قبلہ اول، مسجد نبوی ؐ سمیت سعودی عرب میں دیگر مساجد نمازیوں کیلئے کھول دی گئیں

    قبلہ اول، مسجد نبوی ؐ سمیت سعودی عرب میں دیگر مساجد نمازیوں کیلئے کھول دی ...

  

مکہ المکرمہ (آئی این پی) خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی اجازت سے مسجد نبوی عام نمازیوں کیلئے کھول دی گئی ہے۔کورونا وبا کے باعث بند کیے جانے کے تقریباً ڈھائی ماہ بعد مسجد نبوی نمازیوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔ اتوار کی صبح مسجد نبوی سے آنیوالی فجر کی اذان معمول سے ہٹ کردی گئی تھی، اذان سے پہلے ہی نمازی جوق در جوق مسجد پہنچے جہاں طبی عملے نے مسجد میں داخلے سے پہلے نمازیوں کا درجہ حرارت چیک کیا۔حفاظتی انتظامات کے تحت مسجد کی مجموعی گنجائش کے مطابق 40 فی صد نمازیوں کو داخلے کی اجازت ہے۔مسجد نبوی کی انتظامیہ کی جانب سے نمازیوں کو ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے، جائے نماز ساتھ لانے اور وضو گھر سے کرکے آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔مسجد نبوی کے ساتھ اتوار سے سعودی عرب کے دوسرے شہروں کی مساجد میں بھی نماز کی باجماعت ادائیگی شروع ہو گئی ہے لیکن مسجد الحرام کو اب تک عام نمازیوں کیلئے نہیں کھولا گیا ہے جبکہ سعودی عرب کی علما کونسل کی طرف سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کرونا کی وبا سے خود بھی بچیں اور بیماری پھیلانے سے دوسروں کو بچائیں۔عرب ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے سپریم علما کونسل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ معمر افراد، بچے،خواتین اور دائمی امراض کا شکار افراد اپنے گھروں میں نماز پنجگانہ ادا کریں۔ مذکورہ تمام افراد کا مساجد میں جمعہ کی نماز کے لیے آنا ضروری نہیں۔ وہ گھروں میں ظہر کی نماز ادا کرسکتے ہیں۔علما نے وبا کے دنوں میں مخصوص طبقے کے افراد کو با جماعت نماز کی ادائی سے استثنیٰ دینے کیلیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان لا ضرر ولا ضرار کو بہ طور جواز پیش کیا ہے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اورفرمان ہے کہ جب بندہ بیمار ہوتا یا سفرمیں ہوتا ہے اس کے عمل کا حکم صحت مند مقیم کی طرح ہے۔

مسجد نبوی

مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی)مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصی کو اتوار کے روز فجر کے وقت نمازیوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔ کرونا وائرس کے سبب تقریبا ڈھائی ماہ قبل مسجد کو بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم حکام نے مذکورہ وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر بعض احتیاطی اقدامات لاگو کیے ہیں۔مسجد اقصی کے ڈائریکٹر شیخ عمر الکسوانی نے عرب ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مسجد اقصی کا دوبارہ کھولا جانا عید کے دن کی مانند ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینیوں کی جانب سے مسجد اور سلامتی سے متعلق ہدایات کا خیال رکھا جائے گا۔مسلمانوں کے لیے تیسرے مقدس ترین مقام پر نماز کے دوبارہ آغاز سے قبل بیت المقدس کے مسلمانوں نے رواں سال ماہ رمضان اور عید الفطر کا موقع مسجد اقصی جائے بغیر گزارا۔اوقاف اور اسلامی مقامات مقدسہ کے امور کی کونسل کے مطابق 15 مارچ سے بندش کا شکار مسجد اقصی کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کوویڈ-19 وائرس کا پھیلاؤ سست ہونے کی روشنی میں سامنے آیا۔مجلس اوقاف نے ایک بیان میں کہا کہ نمازیوں کے لیے چہرے پر ماسک لگانا اور نماز کے لیے اپنی ذاتی جائے نمازیں لے کر آنا لازم ہو گا۔ تاہم کونسل نے مسجد اقصی کے کمپاؤنڈ میں نمازیوں کی انتہائی تعداد کے تعین کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا۔ اس کمپاؤنڈ کا رقبہ 35 ایکڑ کے قریب ہے۔ اتوار کے روز نماز فجر کی ادائیگی کے لیے تقریبا 700 افراد کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے۔ ان میں زیادہ تر افراد نے ماسک پہنا ہوا تھا اور اپنے ساتھ جائے نمازیں بھی لے کر آئے تھے۔مغربی کنارے میں اب تک کرونا وائرس کے 386 کیسوں اور تین اموات کا اندراج ہوا ہے۔ ادھر اسرائیل میں اس وبائی مرض کے متاثرین کی مجموعی تعداد 17 ہزار ہو چکی ہے جب کہ 284 افراد موت کا شکار ہوئے۔

مسجد اقصیٰ

مزید :

صفحہ اول -