سگریٹ پر 24ارب کے نئے ٹیکس، 18سال سے کم افراد کو فروخت پر پابندی عائد

  سگریٹ پر 24ارب کے نئے ٹیکس، 18سال سے کم افراد کو فروخت پر پابندی عائد

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) حکومت نے 18 سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ کی فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ شہری آئندہ نسلوں کی صحت وبہبود کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔عالمی دن برائے انسداد تمباکو کے موقع پر معاون خصوصی ڈاکٹرظفر مرزا نے پیغام میں کہا کہ پوری دنیا میں انسداد تمباکو کا عالمی دن منایا جارہا ہے آج کاموضوع نوجوانوں کو تمباکو کی صنعت میں جوڑ توڑسے بچاناہے، ہمارا مقصد نوجوانوں کو تمباکو اور نیکوٹین کے استعمال سے روکنا ہے۔ تمباکو نوشی سے دنیامیں ہرسال 8.8 ملین افراد ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ 7 ملین سے زائد اموات براہ راست تمباکو کے استعمال سے ہوتی ہیں اور ایک لاکھ 20 ہزار تمباکو نوشی کے دھویں سے متاثر ہوتے ہیں، 80 فیصدسے زائداموات کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے افراد کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک بہت بڑا چیلنج ہے، پاکستان میں تمباکو نوشی سے سالانہ ایک لاکھ 60 ہزار افراد کی اموات ہوتی ہے اور 6سے15سال کے 1200 پاکستانی بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ وزیراعظم کی قیادت میں حکومت نے تمباکو کنٹرول پربڑی پیش قدمی کی ہے، وزارت صحت نے تمباکو کنٹرول کے لئے قومی پالیسی کا مسودہ تیار کیا ہے، تمباکوٹیکس اصلاحات میں 24ارب کی رقم کی قابل عمل تجویزپیش کی ہے، ٹیکس کی اضافی آمدنی24 ارب روپے جو عوام کی جانیں بچانے کیلئے استعمال ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ سگریٹ کی فروخت 18 سال سے کم افرادپر پابندی عائد کردی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ایجنڈہ 2030 کے تحت وزارت صحت پر پاکستانیوں کی حفاظت کی ذمہ داری ہے۔ اسلام آباد میں تمام پارکس، بڑی عمارتیں، فوڈ آؤٹ لٹس اور پبلک ٹرانسپورٹ سموک فری ہیں۔ حکومت تمباکو نوشی کی ایڈوٹائزنگ، پرموشن اور سپانسرشپ بین کر چکی ہے۔ ہم سموک فری اسلام آباد ماڈل کے عملدرآمد میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

سگریٹ پابندی

مزید :

صفحہ اول -