دوسری جانب ایئر بس کمپنی نے ایوی ایشن ڈویژن اور تحقیقاتی ٹیم سے براہ راست رابطہ کرکے تباہ شدہ جہاز کا وائس اور ڈیٹا ریکارڈر فرانس لے جانے کی اجازت مانگ لی ہے جس پر ایوی ایشن نے آمادگی ظاہر کردی ہے۔ ائیرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انوسٹی گیشن ٹیم کا ایک ممبر وائس اینڈ ڈیٹا ریکارڈ ساتھ لے کر جائے گا۔علاوہ ازیں طیارہ حادثے میں جاں بحق 97 افراد میں سے 74 افراد کی میتیں شناخت کے بعد لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ڈی آئی جی ایسٹ نعمان صدیقی کے مطابق کراچی طیارہ حادثہ کیس میں اب تک 74 لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے اور میتیں ورثا کے حوالے کی جا چکی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت ایدھی سردخانے میں 14 جبکہ چھیپا سردخانے میں 9 لاشیں موجود ہیں، 35 لاشوں کو ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد ورثا کے حوالے کیا گیا ہے اور ایک ڈی این اے نمونا مسترد ہوا جس کا دوبارہ نمونا لیا جائے گا۔جبکہ کراچی طیارے حادثے کے تین مزید مسافروں کی میتیں پی آئی اے اور نجی ائیر لائن کی ذریعے لاہور پہنچ گئیں، ورثاء نے ائیر پورٹ پر میتیں وصول کیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر میتوں پر چیف ایگزیکٹو آفیسر پی آئی اے کی جانب سے پھولوں کی چادریں رکھی گئیں۔ مسافر بلال احمد کی میت گجرات اورسعد محمود اور طاہرہ محمود کی میتیں ناروال روانہ کی گئیں۔پی آئی اے افسران نمازجنازہ اور تدفین میں شرکت کے لئے میتوں کے ہمراہ گئے۔دوسری جانب حادثے میں جاں بحق ایک نوجوان مرزا وحید بیگ کے اہلِ خانہ اس بات سے پریشان ہیں کہ نہ تو میت ان کے حوالے کی جا رہی ہے اور نہ ہی کوئی اس بارے میں معلومات دینے کو تیار ہے۔ مرزا وحید بیگ کی بہن عنبر حسیب نے کہا ہے کہ متعلقہ حکام کی جانب سے کبھی ایک دفتر تو کبھی دوسرے دفتر دوڑایا جا رہا ہے، کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، اْلٹا لواحقین سے بدتمیزی کی جا رہی ہے۔دریں اثناء کراچی میں گر کر تباہ پی آئی اے جہاز کی 22 مئی کو لاہور سے ٹیک آف اور فضائی منظر کشی کی ویڈیوز اور تصاویر منظر عام پر آگئیں۔یہ تصاویر اور ویڈیوز اس پرواز میں سوار ایک خاتون مسافر نے شوقیہ طور پر لاہور کے علامہ اقبال ایئر پورٹ پر طیارے کے ٹیکسی کرنے، رن وے پر دوڑنے، ٹیک آف کرنے اور پھر جہاز کے فضاء میں جانے کے دوران مختلف اوقات میں بنائیں۔پہلی ویڈیو میں جہاز کی ونڈو سے علامہ اقبال ایئر پورٹ لاہور کی عمارت واضح نظر آ رہی ہے۔خاتون کی ونڈو سیٹ کی ڈائریکشن کے حساب سے ویڈیوز میں جہاز کا سیدھے ہاتھ کا پر اور اس پر ایئر بس کا نمبر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -